"تحریک انصاف کے بلین ٹری پروگرام کے اہداف کسی حد تک حاصل کر لیے گئے ہیں تاہم . . . " ایسا انکشاف کہ آپ کی بھی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

"تحریک انصاف کے بلین ٹری پروگرام کے اہداف کسی حد تک حاصل کر لیے گئے ہیں تاہم . . ...

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جنگلات اگانے کیلئے خیبر پختونخوا حکومت کے بلین ٹری پروگرام کے اہداف کسی حد تک حاصل کر لیے گئے ہیں تاہم، پروجیکٹ دستاویز میں جس ”گرین ریولیوشن“ کا وعدہ کیا گیا تھا وہ خام خیالی ثابت ہوا۔روزنامہ جنگ میں انصار عباسی نے لکھا کہ گورنر خیبر پختونخوا کو پیش کی گئی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں آڈیٹر جنرل نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ پروجیکٹ کی منصوبہ بندی میں نقائص تھے، اس کے اخراجات اور تکمیل کا وقت تبدیل ہوتا رہا، محکمہ جاتی نرسریوں سے اضافہ ریٹ ملنے کی وجہ سے قومی خزانے کو بھاری نقصانات ہوئے۔

منصوبے پر عملدرآمد کے معاملے میں پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) نے غیر موثر کردار ادا کیا، رینج لینڈ (مویشیوں کیلئے زمین) اور چراگاہوں کا انتظام و انصرام کسی جواز کے بغیر ہی چھوڑ دیا گیا۔پی سی ون میں وضع کردہ تعداد سے زیادہ سفیدا (یوکلپٹس) اگایا گیا جس سے ماحولیات پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے، مختلف فاریسٹ ڈویڑنوں کیلئے مختص کردہ فنڈز پی سی ون میں بتائی گئی رقم سے مختلف رہے، پروجیکٹ فنانسنگ کے معاملات نے پروجیکٹ پر عملدرآمد اور اس کی ٹائم لائن سمیت کئی مختلف امور پر منفی اثرات مرتب کیے۔ ”پروجیکٹ کے اہداف کسی حد تک حاصل کر لیے گئے۔

آڈٹ ٹیم نے اس بات کی نشاندہی کی کہ سات فاریسٹ ڈویڑنوں میں کلوڑر کی ناکامی انتہائی زیادہ تعداد (35.14 فیصد) میں تھی۔ جنگلات اگانے کیلئے مختص کیا گیا علاقہ 30? ہزار ہیکٹرز مقرر کیا گیا تھا لیکن اس میں سے صرف 19 ہزار 986.5 ہیکٹرز پر ہی کام ہو سکا۔پہلے مرحلے کیلئے سیم زدہ اور خراب زمین کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کیلئے مقرر کردہ ہدف 450 ہیکٹرز تھا، جبکہ دوسرے مرحلے کیلئے یہ ہدف 1920 ہیکٹرز تھا۔پروجیکٹ ڈائریکٹوریٹ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے اور دوسرے مرحلے کیلئے بالترتیب صرف 290 اور 1343 ہیکٹرز کا ہدف ہی حاصل ہو سکا۔“

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پروجیکٹ کے معاشی پہلو پر کلوڑر کے قیام او ران کی مینٹی ننس سے جڑے مسائل کی وجہ سے منفی اثرات مرتب ہوئے۔ مختلف فاریسٹ ڈویڑنوں میں کلوڑر کی ناکامی بڑی تعداد میں دیکھی گئی کیونکہ فیلڈ دفاتر کی رہنمائی نہیں کی گئی تھی اور ساتھ ہی انتظامی سطح پر بھی بد انتظامی دیکھی گئی۔

نجی افراد کو غیر شفاف انداز سے نرسریوں کی الاٹمنٹ، محکمہ جاتی نرسریوں میں تخمی پودوں (سیڈلنگ) کے اضافی نرخ، جنگلات اگانے کیلئے مختص زمین کیلئے نرخوں کی عدم ادائیگی، غیر مصدقہ بیجوں کی خریداری اور نگرانی و حفاظتی سروسز کیلئے کی گئی اضافی ادائیگیاں وہ معاملہ ہے جس کی وجہ سے پروجیکٹ پر مالی لحاظ سے براہِ راست اثرات مرتب ہوئے۔

پروجیکٹ پر عملدرآمد کے معاملے میں جو طریقہ کار اختیار کیا گیا اس سے مثبت نتائج کے حصول کا عمل سنگین مسائل کا شکار رہا۔ پروجیکٹ کی فنانسنگ بے ترتیب رہی جس سے پروجیکٹ کی تکمیل کے وقت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ پروجیکٹ کے بجٹ میں ایسی تبدیلیاں کی جاتی رہیں جو پی سی ون میں مختص کردہ رقم سے مختلف رہیں۔پروجیکٹ کی فزیبلٹی اسٹڈی نہیں کرائی گئی جس کے نتیجے میں منصوبہ بندی اور پروجیکٹ پر عملدرآمد میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ چراگاہوں کا انتظام سنبھالنے کیلئے آﺅٹ سورسنگ کے انتظامات کو کوئی جواز پیش کیے بغیر ہی بند کر دیا گیا۔

پی سی ون میں وضع کردہ تعداد کے مقابلے میں یوکلپٹس کو بہت زیادہ تعداد میں اگا دیا گیا۔ مانیٹرنگ کا فریم ورک بروقت نتائج دینے میں ناکام رہا جس کی وجہ سے پروجیکٹ کے وسط میں درستگی نہیں ہو پائی۔ فوائد کے حصول کیلئے بتدریج واپسی کی حکمت عملی (فیز آﺅٹ اسٹریٹجی) مرتب نہیں کی گئی۔“رپورٹ کے مطابق، وسائل کی خریداری کیلئے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا اس سے پروجیکٹ پر مالی لحاظ سے منفی اثرات مرتب ہوئے۔ پی ایم یو کی جانب سے فیلڈ آفس کو رہنمائی فراہم نہ کرنے اور بد انتظامی کی وجہ سے تین زونز میں ایک بڑی تعداد میں کلوڑر ختم کر دیے گئے کر دیے گئے۔

مجموعی طور پر اس پروجیکٹ میں کلوڑر کا حصہ 60 فیصد تھا۔ لہٰذا اس معاملے میں ناکامی پروجیکٹ کے نتائج پر سوالیہ نشان پیدا کر دیتی ہے۔ نجی کاشتکاروں کو نرسریوں کی الاٹمنٹ کا عمل بھی شفاف نہیں تھا۔ اسی طرح محکمہ جاتی نرسریوں سے مہنگے داموں میں بیج اور پودے خریدے گئے۔

کئی فاریسٹ ڈویڑنوں نے نگرانی اور حفاظت کی خدمات کی فراہمی کیلئے پی سی ون میں وضع کردہ رقوم کے مقابلے میں بھاری رقوم وصول کیں۔کسی تصدیق کے بغیر ہی پروجیکٹ کیلئے بیج خریدے گئے۔ پروجیکٹ کی پی سی ون میں ان وسائل کی خریداری کیلئے صرف سطحی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ فاریسٹ فیلڈ اسٹاف کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا اور انہیں کوئی واضح ہدایات یا رہنمائی فراہم نہیں کی گئی کہ ان سے پروجیکٹ پر عملدرآمد کے معاملے میں کوئی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔

پروجیکٹ کی فزیبلٹی اسٹڈی نہیں کرائی گئی۔ پروجیکٹ کی فنانسنگ خامیوں و غلطیوں سے پر نظر آئی، بجٹ میں نقائص تھے جبکہ پروجیکٹ کے کھاتوں کا انتظام بھی مناسب انداز سے نہیں سنبھالا گیا کہ محکمہ جاتی حد تک اس پر درست کام نظر آئے۔

تنزلی کا شکار فاصل آب (واٹر شیڈ)، سیم زدہ زمینوں کی بحالی جیسے مسائل سے نمٹنے کی خاطر تکنیکی مداخلت کیلئے کوئی آپریشنل پلان مرتب نہیں کیا گیا۔ مانیٹرنگ کا فریم ورک موجود تھا لیکن اس سے بروقت اور درست معلومات حاصل نہیں ہو سکیں تاکہ بیچ میں ہی معاملات کو درست سمت میں لایا جا سکے۔ تین سطح پر مشتمل مانیٹرنگ سسٹم، جس کا ذکر پی سی ون میں موجود ہے، پر محتاط انداز سے عمل نہیں کیا گیا۔

یہ سب خراب منصوبہ بندی کی وجہ سے ہوا جس کیلئے پی اینڈ ڈی ڈپارٹمنٹ سے جواب طلب کرنا چاہئے۔ سیکریٹری ماحولیات کی زیر قیادت پروجیکٹ کی قائمہ کمیٹی کو بااختیار بنا کر پی سی ون کی شقوں کو تبدیل کرکے پی اینڈ ڈی ڈپارٹمنٹ نے اختیارات اور ذمہ داری پروجیکٹ پر عمل کرنے والی ایجنسی پر ڈال دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پروجیکٹ کی مستقل نگرانی ہو پائی اور نہ ہی پی اینڈ ڈی ڈپارٹمنٹ کے سامان کی پڑتال ہو پائی۔

یہ وہ مسائل تھے جن کی وجہ سے نتائج کے حصول کیلئے بنایا گیا داخلی کنٹرول کے فریم ورک اور پورے پراسیس کی ساکھ مجروح ہوئی۔پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کی جانب سے غیر موثر کردار ادا کرنے کی وجہ سے یہ مسائل پیدا ہوئے۔ یونٹ کے رابطہ کاری اور حکمت عملی مرتب کرنے کے کردار کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ فیلڈ دفاتر کو انتظامی ڈپارٹمنٹ کے کنٹرول میں رکھا گیا اور پروجیکٹ ڈائریکٹر پروجیکٹ کے بے اختیار سربراہ کے طور پر کام کرتے رہے۔

پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ میں اسٹاف کی قلت تھی۔ مطلوبہ اسٹاف اور موثر پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کی عدم موجودگی میں داخلی کنٹرول اور پورے عمل سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔پروجیکٹ کیلئے یوکلپٹس کی منظور شدہ تعداد صرف 10 فیصد تھی لیکن یہ اس سے زیادہ اگا دیا گیا۔ پہلے میں مرحلے میں 7 فیصد جبکہ دوسرے مرحلے میں 34 فیصد یوکلپٹس زیادہ اگایا گیا۔ پاکستان جیسے ملک، جہاں پانی کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔

میں یہ قدم تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یوکلپٹس پانی کے ذخائر پر شدید منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اگرچہ یہ پودا لگا کر شجرکاری کے مقاصد تو حاصل کر لیے گئے لیکن شجرکاری کا معیار انتہائی خراب ہے اور اس کے طویل مدت اثرات ماحولیاتی لحاظ سے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پروجیکٹ کے آڈٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ منصوبہ بندی میں نقائص تھے۔ نتیجتاً پروجیکٹ کی تکمیل کا وقت تبدیل ہوتا رہا، اخراجات بڑھتے رہے۔ پہلے مرحلے کی پی سی ون کے مطابق، منصوبہ دو مراحل میں مکمل ہونا تھا۔

پہلے مرحلے پر ایک ارب 91 کروڑ 20 لاکھ روپے خرچ جبکہ تکمیل ایک سال میں ہونا تھی، جبکہ دوسرے مرحلے پر 12 ارب 42 کروڑ 27 لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ اور تکمیل تین سال میں ہونا تھی۔ اخراجات اور تکمیل کا وقت تبدیل ہوتا رہا۔ آڈٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ اسلام آباد سے ان بیجوں کی تصدیق نہیں کرائی گئی جو اس منصوبے کیلئے خریدے گئے۔

طریقہ کار کی اس خلاف ورزی سے پروجیکٹ میں اگائے گئے پودوں اور ان کے معیار پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ جاتی نرسریوں سے مہنگے داموں میں خریدے گئے بیجوں اور پودوں سے قومی خزانے کو بھاری نقصان ہوا۔ پی سی ون کے مطابق نجی کاشتکار کو ایک پودے کے 9 روپے ادا کرنا تھے تاہم محکمہ جاتی نرسریوں سے یہی پودا 16 روپے 63 پیسے کا خریدا گیا۔

فی پودے کے لحاظ سے 7.63 روپے کی اس گڑ بڑ کی نشاندہی خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل آڈٹ آفس کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔ پی سی ون میں یہ کہا گیا تھا کہ نوجوانوں اور خواتین کو ملازمت کے مواقع دیے جائیں گے جبکہ جنگلات کے شعبے میں طویل المدت کاروباری حالات اور مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

تاہم، انکوائری سے معلوم ہوا کہ ایسی کوئی واحد مثال بھی موجود نہیں کہ نرسری کے نجی کاشتکاروں نے مستقل بنیادوں پر نرسریوں کو بحیثیت پیشہ اختیار کیا۔ مفصل رہنما اصولوں اور بہترین انداز سے طریقہ کار مرتب نہ کرنے کی وجہ سے نرسریوں کی الاٹمنٹ کا عمل شفاف نہیں رہا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد