ایچی سن کالج معاشرے میں مسائل پیدا کر رہا ہے، اساتذہ، طلبہ سب مغرور: سپریم کورٹ

ایچی سن کالج معاشرے میں مسائل پیدا کر رہا ہے، اساتذہ، طلبہ سب مغرور: سپریم ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس گلزار احمد،مسٹر جسٹس عمر عطاء بندیال اور مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن پرمشتمل بنچ نے قراردیاہے کہ ایچی سن کالج معاشرے میں مسائل پیدا کر رہا ہے، اس کالج کے بچے اور استاد سب مغرور ہیں، عدالت نے یہ ریمارکس نوعمر لڑکے نوید منیر کے کیس کی سماعت کے دوران دیئے،چیف جسٹس نے عدالت کی طرف سے لڑکے کے مقررکئے گئے سرپرست کمشنر لاہور کو بھی جھاڑ پلا دی اور ان سے کہا کہ ہمارے سامنے افسری نہ کریں، افسری اپنے دفتر میں دکھائیں، آپ کی ذمہ داری کیا ہے؟ اپنے بچوں کی طرح نوید منیر کی پرورش کریں۔نوید منیر کے والد فوت ہوچکے ہیں،اس کی والدہ سوتیلی ہے،والد کی وفات کے بعد اس کے رشتے داروں نے اس کی جائیداد ہڑپ کرنے کی مبینہ کوشش کی،اس معاملے کا سپریم کورٹ نے 2011ء میں نوٹس لیاتھا،بعدازاں کمشنر لاہور کو نوید منیر کا سرپرست مقررکیا گیا،اس کیس میں نوید منیر نے متفرق درخواست دے رکھی ہے جس میں اس کاکہناہے کہ ایچی سن کالج نے اسے نکال دیاہے،گزشتہ روز سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں اس کیس کی سماعت شروع ہوئی تو کمشنر لاہور کی طرف سے بچے کی تعلیم وتربیت اورپرورش کے حوالے سے پیش کی گئی رپورٹ پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کیااور انہیں ہدایت کی کہ بچے کو تعلیم دینے کے لئے بہتر ماحول مہیا کیا جائے، بچہ بیرون ملک جانا چاہتا ہے، اس کو بیرون ملک بھجوانے کا انتظام کریں،اس بابت بچے کا پاسپورٹ اور شناخت کارڈ بنوایا جائے۔ عدالت نے اس کیس میں ایچی سن کالج سے بھی بچے سے متعلق رپورٹ طلب کررکھی تھی،چیف جسٹس رپورٹ دیکھ کر ریمارکس دیئے کہ ایچی سن والوں کا رویہ بہت غلط ہے،پرنسپل ایچی سن نے بچے پر بیہودگی کا الزام لگایا ہے، چیف جسٹس نے ایچی سن کالج کے نمائندہ سے کہا کہ آپ کا الزام بالکل غلط ہے، نوید منیر پر الزام کی کیا حقیقت ہے؟ بچے کی بیہودگی کا کوئی ثبوت ہے؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ اس بچے کی بدقسمتی ہے، کمشنر صاحب اور بہت سے اچھے سکول ہیں، ایچی سن اس ملک کا کوئی بہت بڑا سکول نہیں، ایچی سن معاشرے میں مسائل پیدا کر رہا ہے،یہ کوئی اچھا سکول نہیں ہے، ایچی سن کالج کے بچے اور استاد سب مغرور ہیں، اس بچے کو انسان بنائیں، اس سے پیار کریں، بہتر ماحول مہیا کریں، فاضل بنچ نے کمشنر لاہورسے کہا کہ عدالت نے آپ کو نوید منیر کی کفالت کا ذمہ دار بنایا تھا، آپ اس سے کبھی ملنے ہی نہیں گئے، کمشنر نے کہا کہ ہم نے بچے کے لئے ماہر نفسیات کی خدمات حاصل کی ہیں، چیف جسٹس نے کہایہ بچہ کوئی بیمار ہے جس کا آپ نفسیاتی ماہر سے علاج کروا رہے ہیں، کیا اس نے کبھی کسی پر تشدد کیا؟آپ نے کبھی حقیقت جاننے کی کوشش ہی نہیں کی،ایک مہینے بعد ہمیں رپورٹ دیں، چیف جسٹس نے نوید منیر کو نصیحت کی کہ بیٹاآپ اپنی طرف توجہ دیں۔ بچے نے تعلیم کے لئے بیرون ملک جانے کی خواہش کا اظہار کیاتو چیف جسٹس نے اس سے کہا کہ آپ کو تعلیم کے لئے بیرون ملک بھیج دیں گے، فاضل جج نے کمشنر لاہورکو ہدایت کی کہ بچے سے پوچھ لیں یہ جہاں بھی جانے چاہے اسے بھیجنے کی تیاری کریں، یہ بچہ اپنی زندگی کا ماسٹر خود ہو گا، اس کیس کی مزید سماعت ایک ماہ بعد ہوگی۔

سپریم کورٹ

مزید : صفحہ آخر