”پولیس اہلکار نے مجھے دوست کے ساتھ مل کر اغواءکیا اور مکان میں لے جا کر زیادتی کانشانہ بنایا اور جب تھانے گئی تو وہاں پر ملزم نے ۔۔“شیخوپورہ سے افسوسناک خبر آ گئی

”پولیس اہلکار نے مجھے دوست کے ساتھ مل کر اغواءکیا اور مکان میں لے جا کر ...
”پولیس اہلکار نے مجھے دوست کے ساتھ مل کر اغواءکیا اور مکان میں لے جا کر زیادتی کانشانہ بنایا اور جب تھانے گئی تو وہاں پر ملزم نے ۔۔“شیخوپورہ سے افسوسناک خبر آ گئی

  



شیخوپورہ (ڈیلی پاکستان آن لائن )شیخوپورہ میں خاتون نے الزام عائد کیاہے کہ پولیس ہلکار ندیم گجر نے اسے ساتھی کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنا یا ہے تاہم ڈی پی او شیخو پورہ کا کہناہے کہ خاتون نے جس شخص پر الزام عائد کیا ہے وہ پولیس اہلکار نہیں ہے ۔

تفصیلات کے مطابق خاتون نے موقف اختیار کیاہے کہ وہ فیکٹری میں کام کرنے کیلئے جاتی تھی تو ندیم گجر اسے تنگ کرتا تھا تاہم دوستی سے انکار پر ملزم نے اسے ساتھی کے ساتھ مل کر اغواءکیا اور مکان میں لے جا کر مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ وہ اسے زبردستی شراب بھی پلا تا رہا اور جب وہ مقدمہ درج کروانے کیلئے تھانہ صدر میں گئی تو پولیس نے کارروائی سے انکار کر دیا اور اسے دھکے مار کر تھانے سے نکال دیا ۔

خاتون نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کے بعد عدالت سے رجوع کیا جس کے بعد ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیاہے۔ نجی ٹی وی کا کہناہے کہ ابھی تک متعلقہ شخص کو گرفتار نہیں کیا گیاہے اور نہ ہی اس کی تلاش کی جارہی ہے ۔

نجی ٹی وی 92 نیوز کا کہناہے کہ خاتون نے موقف اختیار کیاہے کہ وہ جب رپورٹ درج کروانے کیلئے تھانے میں گئیں تو پولیس نے اس واقعہ کو ماننے سے ہی انکار کر دیا اور دوبارہ ملزم کے سامنے بیٹھا دیا جو کہ پولیس اہلکاروں کے سامنے اسے گالیاں دیتا رہا ، تفتیشی افسر نے دھکے مار کر خاتون کو تھانے سے نکال کر دیا جس کے بعد خاتون نے میڈیکل کروایا جس میں زیادتی ثابت ہوئی اور عدالت نے اسی رپورٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ۔

ڈی پی او شیخوپورہ غازی صلاح الدین نے واقعہ پر موقف دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر درست کرنا ضروری ہے کہ اس میں کیس میں جسے ملزم قرار دیا گیاہے وہ دراصل پولیس اہلکار نہیں ہے ، یہ ایک پرائیوٹ شخص ہے جس کا پولیس سے کوئی تعلق نہیں ہے ، خاتون نے الزام لگایا ہے کہ یہ پولیس اہلکار ہے ۔

اس خاتون نے درخواست دی تھی جس پر انکوائری بھی ہوئی اور یہ وقوعہ جھوٹا ثابت ہوا تھا ، خاتون اور ملزم کافی عرصہ سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں ، پہلے بھی ایک دوسرے کے خلاف درخواستیں دیتے رہتے ہیں ، مقدمہ درج ہونے کے بعد تفتیش جاری ہے ملزم عبوری ضمانت پر ہے اور میڈیکل ہوچکا ہے ، میرٹ پر تفتیش ہو گی ، اس وقت کہہ دینا کہ زیادتی ہوئی ہے یہ قبل از وقت ہو گا۔

مزید : جرم و انصاف