ملتان، بڑی گاری والوں کو ”سلام“ موٹر سائیکل سواروں کے چالان

  ملتان، بڑی گاری والوں کو ”سلام“ موٹر سائیکل سواروں کے چالان

  



ملتان (نیوز رپورٹر‘ خبر نگار خصوصی) ملتان (نیوز رپورٹر) ٹریفک وارڈنز نے پورے شہر میں پچھلے تین دنوں سے ہیلمٹ کی آڑ میں موٹر سائیکل کی استطاعت رکھنے والے متوسط طبقے کو تختہ مشق بنا رکھا ہے انتظامیہ کی ناقص کارکردگی کے باعث ہوشربا مہنگائی سے نبرد آزماء شہریوں کی رہی سہی کسر ٹریفک وارڈنز نے چالانوں کی بھرمار سے پوری کردی ہے لیکن ملک بھر میں موجودہ معاشی بدحالی اور بیروزگاری سمیت مہنگائی کے طوفان سے لڑتے شہریوں پر چالانوں کی مد(بقیہ نمبر11صفحہ12پر)

میں سینکڑوں روپے کا مزید بوجھ ڈالنے کے عمل کی معززین شہر نے بھی مذمت کی ہے تاجر رہنماوں غضنفر ملک، کلب عابد، جعفر علی شاہ اور سلطان محمود ملک کے مطابق ٹریفک وارڈنز کی شہر بھر میں ہیلمٹ کے نام پر چالانوں کی بھر مار درحقیقت پسے ہوئے متوسط طبقے کے وجود سے باقی ماندہ خون نچوڑنے کے مترادف ہے انہوں نے مزید کہا کہ ٹریفک وارڈنز کا پہلا ٹارگٹ سٹوڈنٹس ہیں اس لیئے صبح اور دوپہر کے وقت ٹریفک وارڈنز نے تمام تدریسی اداروں کو گھیر رکھا ہوتا ہے جبکہ تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ ٹریفک کی بحالی کے لیئے تعینات کیئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ اس وقت شہر میں غیر رجسٹرڈ لوڈرز اور غیر قانونی موٹر سائیکل لوڈرز کی بھر مار ہے جو پورے شہر میں موت کا سامان بنے بلاخوف دندناتے پھر رہے ہیں حکومت پنجاب کی جانب سے محکمہ ایکسائز کو لوڈر کی رجسٹریش سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود ایک لاکھ سے زائد یہ غیر قانونی لوڈرز اور غیر قانونی موٹر سائیکل رکشے کئی انسانی زندگیوں سے کھیلتے دیکھے جارہے ہیں لیکن انتظامیہ خاموش تماشائی بنی فقط چالانوں پر تکیہ کیئے ہوئے ہے آر پی او وسیم احمد خان اور چیف ٹریفک آفیسر میڈم ہماء شہر کی مختلف شاہراوں پر وزٹ کرکے موازنہ کریں کہ موٹر سائیکل سوار کے لیئے ہیلمٹ ضروری ہے کہ ایک ناتجربہ کار کا موٹر سائیکل رکشہ جو ہر بڑی چھوٹی شاہراہ پر انتظامیہ کی ناک کے نیچے قانون کی دھجیاں اڑاتے نظر آتا ہے۔

چالان

مزید : ملتان صفحہ آخر