فری ٹریڈ ایگری منٹس بارے آئی ایم ایف کا مشورہ

فری ٹریڈ ایگری منٹس بارے آئی ایم ایف کا مشورہ
فری ٹریڈ ایگری منٹس بارے آئی ایم ایف کا مشورہ

  



موجودہ حکومت نے عمران خان کی سربراہی میں کئی ایک ایسے سٹرٹیجک فیصلے کئے ہیں، جن کے فوری بہتر نتائج تو سامنے نہیں آئے اور شاید فوری طور پر بہتر نتائج کی توقع بھی نہیں کی جا رہی تھی، جیسے روپے کی قدر میں کمی، درآمدات پر کڑی نگرانی (یعنی زرمبادلہ کے خرچ کرنے میں کفایت شعاری) پیسے کی غیر قانونی ترسیل، یعنی منی لانڈرنگ پر پابندی اور دیگر ایسے کئی اقدامات گنوائے جا سکتے ہیں،جو نتائج کے اعتبار سے ابھی تک مثبت ثابت نہیں ہوئے، لیکن مجموعی طور پر آنے والے دِنوں میں ان کے مثبت اثرات کی امید کی جا سکتی ہے۔ہمارے ایسے فیصلوں کے لئے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF)کو موردِالزام ٹھہرایا جاتا ہے ……اور شائد نہیں،بلکہ فی الحقیقت یہ بات درست ہو گی کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسے سٹرٹیجک فیصلے کئے جا رہے ہیں، جن کے ذریعے معیشت کو پائیدار بنیادوں پر کھڑا ہونے کا موقع ملے گا۔درآمدات، یعنی زرمبادلہ کے اخراجات پر قدغن لگانے کا فائدہ سامنے آیا ہے کہ تجارتی خسارے پر قابو پالیا گیا ہے، درآمدات اور برآمدات کے درمیان پائے جانے والے تفاوت پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا ہے۔ ماضی قریب میں جو خسارہ جان لیوا حدوں کو چھو رہا تھا،وہ اب قابل ِ برداشت سطح پر آ گیا ہے۔

دوسری طرف فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی شرائط پر عمل درآمد کرنے کا نتیجہ سمندر پار پاکستانیوں کی طرف سے بھجوائی جانے والی رقوم میں مسلسل اضافے کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔ جولائی 2019ء تا جنوری 2020ء یعنی گزرے سات مہینوں کے دوران بیرون ممالک سے ترسیل زر کا حجم 13.30 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے،جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے،یعنی جولائی 2018ء تا جنوری 2019ء کے دوران یہ حجم 12.77 ارب ڈالر کے برابر تھا۔ یعنی 7 ماہ کے دوران ترسیل زر میں 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ منی لانڈرنگ کے خلاف پاکستانی حکومت کے دلیرانہ اقدامات کے باعث یورپی اور مغربی ممالک سے بالعموم اورامریکہ و برطانیہ سے بالخصوص ترسیل زر میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔امریکہ سے ترسیل زر میں 11 فیصد،جبکہ برطانیہ سے ترسیل زر میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔یہ ایک انتہائی خوشگوار ٹرینڈ ہے، جبکہ اس سے پہلے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ترسیل زر سب سے بلندسطح پر ہوتی تھیں، لیکن اس بار امریکہ و برطانیہ نمبر لے گئے ہیں اور سات ماہ کے دوران پاکستان بھجوائے جانے والے مجموعی زرمبادلہ کا 32 فیصد ان دو ممالک سے وصول ہوا ہے۔

ایسے وقت میں جب ہمیں زرمبادلہ کی ایک ایک پائی کی شدید ضرورت ہے، ترسیل زر میں اس قدر اضافہ خدائی نعمت نہیں تو اور کیا ہے؟ ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئے۔جہاں تک معاشی بگاڑ اور اقتصادی عدم توازن کا سوال ہے تو اس سے بھی مفر ممکن نہیں ہے۔ بجلی کے اس قدر بلند ٹیرف کے باوجود توانائی سیکٹر کے گردشی قرضوں کا حجم 1700 ارب روپے تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ ظاہر ہے یہ پسندیدہ صورت نہیں۔ سوئی گیس کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ قومی معیشت کے لئے زہر قاتل ثابت ہو رہا ہے۔ 13 فیصد کی بلند شرح سودنے بھی کاروباری طبقے کی چیخیں نکلوادی ہیں۔ مرکزی بینک کی طرف سے جاری کردہ حالیہ معاشی اشاریوں کے مطابق مہنگائی 14.05 فیصد، اشیائے خورونوش مہنگائی 25 فیصد اور قومی پیداوار کی شرح نمو صرف 1.2 فیصد ہے۔ یہ اعشاریئے کسی طور بھی قابل ِ تحسین نہیں ہیں۔ اس میں بھی شک نہیں ہے کہ حکومت عمران خان کی قیادت میں قومی اقتصادیات کو ٹریک پر لانے، بلکہ صراط المستقیم پر چڑھانے کے لئے تگ ودو کر رہی ہے۔ اس حوالے سے اٹھائے گئے کئی غیر روایتی اقدامات ان کے عزم بالجزم کو ظاہر کر تے ہیں۔ آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی معیشت کو کھولے، دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ دے۔

اس مقصد کے لئے مختلف ممالک کے ساتھ فری ٹریڈ ایگری منٹس (FTAs) کا راستہ اختیار کیا جائے، اس سے قومی معیشت میں کھلے پن کو فروغ ملے گا، تجارت بڑھے گی، سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا،عوام کو روزگار کے مواقع میسر ہوں گے اور سرکاری خزانے میں ڈھیروں ٹیکس جمع ہو گا۔ اس طرح قومی معیشت کے ساتھ ساتھ انفرادی شخصی معیشت بھی بہتری کی طرف گامزن ہو سکے گی یا کم از کم ایسا ہونے کی امید پیدا ہو جائے گی۔ آئی ایم ایف نے تجویز کیا ہے کہ پاکستان کو اگلے دس سال کے دوران 6200 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے چاہئیں، 6.2 ٹریلین روپے کی رقم دس سال میں خرچ کرنا چھوٹی بات نہیں ہے، یعنی 620 ارب روپے سالانہ ترقیاتی پروگراموں پر خرچ کرنا انتہائی اہم ہے۔ فنڈ نے یہ نہیں کہا کہ ایسے ویسے منصوبوں پر رقم اڑا دو، بلکہ ِ مستحکم ترقیاتی اہداف (SUSTAINABLE DEVELOPMENT GOALS) کے حصول کے لئے 10 سال کی منصوبہ سازی کرو اور سالانہ 620 ارب روپے خرچ کر کے معاملات میں بہتری لاؤ…… فنڈ نے زور دے کر کہا کہ پاکستانی معیشت کو دنیا کے لئے کھول دینا چاہئے…… سردست پاکستانی معیشت کے دروازے دوسرے ممالک کے لئے بند ہیں۔

اس کی کئی وجوہات ہیں، کیونکہ یہ ہمارا موضوع نہیں ہے، اس لئے اس کی تفصیلات میں جائے بغیر اتنا کہنا کافی ہے کہ سردست غیر ملکی سرمایہ کاری اور تجارت کے لئے،حالات اتنے سازگار نہیں،جتنے ہونے چاہئیں اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ مختلف ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے کئے جائیں۔ ہمارے ملک میں فری ٹریڈ ایگری مینٹس کے حوالے سے اتفاق رائے نہیں پایا جاتا ہے۔ ہم نے چین کے ساتھ ایسا ہی تجارتی معاہد ہ کیا تھا، اس کے نفاذ کے پہلے ہی مرحلے میں ہماری معیشت اور صنعتی بنیادوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، اِس لئے ہمارے سرمایہ کار،صنعت کار آزاد تجارتی معاہدوں کے بہت زیادہ حق میں نہیں ہیں۔ توانائی کے بلند ریٹس، بلند شرح سود اور دیگر عوامل کے باعث ہماری صنعت و تجارت مشکلات کا شکار ہے۔ حکومت کے سٹرٹیجک فیصلوں کے باعث بھی معاملات دِگرگوں ہیں، اس لئے نئے آزاد تجارتی معاہدوں کی تجویز سردست قابل عمل نظر نہیں آتی۔ذرا غور کریں ہماری لوکل مارکیٹ میں چینی اشیا/ مصنوعات کا غلبہ ہے۔ آپ کسی بھی شعبے کا ذکر کریں …… سوئی، دھاگہ،بٹن، قلم، دوات، گاجی، چھری، چاقو، کھلونے روزمرہ استعمال کے آلات و اوزار، سائیکلیں، موٹر سائیکلیں، گاڑیاں، پک اپس، پلاس، چھینی، ہتھوڑی، تاریں، غرض آپ کسی بھی استعمال کی شے کا ذکرکریں،وہ چین سے یہاں ہماری منڈی میں موجود ہے۔

اب تو لہسن، پیاز، آلو، ٹماٹر چاول، دالیں وغیرہ بھی چین سے آرہی ہیں۔ ان اشیاء کی قیمتیں لوکل اشیاء سے کم ہوتی ہیں، اس لئے لوگ انہیں ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں، جس کے باعث ہماری لوکل صنعت بتدریج گھاٹے کی طرف جا رہی ہے، پرنٹنگ میں استعمال ہونے والی اشیاء بشمول کاغذ، سیاہی اور کیمیکلز کی مارکیٹ بھی چینی اشیاء سے بھری نظر آتی ہے۔ وہ دیگر درآمدی اشیاء سے تو کیا، لوکل اشیاء سے بھی سستی ہوتی ہیں، موبائل فون، جوتے، چپلیں،بچوں کے، کھلونے، الیکٹرانک گیجٹس سمیت ہر طرح کی چینی مصنوعات نے لوکل پیدا کنندگان کو شکست دے دی ہے۔تاجر چینی اشیاء بیچنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں، کیونکہ اس میں انہیں منافع بھی خوب ملتا ہے، جب ہماری معیشت ایک ملک کے ساتھ فری تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے ہی ناک آؤٹ نظر آنے لگی ہے تو اسے دیگر ممالک تک پھیلانا شاید سردست ممکن نہ ہو۔

ترکی ہمارا نظریاتی و فکری ہی نہیں، ہر طرح سے حلیف ہے۔ گزشتہ دور میں ترکی کے ساتھ برادرانہ معاملات کو آگے بڑھانے کی منظم اور کامیاب کاوشیں کی گئی ہیں۔ پاکستان اور ترکی سٹرٹیجک اکنامک فریم ورک معاہدے کے تحت باہم تجارت کا حجم بڑھانے کے پابند ہیں۔ ترک صدر طیب اردوان کے ہمارے سابق حکمرانوں کے ساتھ بھی اچھے تعلقات تھے۔ پاکستان کے ساتھ ترکی کے تعلقات میں گزشتہ دِنوں ایک منفی موڑ بھی آیا تھا جب پاکستان وعدہ کر کے ترک، ملائیشیا کانفرنس میں شریک نہیں ہوا۔ اس کے باوجود ترک صدر جمعرات کو دو روزہ دورے پر یہاں پاکستان تشریف لائے اور پاکستان کے ساتھ محبت اور تعاون کا سلسلہ ویسے ہی شروع ہوا،جیسے پہلے تھا۔ ان تمام اچھائیوں کے باوجود پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارتی حجم 900 ملین ڈالر سالانہ ہے۔ ظاہر ہے یہ کوئی قابل ذکر حجم نہیں ہے۔ ترکی کے ساتھ ہم کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ترکی پاکستان کا مداح ہے۔ پاکستان و ترکی صرف اسلامی و ثقافتی حوالوں سے ہی جڑے ہوئے نہیں ہیں،بلکہ دونوں اقوام کے درمیان قیام پاکستان سے قبل کے تعلقات قائم ہیں، محبت و اخوت کے رشتے قائم ہیں۔ ترک خلافت کے لئے ہندی مسلمانوں کی کاوشیں اسلامی تاریخ کا سنہری باب ہیں۔ پوری دنیا میں ترکی ہی وہ واحد ملک ہے، جہاں پاکستانی پاسپورٹ کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ پاکستانیوں کو تمام ترخامیوں اور خرابیوں سمیت پیار و محبت دیا جاتا ہے، ایسے میں ہم ترکی کے ساتھ تجارتی و معاشی معاملات کر کے پاکستان کی معیشت کو سہارا دے سکتے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم سیاحت کے فروغ بارے بڑے پُر امید ہیں۔ ترکی، سیاحت میں قائدانہ مقام پر کھڑا ہے۔ ہم باہم اشتراک کے ذریعے ترکی کی اس صلاحیت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ باقی ممالک کے ساتھ فی الوقت آزادانہ تجاری معاہدوں بارے سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

مزید : رائے /کالم