دہلی کے انتخابات میں بی جے پی کی شکست

دہلی کے انتخابات میں بی جے پی کی شکست
دہلی کے انتخابات میں بی جے پی کی شکست

  



اس مرتبہ دہلی کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات پر دنیا بھر کے میڈیا کی نظریں لگی ہو ئی تھیں۔ بھارت کے سیاسی اور انتخابی تنا ظر میں دیکھا جائے تو دہلی کی بھارتی لو ک سبھا میں صرف 7نشستیں ہیں،جبکہ دہلی کی قانون ساز ی اسمبلی کی کل نشستیں 70ہیں۔ یوں بھارت میں یوپی، مہا راشڑا، بہار اور مغربی بنگال جیسی بڑی بڑی ریاستوں کے سامنے دہلی کی انتخابی حیثیت زیادہ نہیں ہے، تاہم بھارت جیسی اتنی بڑی ریاست کا دارالحکومت ہونے کے باعث دہلی کی علامتی اہمیت سے انکا ر نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر ایک ایسے ما حول میں جب بھارت کے کئی بڑے شہروں میں مودی اور بی جے پی کی پالیسیوں، خاص طور پر ”شہریت ترمیمی قانون“ اور ”این آر سی“کے خلاف بڑے بڑے مظاہرے ہو رہے ہوں اور ان مظاہروں میں دہلی کے شاہین باغ میں ہونے والے مظاہروں کو پوری دنیا میں توجہ مل رہی ہوتو ایسے میں دہلی کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کا اہمیت اختیار کر جانا کوئی حیرت کی بات نہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستانی میڈیا میں بھی دہلی کے انتخابات کو کسی قدر توجہ ملی،تاہم پا کستانی میڈیا اور اخبارات میں دہلی کے انتخابات میں بی جے پی کی شکست اور ”عام آدمی پارٹی“ (آپ) کی جیت کو مودی کے فاشسٹ اور مسلم دشمن پالیسی کی شکست سے تعبیر کیا گیا، تاہم یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔گزشتہ سال مئی میں بھارتی لوک سبھا کے انتخابات میں بی جے پی نے دہلی کی تمام نشستوں پر کامیا بی حاصل کی تھی، جبکہ ”آپ“ پا رٹی نا کام رہی تو پھر ایک سال سے بھی کم عرصے میں ایسا کیا ہوا کہ بی جے پی دہلی اسمبلی کی 70نشستوں میں سے صرف 8نشستیں ہی حاصل کر سکی اور آپ پارٹی نے 62 نشستیں حاصل کرکے بھرپور کامیابی حاصل کر لی؟……جہاں تک کانگرس پارٹی کی ناکامی کا تعلق ہے تو دہلی کے انتخابات پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق کانگرس پارٹی نے 2013ء کے دہلی اسمبلی کے انتخابات میں 24فیصد ووٹ حاصل کئے تھے۔ ان 24 فیصد ووٹوں کی واضح اکثریت نے 2015ء اوراب2020ء کے انتخابات میں ”آپ“پارٹی کو ووٹ دیئے۔

پاکستانی میڈیا میں پیش کیا جانے والا یہ موقف اس حد تک درست ہے کہ دہلی کے ووٹروں کی اکثریت نے مودی کی نفرت پر مبنی سیاست کو مسترد کیا، مگر دوسری طرف کیا ”آپ“ پارٹی اور اس کے لیڈر کجری وال کھل کر مودی کے ہندو نواز ایجنڈے کی مخالف کر رہے تھے؟ اس بارے میں مجھے امریکی اخبار ”دی نیویارک ٹائمز“ میں بھارتی صحافی عاصم علی کا آرٹیکل ……Modi Lost in Delhi. It Doesn’t Matter ……بہت اہم لگا۔ اس آرٹیکل میں عاصم علی نے موقف اختیار کیا ہے کہ کجری وال نے ’شہریت ترمیمی قانون“ کی مخالفت تو ضرور کی، مگر اس کے ساتھ اس با ت کا بھی بھر پور خیال رکھا کہ اس قانون کی مخالفت میں ہندو ووٹر ناراض نہ ہوں۔یہی وجہ ہے کہ ”آپ“ پارٹی اور کجری وال نے شاہین باغ میں احتجاج کرنے والے مسلمان مظاہرین اور خواتین کی بھرپور حمایت نہیں کی،بلکہ یہ حمایت رسمی سی رہی۔یہاں اس بات کو بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ جب گز شتہ سال اگست میں مودی کی حکومت نے جموں و کشمیر کے لئے آرٹیکل370کا خاتمہ کیا تھا تو اس وقت ”آپ“ پا رٹی نے مو دی کے اس اقدام کی حمایت کی تھی۔

اب دہلی اسمبلی کے انتخابات کے دوران بھی ”آپ“ پارٹی اور کجری وال نے اس بات کا خاص رکھا کہ جہاں ایک طرف مودی کی مسلم دشمن پا لیسی کی حمایت نہ کی جا ئے تو وہاں دوسری طرف ہندوووٹر کے جذبات کو بھی نقصان نہ پہنچا یا جائے،بلکہ انتخابات میں ساری توجہ پرفارمنس اور کارکردگی پر ہی رکھی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ 2019ء میں لو ک سبھا کے انتخابات میں 56فیصد پاپولر ووٹ حاصل کر نے والی بی جے پی نے اب دہلی اسمبلی کے انتخابات میں 32 فیصد ووٹ حاصل کئے۔ان انتخابات پر نظر رکھنے والے ما ہرین کے مطابق اس مرتبہ بی جے پی کو جو 24 فیصد ووٹ کم ملے، اس کی وجہ یہ رہی کہ ان میں سے اکثریت نے بھی ”آپ“ پارٹی کو ووٹ دیئے، کیونکہ دہلی کے ووٹروں کی اکثر یت نے ایک سال پہلے مرکزی حکومت کے لئے تو مودی کی حمایت کی تھی، مگر وہ دہلی کے مقامی معاملات کے لئے ”آپ“ اور کجری وال کی کا رکردگی سے خوش تھے اور ان ووٹروں کو بی جے پی کا یہ پراپیگنڈہ بھی متا ثر نہیں کر سکا کہ ”آپ“ پا رٹی بی جے پی کی طرح محب وطن نہیں ہے۔

کجری وال اور”آپ“ پا رٹی کے دوسرے رہنماؤ ں نے نہایت دانش مندی سے مو دی کی نفر ت انگیز سیاست کے جال میں آنے سے اپنے آپ کو بچا یا اور اپنی ساری توجہ کا رکر دگی پر ہی رکھی۔ کجری وال کو اس پالیسی کا بھرپور فا ئدہ ہوا۔ایک طرف اسے ہندوووٹ بینک کے دھڑے کی حمایت ملی تو دوسری طرف دہلی کے مسلم ووٹ بینک(جس کا دہلی میں 20فیصد سے زیا دہ حصہ ہے) کی اکثریت نے بھی اس بنا پر ”آپ“ پارٹی کو ووٹ دیئے کہ یہ جما عت واضح اور اعلانیہ طور پر مسلم دشمنی نہیں کرتی۔کجری وال کی اس جیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ بھارتی سیاست میں ابھی صرف ہندو مسلم یا ذ ات پات کی بنیاد پر ہی ووٹ نہیں پڑتے،بلکہ غریب طبقات کے لئے پروگراموں اور کارکردگی کی بنا پر بھی ووٹ حاصل ہو جاتے ہیں۔”آپ“ پا رٹی نے اپنے اقتدار کے دوران ثابت کیا کہ وہ دہلی کے غریب شہر یوں کے لئے کسی بھی طرح کی مذہبی تفریق کے بغیر فلا حی منصوبے بنا سکتی ہے۔”آپ“ پا رٹی کو دہلی کے علاقوں میں ”محلہ کلینک“…… ”محلہ سکول“پا نی کی فرا ہمی، غر یبوں کے لئے گھروں کی تعمیر، مفت قانونی مشاورت اور سستی بجلی کی فراہمی سے بھر پور سیاسی فا ئد ہ ہوا۔سب سے بڑھ کر ”آپ“ پارٹی اور کجر ی وال دہلی کے ووٹروں کی اکثر یت کو یہ بات باور کروانے میں کامیا ب رہے کہ ان کی حکومت ما ضی کی حکومتوں کی طرح کرپٹ نہیں ہے۔”آپ“ پارٹی 2012ء میں کرپشن کے خلاف تحریک کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی اور کجری وال نے دہلی کا وزیر اعلیٰ رہنے کے با وجود یہ ثابت کیا کہ یہ جماعت بھارتی سیاست کے گندے تالاب میں رہنے کے با وجود ابھی داغدار نہیں ہو ئی۔

بھارت میں کئی فرقہ پرست جماعتیں یا تنظیمیں حتیٰ کہ ”آر ایس ایس“ کی بھی کوشش ہو تی ہے کہ ہندی بیلٹ کی ریاستوں میں ووٹوں کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ فلاحی کام کئے جا ئیں۔ جیسے سکول، کالج، ہسپتا ل وغیرہ مگر،”آر ایس ایس“ کے ایسے فلاحی کا موں میں ہندو نواز اور مسلم دشمنی کا جذبہ ہی حا وی ہوتا ہے۔ دوسرا ”آر ایس ایس“ کے ایسے کاموں کا سیاسی فا ئدہ ”بی جے پی“ کو ہو تا ہے جو بھارت کے بڑے سرما یہ داروں اور کا رپو ریٹ سیکٹر کے مفادات کے حصول کے لئے کام کر تی ہے، جبکہ کجری وال اور”آپ“ کی لیڈر شپ عام آدمی کی بھلائی کے لئے جو منصوبے بناتی ہے، اس سے ہر مذہب کے پیروکار فا ئدہ اٹھاسکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ایسے منصوبوں کامقصد عام آدمی کی بھلائی ہی ہو تا ہے نہ کہ سرمایہ داروں کا فا ئدہ۔

یہی وجہ ہے کہ دہلی کی انتخابی مہم کے دوران کجری وال کھل کر عوام کو بی جے پی اور کارپوریٹ سیکٹر کے گٹھ جوڑ کے بارے میں بتا تے رہے اور ثابت کرتے رہے کہ بجلی، پانی، گیس، ٹرانسپورٹ اور خوراک کی اشیا ء مہنگی ہونے سے ایسے سرمایہ داروں کو فا ئدہ ہو تا ہے، جو انتخابات میں بی جے پی پر پیسے لگا تے ہیں۔جیسا کہ کالم میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ ”آپ“ پارٹی نے اب تک بھارتی سیاست میں رہتے ہو ئے اپنا دامن مکمل طور پر نہ سہی، کا فی حد تک کرپشن سے بچا یا ہوا ہے، مگر دوسری طرف دنیا کی ہر سرمایہ دار جمہوریت کی طرح بھارتی سیاست میں بھی کرپشن، سرمایہ داری اور کارپوریٹ سیکٹر کے اثرات بہت زیادہ گہرے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی آزادی کے بعد بہت سی سیاسی جما عتیں اور سیاستدان کرپشن کے خلاف منظر عام پر آئے اور اقتدار کا مزہ اٹھا کر خود بھی کرپٹ بن گئے۔اب دیکھنا ہو گا کہ اس نظام کے اندر رہتے ہوئے بھارت میں ”آپ“ پارٹی کب تک اپنے آپ کو کرپشن یا سرمایہ کا روں کے مفادات سے بچا کر رکھ پا تی ہے؟

مزید : رائے /کالم