حکومت اور اپوزیشن کو مسئلہ کشمیر پر سوتیلا پن ختم کرنا ہوگا‘ لیاقت بلوچ

حکومت اور اپوزیشن کو مسئلہ کشمیر پر سوتیلا پن ختم کرنا ہوگا‘ لیاقت بلوچ

  



ملتان (سٹی رپورٹر)کشمیرمیں 195دن سے کرفیو ولاک ڈاؤن ہے جس سے وہاں کے عوام کی زندگی دو بھر ہوچکی ہے اللہ تعالیٰ سید علی گیلانی کو صحت عطا کرے ان کی قیادت میں کشمیری عوام اپنے حق خود ارادیت کیلئے ڈٹے ہوئے ہیں۔ مسئلہ کشمیر پرحکومت پاکستان کی (بقیہ نمبر29صفحہ12پر)

مجرما نہ غفلت، غیر سنجیدگی کی وجہ سے کشمیری آج تک محصور ہیں۔ حکومت و اپوزیشن کو اس سلسلے میں کشمیر پر سوتیلا پن ختم کرنا ہوگا ان حالات میں صرف کشمیری عوام ہی نہیں بلکہ پاکستانی عوام میں بھی شدید غصہ پایا جاتاہے۔ حکومت پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر واضح و دوٹوک موقف اختیارکرناہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل نے تمام جماعتوں کی جانب سے ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت کو ریاست مدینہ کے حوالے سے سفارشات پر مبنی ورکنگ پروگرام تشکیل دیا اس سلسلے میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئر مین سے بھی ملاقات ہوئی ہے ورکنگ پروگرام میں عمران خان سے کہا گیا ہے کہ موجودہ مسائل کا حل اسلامی نظام حکومت میں ہے۔ ریاست مدینہ کے حوالے سے عمران خان اپنے وعدوں سے انحراف نہ کریں۔ توبہ و رجوع کریں اور اپنی روش بدل کر پاکستان کو اسلامی، نظریاتی اور تہذیبی بنیادوں پر استوار کریں۔ ایک سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ جمہوری تقاضوں کے مطابق موجودہ حکمرانوں کو اقتدار میں رہنے کا حق حاصل نہیں ہے امریکی نظام کے تحت صدر ٹرمپ نے ڈھٹائی کے ساتھ اداروں کو ملیا میٹ کرتے ہوئے اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں اور ٹرمپ ہمارے وزیر اعظم کو عزیز جان قرار دیتے ہیں اس لئے از خود اقتدار چھوڑنے کے حوالے سے ان سے نہ تو توقع ہے اور نہ ہی یہ کسی اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں گے عوام کو از خود نئی نسل کے مستقبل کو محفوظ کرنا ہوگا جس کیلئے جماعت اسلامی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔عام طور پر لوگوں میں یہی تصور پایا جاتا تھا کہ حکومت اور ریاست ایک پیج پر ہیں یہ بھی توقع تھی کی ملک کا نظام ٹھیک ہوگا اور پارلیمنٹ میں استحکام آئے گا مگر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا چہرہ مسخ ہوا ہے ان حالات میں بلدیاتی و عام انتخابات غیر جاندرانہ ہونے کی توقع نہیں ہے۔سیاست میں ریاست کی مینیجمنٹ کی مداخلت بند ہونی چاہئے کیونکہ موجودہ حکمت عملی ملک اور قومی وحدت کو منتشر کررہی ہے۔ سرائیکی صوبے اور سیکرٹریٹ کے قیام کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ انتظامی یونٹس چھوٹے کرنا وقت اور حالات کا تقاضا ہے اگرحکومت اور ریاست ایک پیج پر ہوں تو انتظامی یونٹس چھوٹے کئے جاسکتے ہیں آٹے اور چینی کے بحران کے نام پر عوام لو ٹا گیا یہ یقیناََ ایک مافیا کی سا زش ہے جوحکومتی چھتری کے نیچے بیٹھے ہیں اس حوالے سے حکومت کے تمام دعوے غلط ثابت ہوگئے ہیں۔

لیاقت بلوچ

مزید : ملتان صفحہ آخر