موجودہ کشمیر پالیسی

موجودہ کشمیر پالیسی
موجودہ کشمیر پالیسی

  



کشمیر کے حوالے سے ہماری پالیسی بھارت کے رویے سے منسلک رہی ہے اور یہ قدرتی امر ہے، کیونکہ فریقین کے درمیان کوئی بھی تنازعہ دونوں کے رویوں کے حوالے سے سلجھاؤ یا مزید الجھاؤ کی طرف بڑھتا ہے۔پاکستان نے شروع دن سے کشمیر کے بارے میں اپنی پالیسی کشمیری عوام کے حق ِ خود ارادیت سے منسلک رکھی اور کشمیری عوام کو اس کا بنیادی فریق قرار دیا،لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ہماری کشمیر پالیسی کے تمام مظہر بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کی شکل میں سامنے آئے۔ کشمیری عوام کے حق ِ خود ارادیت کے معنی تو یہ ہیں کہ ہم اسے دو طرفہ کی بجائے کشمیری عوام کے بنیادی حق ِ آزادی کی بنیاد پر لڑتے،لیکن عالمی سطح پر کسی بھی عالمی تنظیم میں کشمیر کی کسی بھی سیاسی تنظیم کو ہم نمائندگی دینے میں ناکام رہے،حتیٰ کہ اسلامی کانفرنس اور غیر جانبدار تحریک میں کشمیری عوام مبصر کا درجہ بھی حاصل نہ کر سکے۔مجھے یاد ہے کہ 1982ء میں زمبابوے کے دارالحکومت ہرارے میں جب غیر جانبدار تحریک کا سربراہی اجلاس منعقد ہوا تو آزاد کشمیر کے سابق صدر کے ایچ خورشید مرحوم تحریک کے بعض ممبران کی مدد سے مبصر کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور اُن کی تنظیم جموں و کشمیر لبریشن لیگ کو اس اجلاس میں نمائندگی ملی۔ پاکستان کی نمائندگی جنرل ضیاء الحق کر رہے تھے۔انہوں نے جب کے ایچ خورشید کو اجلاس میں دیکھا تو بہت حیران ہوئے اور غالباً ان کا موڈ بھی خراب ہوا۔یہ بات مجھے کے ایچ خورشید مرحوم نے خود بتائی تھی،لیکن اس کے بعد کشمیری عوام کو کسی بھی بین الاقوامی فورم پر نمائندگی نہ ملی۔

پاکستان میں شہید بے نظیر بھٹو نے 1993ء میں پہلی کشمیر پارلیمانی کمیٹی قائم کی تھی۔ اس کے چیئرمین نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم تھے۔اس دور میں بھارت کے وزیراعظم راجیو گاندھی نے پاکستان کا دورہ کیا اور حیرت والی بات یہ تھی کہ راجیو گاندھی کے پورے دورے میں کشمیر پر بات ہی نہیں کی گئی تھی۔ اگرچہ راجیو گاندھی نے تمام مسائل شملہ معاہدے کے مطابق حل کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی اور شملہ معاہدے میں مسئلہ کشمیر شامل تھا اور اس میں طے کیا گیا تھا کہ تمام مسائل دو طرفہ بنیادوں پر طے کئے جائیں گے۔

اس سے یہ بات ظاہر تھی کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو کسی بین الاقوامی فورم پر نہیں اٹھائے گا۔معاہدہ تاشقند میں صدر ایوب خان اور وزیراعظم شاستری کے درمیان بھی ایسا ہی فیصلہ ہو چکا تھا۔ گویا شملہ معاہدہ دراصل معاہدہ تاشقند ہی کا تسلسل تھا۔ اعلانِ لاہور میں بھی یہ طے پایا تھا کہ مسئلہ کشمیر باہمی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے کہا کہ یہ طے پایا ہے کہ کشمیر پر بات چیت جاری رہے گی۔ایک صحافی نے جب اقوام متحدہ کی قراردادوں کے حوالے سے سوال کیا تو وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہمیں ابھی اس ماحول سے نکل کر باہمی اعتماد کی فضا کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔گویا نواز شریف بھی کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی فورم پر بات کرنے سے گریزاں تھے، حتیٰ کہ اپنے تیسرے دور میں جب وہ وزیراعظم تھے اور مولانا فضل الرحمن کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے، اس وقت بھی پاکستان نے مختلف مواقع پر کسی بھی بین الاقوامی فورم پر جانا پسند نہ کیا۔جب کشمیر میں تحریک آزادی زوروں پر تھی اور ہزاروں کشمیری شہید ہو رہے تھے،اس صورتِ حال میں کشمیری عوام کے لئے بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔جب افغانستان میں امریکہ کو ہماری مدد کی ضرورت تھی،اُس وقت بھی کشمیر کے حوالے سے سفارتی امداد کی کوشش نہیں کی گئی۔ مودی حکومت کے حالیہ اقدامات کے نتیجے میں کشمیر میں جو سفاک صورتِ حال پیدا ہوئی،اس کے خلاف موجودہ حکومت نے امریکہ اور عالمی رائے عامہ کو متوجہ کرنے کی ضرور کوشش کی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے ایک سے زائد مرتبہ ثالث بننے کی پیش کش کی۔یہ پیش کش کس قدر بااثر ہے؟…… اسے اگر اہم نہ بھی سمجھا جائے،لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکی انتظامیہ کشمیر کی صورتِ حال پر متوجہ ضرور ہوئی۔ اس کے علاوہ یورپی یونین، کینیڈا، برطانیہ کے اہم سیاسی افراد کے ساتھ ساتھ میڈیا نے بھی کشمیری عوام کے حق میں آواز بلند کی۔یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ وزیراعظم عمران خان کی جنرل اسمبلی میں تقریر کے بعد اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی میں کشمیر پر بھارتی مظالم کے حوالے سے بحث کی گئی۔ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے بھارت کے ساتھ پام آئل کی دو ملین ڈالر کی تجارت کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کے کشمیری موقف کی حمایت کی۔ ترکی کے صدر طیب اردوان نے کشمیری عوام کی کھل کر حمایت کی۔ اس وقت دُنیا کا میڈیا،بلکہ خود بھارت کا میڈیا اور جمہوری قوتیں آہستہ آہستہ مودی کی کشمیر پالیسی اور شہریت بل کے خلاف اکٹھی ہو رہی ہیں۔ دہلی کے حالیہ ریاستی انتخابات میں بی جے پی کی شکست اور کجری وال کی بے مثال کامیابی نے مودی کی شہریت کا بت توڑ دیا ہے،اس حوالے سے بھی مودی کے خلاف، خاص طور پر جنتا پارٹی کی متعصب اقلیت دشمن پالیسی کے خلاف جس قدر پاکستان کی موجودہ حکومت نے عالمی رائے عامہ کو بیدار کرنے کی جدوجہد کی ہے، وہ اپنے اثرات دکھا رہی ہے،اگر اس پالیسی کا تسلسل جاری رہتا ہے تو یہ کشمیری عوام کے لئے ایک آزاد مستقبل کی نوید بن سکتا ہے۔عالمی سطح پر مودی کا چمکتا بھارت غبار آلود ہوتا نظر آ رہا ہے۔ خود بھارتی میڈیا یہ کہہ رہا ہے کہ کبھی بھارت جمہوری اقدار میں دُنیا کی پہلی جمہوریتوں میں گِنا جاتا تھا،اب بھارت ایک فرقہ پرست ہندو ریاست کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

مزید : رائے /کالم