سرکاری ملازمتیں مہاجرو ں پر شجر ممنوعہ بنادی گئی ہیں: ڈاکٹر سلیم حیدر

سرکاری ملازمتیں مہاجرو ں پر شجر ممنوعہ بنادی گئی ہیں: ڈاکٹر سلیم حیدر

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر نے صوبائی حکومت کی جانب سے سرکاری اداروں میں دی جانے والی ملازمتوں میں مہاجروں کو مکمل طورپر نظرانداز کرنے کو پیپلزپارٹی کی مہاجر دشمنی قرار دیتے ہوئے کہاکہ وفاقی حکومت فوری طورپر 18ویں ترمیم کا خاتمہ کرکے مرکز کو مضبوط بنائے اور صوبائی خودمختاری کے نام پر صوبوں کو دیئے جانیو الے لوٹ مار کا لائسنس منسوخ کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت وفاق سے سندھ کے نام پر وسائل حاصل کرتی ہے لیکن سندھ میں صرف سندھیوں کو وہ وسائل تقسیم کئے جاتے ہیں جبکہ سندھ میں مہاجر اکثریتی آبادی ہے جسے پیپلزپارٹی کے ہر دو ر میں نظرانداز کرکے انہیں دیوار سے لگایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے سب سے پہلے دیہی شہری تفریق کوٹہ سسٹم کا غیرقانونی نفاذ کرکے مہاجروں کو تباہ وبرباد کرنا شروع کیا اور یہ سلسلہ غیرقانونی طورپر آج بھی جاری ہے لیکن افسوس کہ برسہا برس سے ایم کیوایم حکومتوں اور پارلیمنٹ کا حصہ رہی ہے لیکن وہ اس مہاجر دشمن عمل پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور اب تو حالت یہ ہے کہ سرکاری اداروں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ مہاجر نوجوانوں کو نوکریاں دینے کا عمل شجر ممنوعہ بنادیا گیا ہے۔ اسی طرح اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھی مہاجروں کو داخلے نہیں دیئے جارہے ہیں۔ خود کراچی اور حیدرآباد میں مہاجر اجنبی بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری کے نام پر جس قدر لوٹ مار کی گئی ہے اور اختیارات سے تجاوز کیا گیا ہے اب اس کے بعد کوئی جواز نہیں بچتا کہ یہ صوبائی خودمختاری جو صوبوں کی خود اختیاری تک جاپہنچی ہے اسے ختم قائم رکھا جائے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر