قرضہ اتارو، ریکوڈک سے سونا نکالو، مگر کیسے؟

قرضہ اتارو، ریکوڈک سے سونا نکالو، مگر کیسے؟
قرضہ اتارو، ریکوڈک سے سونا نکالو، مگر کیسے؟

  



ملاقات کے لئے تو کسی تقریب کی ضرورت ہوتی ہے اور بحث کے لئے کسی نہ کسی موضوع کی، تو قارئین! یہاں اس کی کوئی کمی نہیں،ابھی ایک بات چل رہی ہوتی ہے کہ کوئی دوسرا مسئلہ چھیڑ دیا جاتا ہے،ابھی مہنگائی اور پارلیمان میں محترم اراکین کے طرزِ عمل پر بات ہو رہی تھی کہ ہمارے کپتان نے ایک آؤٹ سوئنگر دے مارا اور نوجوانوں کو تسلی دیتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ وہ (کپتان) ریکوڈک کی کان سے سونا نکال کر ملک کا سارا قرض اتار دیں گے،ان کی یہ خوشخبری ہمارے بھی دِل کو لگی ہے کہ ہم خود بھی قائل ہیں کہ نہ صرف ریکوڈک، بلکہ سیندک اور سوئی گیس کے ذرائع سے ایسا ممکن ہے، لیکن؟……

اِس سے پہلے کہ بات آگے بڑھائی جائے ہم آپ کو ماضی ئ قریب میں لئے چلتے ہیں،جس سے واضح ہو گا کہ ارادہ اور نیت ایک بات ہے اور اس پر عمل بالکل مختلف امر ہے، کہ راہ میں دیدہ و نادیدہ رکاوٹیں بہت ہوتی ہیں۔ یہ1988ء کی بات ہے، جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے حلف اُٹھا کر حکومت تشکیل دی، کابینہ میں ہمارے بھائی ڈاکٹر جہانگیر بدر (مرحوم) کو بیک وقت تین وزارتیں ملیں، ان میں ہاؤسنگ اور پٹرولیم بھی تھی اور سائنس و ٹیکنالوجی ساتھ دی گئی، ہم کچھ دِنوں کے بعد اپنے دفتر(روزنامہ امروز مرحوم) سے فرائض منصبی کے حوالے سے اسلام آباد گئے اور قیام اسلام آباد ہوٹل میں ہوا،خیال تھا کہ فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ بدر کو بھی مبارک باد دے آئیں،رات قیام کے بعد صبح ناشتہ کے لئے ڈائننگ ہال میں آئے تو وہاں ہماری ملاقات کراچی کے وکیل دوست حبیب صاحب سے ہو گئی، وہ نفیس صدیقی اور نسیم (مرحوم) کے حلقہ احباب میں سے بھی ہیں اور ہماری کراچی بار ہی میں صاحب سلامت ہوئی، بڑے تپاک سے ملے، ہم نے جب اسلام آباد آنے کے مقصد کا تبادلہ کیا تو پتہ چلا کہ محترم حبیب صاحب آج کل بعض ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاکستان میں ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں اور ان کی آمد کا مقصد بھی بعض کاموں سے ہے۔

جب ہم نے بتایا کہ صحافتی امور کے ساتھ جہانگیر بدر سے ملنا بھی مقصود ہے تو وہ ایک کہانی سنانے لگے، ان کے مطابق ان کے پاس اس وقت اٹلی اور نیدر لینڈ کی کمپنیوں کی طرف سے بہت اچھی پیشکش ہے،لیکن بیورو کریسی بات نہیں بننے دیتی،انہوں نے بتایا کہ اٹلی کی ایک کمپنی کے انجینئر یہاں موجود ہیں،ان کے پاس کم قیمت، سستے مکانات کی تعمیر کی پیشکش ہے۔ان انجینئر صاحب کے مطابق اٹلی حکومت کی ایک گرانٹ سفارت خانے میں ہے،جو وہ لے کر 500 تکمکانات بنا سکتے ہیں، اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ یہاں مکانات تعمیر تو کریں گے، ساتھ ہی ٹیکنالوجی بھی منتقل کر دیں گے، مثال کے طور پر بتایا کہ وہ (انجینئر) ایچی سن کالج کے لئے ایسے مکان تعمیر کر کے دے چکے ہیں،حبیب صاحب کے مطابق ان کے پاس نیدر لینڈ کی کمپنی کی طرف سے دو پیشکشیں ہیں، ایک یہ کہ وہ پاکستان میں ایسے پٹرول پمپ لگا سکتے ہیں،جو قدرتی گیس سے مایا پٹرولیم بنا دیں اور یہ سب خود کار ہو گا، کمپنی کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ حکومت مقررہ تعداد میں پٹرول پمپ لگانے کی اجازت دے اور ایک مدت کا بھی تعین کر دیں،اس مدت کے بعد یہ سب معہ ٹیکنالوجی حکومت ِ پاکستان کو منتقل کر دیں گے،اسی طرح ایک تیسری پیشکش تھی کہ سوئی گیس یا جس اور مقام سے گیس نکلے،وہاں گیس کپ پیوری فیکشن کے لئے پلانٹ لگائے جا سکتے ہیں۔

یوں گندھک کا جو مادہ گیس میں شامل ہو کر جاتا ہے وہ یہیں رہ جائے گا اور پائپ لائنوں میں بالکل صاف گیس جائے گی اور جو گندھک نکلے،اس میں سے پہلے پاکستان اپنی ضرورت کے مطابق رکھ لے اور فاضل کمپنی کو دے، وہ اسے کسی دوسرے ملک کو فروخت کر دے گی، یہ بہت حیرت انگیز پیشکش تھیں، مَیں بڑا جذباتی ہوا، جہانگیر بدر سے ملاقات ہوئی تو ان کو یہ سب بتایا وہ بھی بہت خوش ہوئے اور اگلے روز ان کی رہائش گاہ پر حبیب کی ملاقات بھی کرا دی۔حبیب صاحب نے واضح کیا کہ ان کاموں میں کوئی کمیشن نہیں،جبکہ ان سے پیشگی کمیشن طلب کی جا رہی ہے۔ وزیر موصوف نے یقین دلایا کہ ایسا نہیں ہو گا اور انہوں نے میرے سامنے متعلقہ سیکرٹری اور افسروں کو فون کر کے حبیب صاحب کا تعارف کرایا اور کہا کہ یہ جو بتاتے ہیں، اس کا مکمل جائزہ لے کر یہ کام فوراً کئے جائیں، کہ قومی خدمت ہو گی۔ اگلے روز کے وقت مل گئے، میں نے تو واپس لاہور آنا تھا، سو پھر کوئی ملاقات نہ ہوئی، بعد ازاں فون پر برادرم حبیب ایڈووکیٹ سے رابطہ ہوا تو انہوں نے بتایا کوئی فائدہ نہیں ہوا،ہر طرف سے ڈھکے چھپے یا کھلے انداز میں رقوم ہی مانگی گئیں، یہ ممکن نہیں تھا کہ ایک حد بھی متعین تھی اور وہ (حبیب) اپنی کمیشن ہی میں سے کچھ دے سکتے تھے وہ بہت کم اور مطالبات زیادہ تھے، چنانچہ1988ء کو بیتے آج32سال ہو گئے،ہمارے ملک میں سب کام جوں کا توں ہے۔ اٹلی والی گرانٹ واپس چلی گئی اور نیدر لینڈ کی کمپنی خاموش ہو گئی۔

یہ واقعات ہیں،جو خود ہمارے سامنے پیش آئے اور ڈاکٹر جہانگیر بدر جیسا مقبول وزیر بھی بیورو کریسی کے سامنے کچھ نہ کر سکا تو مہربانو! آپ خود فیصلہ کر لو کہ یہاں کون کیا کر سکتا ہے، جہاں تک ریکوڈک کا تعلق ہے تو یہ بڑا ہی جذباتی معاملہ ہے اور صرف یہی نہیں سیندک بھی تو ہے، جہاں تانبے کی بھاری تر مقدار موجود ہے۔سیندک میں آج کل چینی کمپنی کام کر رہی ہے اور چینی ماہرین کی حفاظت ایک مسئلہ ہے، اسی طرح ریکوڈک تو اور بھی الجھا ہوا معاملہ ہے،اس کے لئے ٹھیکہ ایک کمپنی ”ٹیتھیان“ کو دیا گیا، اس دوران وفاق اور صوبے کے درمیان اختلاف ہوئے، یوں بھی سیکیورٹی کا معاملہ الگ تھا،یہ ٹھیکہ منسوخ کیا گیا، تو کمپنی نے قانونی کارروائی کی اور معاملہ عالمی بنک کی مصالحتی عدالت کے پاس چلا گیا، جس نے سماعت کے بعد جو فیصلہ دیا اس کے مطابق حکومتِ پاکستان کو جو جرمانہ کیا گیا وہ چھ ارب ڈالر سے زیادہ ہ اور یہ آئی ایم ایف کا پورا پیکیج دے کر بھی پورا نہیں ہوتا، اب حکومت دو پہلوؤں پر کام کر رہی ہے،ایک یہ کہ کمپنی سے باہر باہر سودا کاری کر لی جائے، یا پھر نظرثانی کی جائے۔ اطلاع یہ ہے کہ نظرثانی اپیل دائر کی جا چکی اور پس پردہ سودا کاری کی بھی بات کی جا رہی ہے کہ سمجھوتہ ہو جائے۔

تو محترم! وزیراعظم یہ حالات ہیں جو اکثر پاکستانیوں کے علم میں ہیں آپ کا جذبہ صادق لیکن یہ تو بتا دیں کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان قدرتی وسائل کے حوالے سے مذاکرات اور ایک مکمل سمجھوتہ کب ہو گا؟ ریکوڈک کا تنازعہ ختم کر کے کام کب شروع ہو گا،اور کب تک سونا نکل کر قرضہ اتارنے کی صورت پیدا ہو گی یہ تو ایسا ہی اعلان لگتا ہے، جس کے تحت ایک کروڑ نوکریاں دی جانا تھیں، وہ نہ دی گئیں البتہ 22 لاکھ کارکن ضرور بے روزگار ہو گئے،مَیں نے اپنے انہی کالموں میں اس حوالے سے پہلے بھی عرض کی تھی اور اب پھر دہراتا ہوں کہ ہمارے ملک(خصوصاً بلوچستان+ سندھ) میں قدرتی وسائل بہت ہیں، پٹرولیم اور گیس بھی زیادہ ہے،لیکن اس کو وہ غیر ملکی کمپنیاں تلاش کر کے نہیں دیں گی، جن کا مفاد تیل اور گیس سے وابستہ ہے، اِس لئے بہتر عمل یہ ہے کہ اپنے ملکی درد مند قسم کے ماہرین پر بھروسہ کیا جائے اور اس سلسلے میں پاکستان انجینئرنگ کونسل سے مدد لی جا سکتی ہے، خواہ مخواہ جذباتی وار نہ کریں کہ پہلے ہی جذبات کچل دیئے گئے ہیں۔

مزید : رائے /کالم