سعودی عرب میں بھی تبدیلی آ گئی، ویلنٹائنز ڈے پر کیا کچھ دیکھنے کو ملا؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

سعودی عرب میں بھی تبدیلی آ گئی، ویلنٹائنز ڈے پر کیا کچھ دیکھنے کو ملا؟ ...
سعودی عرب میں بھی تبدیلی آ گئی، ویلنٹائنز ڈے پر کیا کچھ دیکھنے کو ملا؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

  



ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک وقت تھا کہ سعودی عرب میں نامحرم مرد و عورت کا کسی ریسٹورنٹ وغیرہ میں اکٹھے بیٹھنا اپنی شامت کو آواز دینے کے مترادف تھا لیکن ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سماجی ڈھانچے کو جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جو اقدامات اٹھائے ہیں، ان کی وجہ سے سعودی عرب کی ’مذہبی پولیس‘ کے اختیارات بہت کچھ کم ہو کر رہ گئے ہیں جس کے سبب سعودی عرب میں لڑکے لڑکیوں کا اکٹھے نظر آنا عام ہورہا ہے۔اس کے مناظر رواں سال ویلنٹائنز ڈے پر بھی دیکھنے کو ملے۔

اس سے قبل سعودی عرب میں ویلنٹائنز ڈے پر پھول فروخت کرنا منشیات فروخت کرنے کے برابر تھا لیکن اس بار نہ صرف ویلنٹائنز ڈے پر پھول فروخت ہوتے نظر آئے بلکہ ریستورانوں میں نوجوان جوڑے بھی کافی تعداد میں نظر آئے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ان جوڑوں میں سے ایک لڑکے کا کہنا تھا کہ ”کچھ وقت پہلے اس طرح ہوٹل میں لڑکی کے ساتھ بیٹھنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اب لڑکیاں لڑکوں کے ساتھ باہر جانے کے لیے خود کہنے لگی ہیں۔“ایک لڑکی کا کہنا تھا کہ ”اب سعودی معاشرہ پہلے سے زیادہ ’اوپن‘ ہو چکا ہے۔ ہمارے سماجی روئیے تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ حکومت سنیما گھروں کی اجازت دے چکی ہے، میوزک کنسرٹ ہو رہے ہیں چنانچہ اب نوجوان لڑکے لڑکیاں باہر نکل کر ویلنٹائنز ڈے بھی منانے لگے ہیں۔“

مزید : عرب دنیا