بچے کو والد کے حوالے کرنے کے عدالتی فیصلے پر بہنوں‘ بھائی کی چیخیں

    بچے کو والد کے حوالے کرنے کے عدالتی فیصلے پر بہنوں‘ بھائی کی چیخیں

  



ملتان ( کو رٹ رپورٹر ) بچے کو والد کے حوالے کرنے کے عدالتی فیصلہ پر بچے کی بہنوں اور بھائی نے چیخیں ماریں اور دھاڑیں مارکر روئے جس کی وجہ ضلع کچہری ملتان کی فضاء سوگوار ہوگئی اور بیسیوں افراد کا مجمع اکھٹا ہوگیا۔ تفصیل کے مطابق ملتان کی فوزیہ نے 9 سالہ بچے عبدالحنان کو والد کی تحویل سے بازیاب کراکے درخواست گزار کے حوالے کرنے کے لیے سیشن کورٹ میں حبس بے جا کی درخواست دائر کی تھی، جس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ذولفقار احمد (بقیہ نمبر34صفحہ12پر)

نعیم نے کی۔ خاتون نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ اسکے 9 سالہ بیٹے عبدالحنان کو سابق شوہر عتیق نے غیر قانونی تحویل میں رکھا ہوا ہے جسے پولیس کے ذریعے بازیاب کرایا جائے۔ سماعت کے دوران بچہ اپنے والد عتیق کے ہمراہ خوشی خوشی عدالت آیا۔ جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ بچہ والد کے پاس غیر قانونی نہیں رہ رہا اور دونوں پارٹیاں صلح کرنے میں ناکام رہیں ہیں اس لیے بچہ والد کی تحویل میں رہے گا اور فریقین حوالگی کے لیے گارڈین عدالت سے رجوع کریں۔بچے کی حوالگی کے حکم پر کمسن بچے کے بھائی بہنیں اور ماں نے احاطہ عدالت میں رونا شروع کردیا اور بھائی کو چھپانے کی کوشش کرتے رہے۔بچے کے والد عتیق نے کہا کہ سابقہ بیوی فوزیہ نے صلح کی بجائے طلاق لے لی ہے جس کو صلح کے لیے بہت منت سماجت کی تھی لیکن سابقہ بیوی راضی نہ ہوئی،اب بچے بھی مجھے برا بھلا اور گالیاں دے رہے ہیں جن کے لیے ساری زندگی کمایا،بچوں نے والد کی خوب منت سماجت بھی کی کہ ہمیں لے جاؤ چھوٹے بھائی کو والدہ کے ساتھ جانے دو جس پر والد نے کہا کہ بچہ 13 دن سے ساتھ سیریں کررہا تھا ایک دن والدہ کو دیا تو اچانک پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے۔

چیخیں

مزید : ملتان صفحہ آخر