ترک صدر کے انتہائی قابل بھروسہ ایڈوائزر کے خلاف بھی تحقیقات شروع، لیکن الزام کیا ہے؟ جان کر یقین کرنا مشکل

ترک صدر کے انتہائی قابل بھروسہ ایڈوائزر کے خلاف بھی تحقیقات شروع، لیکن الزام ...
ترک صدر کے انتہائی قابل بھروسہ ایڈوائزر کے خلاف بھی تحقیقات شروع، لیکن الزام کیا ہے؟ جان کر یقین کرنا مشکل

  



استنبول(مانیٹرنگ ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اردگان کے ایک مشیر کے خلاف ایسے الزامات میں تحقیقات شروع ہو گئی ہیں کہ سن کر یقین کرنا مشکل ہو جائے۔ عرب نیوز کے مطابق برہان کوزو نامی یہ مشیر ترک پارلیمنٹ کا رکن بھی رہ چکا ہے جس کے خلاف استنبول چیف پبلک پراسکیوٹرز آفس نے تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ اس پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے ترکی میں گرفتار ہونے والے ایرانی منشیات سمگلر نیسی زنداشتی کو رہا کروانے کے لیے عدالتی کارروائی میں مداخلت کی تھی۔

زنداشتی کو 2007ءمیں ترک پولیس نے گرفتار کیا تھا اور اس کے قبضے سے 75کلوگرام ہیروئن برآمد کی تھی۔ زنداشتی کے ساتھ اس کے گینگ کے دیگر 9اراکین بھی گرفتار ہوئے تھے۔ اسے عدالت نے اکتوبر 2018ءمیں رہا کر دیا تھا۔ اس کی رہائی کے چند گھنٹے بعد ہی اس کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے لیکن تب تک وہ غائب ہو چکا تھا۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ رہائی کے فوری بعد ترکی سے فرار ہو گیا تھا۔ جس جج نے زنداشتی کی رہائی کا حکم دیا اس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس پر برہان کوزو نے دباﺅ ڈالا تھا۔ جج نے تحقیقات میں بتایا ہے کہ بہت عرصے سے برہان کوزو مسلسل دباﺅ ڈال رہے تھے کہ زنداشتی کو رہا کر دیا جائے۔ اس پر برہان کوزو کے خلاف اب تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

مزید : بین الاقوامی