سینیٹ، فضل الرحمن پر آرٹیکل 6سے متعلق بیان، حکومت، اپوزیشن آمنے سامنے

سینیٹ، فضل الرحمن پر آرٹیکل 6سے متعلق بیان، حکومت، اپوزیشن آمنے سامنے

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) مولانا فضل الرحمان پر آرٹیکل چھ لگانے سے متعلق وزیر اعظم اور فواد چوہدری کے بیانات پر سینیٹ میں حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے آگئے، سینیٹر عبدالغفور حیدری کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر احتجاج کیا، جبکہ چیئرمین سینیٹ نے عبدالغفور حیدری کے بعض الفاظ ایوان کی کاروائی سے حذف کرا دیئے، اپوزیشن ارکان نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا آئین کے آرٹیکل باسٹھ کی ذیلی شق میں لکھا ہے الیکشن وہ شخص لڑ سکتا ہے جو صوم وصلوٰۃ کا پابند ہو اور گناہ کبیرہ کا مرتکب نہ ہو، کم از کم وزیر اعظم اس بات کا اہل نہیں کہ وہ الیکشن لڑ سکے، وزیر اعظم آئین کے معیار پر پورا نہیں اترتا اور ان کی شرمناک داستانیں ہیں، آئین کے تحت وہ وزیر اعظم نہیں بن سکتا، اپنے آپ کو چھوڑ کر ہمیں وہ آرٹیکل دکھاتے ہیں،جنہوں نے سول نافرمانی کی تحریکیں چلانے کی باتیں کی یہ ملک سے غداری ہوتی ہے، جنہوں نے اوور سیز پاکستانیوں کو کہا کہ حوالے سے پیسے بھیجیں بینکوں کے ذریعے سے نہ بھجیں یہ غداری ہے، جنہوں نے بجلی گیس کے بل پھاڑے یہ غداری ہے، ہم نے تو آپ کیخلاف کوئی غداری کا مقدمہ درج نہیں کرایا،جو آئین کی پامالی کر رہے ہیں ان کو کوئی کچھ نہیں کہہ رہا،، ماضی میں بھی اس قسم کے حکمرانوں نے بغاوت کے مقدمے قائم کئے،مشرف نے ہم پربغاوت کے مقدمے بنائے آج وہ کہاں ہے،مولانا فضل الرحمان کو گرفتار کر کے دیکھیں تو سہی، مولانا فضل الرحمان اپوزیشن پارٹیوں کے سربراہ ہیں، اس پر وزیراعظم آرٹیکل چھ کی بات کررہے ہیں، ان خیالات کا اظہار جمعہ کو سینیٹ میں سینیٹر عبدالغفور حیدری، مشاہد اللہ خان اور عثمان خان کاکڑ نے کیا۔سینیٹر عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا ویسے بھی وہ جعلی الیکشن کے ذر یعے اقتدار میں آ ئے ہیں، یہ سارا سسٹم جعلی ہے، ہاؤس کو یقین دلایاہوں اگر وزیر اعظم آرٹیکل باسٹھ پر پورا اترتا ہے تو میں استعفیٰ دے دیتا ہوں، وزیراعظم کہہ رہے ہیں تو فضل الرحمان کو گرفتا ہونا چاہیے، آخر رکاوٹ کون ہے؟ ایک مرتبہ گرفتار کرنے کا تجربہ کرکے تو دیکھیں۔جس پر حکومتی ارکان نے اپنی نشستو ں پر کھڑے ہوکر احتجاج کیا، جبکہ قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا آپ اس بات کو ہوا دے رہے ہیں کہ یہاں پر غیر جمہوری طریقہ سے بھی حکومتیں بدلتیں ہیں کن بنیادوں پر انہوں نے یہ بات کی اور جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، وضاحت توضرور بنتی ہے۔ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر راجہ ظفرالحق نے کہا ناقابل برداشت مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے حکومت نے گندم اور چینی کمی کے حوالے سے انکوا ئری کرائی تھی وہ رپورٹ ایف آئی اے نے حکومت کو دیدی ہے، اسے ایوان میں پیش کیا جائے۔اس موقع پر چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی نے حکومت سے گندم اور چینی کے بحر ان سے متعلق ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا حکومت تنقید برداشت نہیں کر سکتی حکومتوں کا کام برداشت کرنا ہوتا ہے۔دریں اثنا سینٹ نے لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی بل 2020ء،جغرافیائی علامات (رجسٹریشن اور تحفظ) بل 2019ء سمیت چھ بلوں کی منظوری دیدی جبکہ انسانی اعضاء اور ٹشوز کی پیوند کاری (ترمیمی) بل 2018ء پر سمیت متعدد قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس پیش کر دی گئیں۔ جمعہ کو اجلاس کے دور ان سینٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے جغرافیائی علامات کی رجسٹر یشن اور تحفظ کا بل جغرافیائی علامات (رجسٹریشن اور تحفظ) بل 2019ء پیش کیا جسے ایوان نے منظور کرلیا۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور اعظم سواتی نے لیگل ایڈ اور جسٹس اتھارٹی کے قیام کا بل لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی بل 2020ء پیش کیا جسے ایوان نے منظور کرلیا۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے مجموعہ ضابطہ دیوانی 1908ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل مجموعہ ضابطہ دیوانی (ترمیمی) بل 2019ء ایوان میں پیش کیا جسے منظور کرلیا گیا۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے صدارتی حکم نمبر 15 بابت 1980ء کی تنسیخ کا بل اعلیٰ عدالتوں (عدالتی لباس اور خطاب کا طریقہ کار) حکم (تنسیخی) بل 2020ء ایوان میں پیش کیا جسے منظور کرلیا گیا۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے جائیداد میں خواتین کی ملکیت کے حقوق کو تحفظ دینے اور محفوظ کرنے کا بل خواتین جائیداد حقوق کے نفاذ بل 2020ء ایوان میں پیش کیا جسے منظور کرلیا گیا۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے بنکوں کو قومیانے ایکٹ 1974ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل بنکوں کو قومیانے (ترمیمی) بل 2020ء ایوان میں پیش کیا جسے ایوان نے منظور کرلیا۔قبل ازیں سینٹ نے وقفہ سوالات کی کارروائی سے متعلق صرف نظر کی تحریک منظور کرلی۔ اس سلسلے میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے قواعد و ضابطہ کار و انصرام کارروائی سینٹ 2012ء کے قاعدہ 263 کے تحت مذکورہ قواعد کے قاعدہ 41کے متقضیات سے جو 14 فروری کو وقفہ سوالات سے متعلق ہیں‘ صرف نظر کی تحریک پیش کی جسے ایوان نے منظور کرلیا۔

سینیٹ اجلاس

مزید : صفحہ اول