کیا واقعی ترک صدر کے دورہ پاکستان کے بعد سعودی حکام نے پاکستانیوں کی پکڑدھکڑ شروع کردی؟ سوشل میڈیا پر ہنگامے کے بعد حقیقت کھل کر سامنےآگئی،حکام کی تردید

کیا واقعی ترک صدر کے دورہ پاکستان کے بعد سعودی حکام نے پاکستانیوں کی پکڑدھکڑ ...
کیا واقعی ترک صدر کے دورہ پاکستان کے بعد سعودی حکام نے پاکستانیوں کی پکڑدھکڑ شروع کردی؟ سوشل میڈیا پر ہنگامے کے بعد حقیقت کھل کر سامنےآگئی،حکام کی تردید

  



جدہ(محمد اکرم اسد) پاکستان قونصلیٹ جدہ  نے سوشل میڈیا کے کچھ حصوں میں جاری اس  مہم کی سختی سے تردید کرتا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ سعودی حکام،  مکہ مکرمہ گورنریٹ کے  علاقے سے پاکستانیوں  کو قید اور جلاوطن کر رہے ہیں۔

قونصلیٹ نے متعلقہ سعودی حکام سے رابطہ کیا ہے۔ قونصلیٹ  کو بتایا گیا ہے کہ سعودی حکام تمام قومیتوں کے  غیرقانونی تارکین وطن کو  گرفتار کرتے اور ملک بدر کرتے ہیں۔ یہ مشق سال بھر میں مختلف شدت کے ساتھ جاری رہتی ہے۔ 

حالیہ مہم کا آغاز پچھلے ایک ہفتہ سے کیا گیا ہے جس میں بنیادی طور پر بغیر اقامہ، زائد المیعاد اقامہ ، غیر قانونی کارکنان، اور ایسے افراد جو  اقامہ پر لکھے گئے پیشےکی جگہ دیگر شعبوں میں کام کررہے ہیں،  پر توجہ دی جارہی ہے ۔ اس سلسلے میں گذشتہ تین روز سے 400 کے قریب پاکستانیوں کو  شمیسی ڈیپورٹیشن  مرکز لایا گیا ہے۔

یہ کہنا کہ یہ مہم صرف  پاکستانیوں کے لئے مخصوص ہے، بالکل غلط ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ اس طرح کی خبروں کی تشہیر نے پاکستانی کمیونٹی میں غیر ضروری اضطراب اور بے یقینی پیدا کردی ہے۔ سوشل میڈیا کے کچھ حصے  اسے گمراہ کن سیاسی زاویہ دے رہے ہیں۔ یہ پاک سعودی برادرانہ تعلقات کے مفاد میں ہے کہ اس طرح کے بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ بیانات سے ہر قیمت پر گریز کیا جاتا ہے۔

ہماری  سعودی عرب  میں پاکستانی کمیونٹی سے  درخواست ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور اس من گھڑت سوشل میڈیا مہم پر توجہ نہ دیں۔پاکستان  قونصلیٹ اس معاملے میں سعودی حکام سے مستقل رابطے میں ہے اور پاکستانی کمیونٹی کے مفادات کے تحفظ کے لئے مقامی قواعد و ضوابط کے تحت ہر ممکن اقدامات اٹھایا جا رہا ہے۔

یادرہےکہ اس سے قبل سوشل میڈیا پر بے بنیاد دعویٰ کیا گیا تھا کہ ترک صدر کےدورے کےبعد سعودی عرب میں پاکستانیوں کی پکڑ دھکڑ شرو ع ہوگئی ہے اور حکام کی طرف سے کچھ بتایا بھی نہیں جارہا لیکن اب حکام نے سب کچھ واضح کردیا۔ 

مزید : عرب دنیا /تارکین پاکستان