وہ وقت جب سعودی بادشاہ عبدالعزیز کی امریکی صدر فرینکلن ڈی روز ویلٹ کے ساتھ پہلی ملاقات ہوئی لیکن یہ میٹنگ کہاں اور کن حالات میں ہوئی تھی؟ کئی دہائیوں بعد تفصیلات سامنے آ گئیں

وہ وقت جب سعودی بادشاہ عبدالعزیز کی امریکی صدر فرینکلن ڈی روز ویلٹ کے ساتھ ...
وہ وقت جب سعودی بادشاہ عبدالعزیز کی امریکی صدر فرینکلن ڈی روز ویلٹ کے ساتھ پہلی ملاقات ہوئی لیکن یہ میٹنگ کہاں اور کن حالات میں ہوئی تھی؟ کئی دہائیوں بعد تفصیلات سامنے آ گئیں

  



جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز اور امریکی صدر فرینکلن ڈیلانو روزویلٹ کی آج سے 75سال قبل ایک تاریخی ملاقات ہوئی جس کی تفصیلات پون صدی بعد منظرعام پر آ گئیں ہیں۔ عرب نیوز کے مطابق یہ 14فروری 1945ءکا دن تھا جب دونوں رہنماﺅں کی مصر کے قریب سوئز کینال میں کھڑے ایک بحری جہاز میں ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے لیے شاہ عبدالعزیز پہلی بار صحرائے سعودی عرب سے باہر نکلے تھے۔یہ اگرچہ دوسری عالمی جنگ کے آخری دن تھے مگر جرمن فوجیں اب بھی اتحادی فوجوں پر حملے کر رہی تھیں۔ ایسے میں امریکی صدر روزویلٹ یالٹا میں ہونے والی اتحادی کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ اس سہ ملکی کانفرنس میں صدر روز ویلٹ، برطانوی وزیراعظم سرونسٹن چرچل اور سوویت یونین کے سربراہ جوزف سٹالن شریک ہوئے۔ تینوں رہنماﺅں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور جرمنی و یورپ کی بحالی کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا اور مستقبل کی منصوبہ بندی کی۔

یالٹا کانفرنس کے بعد صدر روزویلٹ نے ہزاروں کلومیٹر کا واپسی کا سفر شروع کیا مگر راستے میں وہ نہر سوئز میں آ کر رک گئے۔ یہاں ان کی شاہ عبدالعزیز کے ساتھ ملاقات کا شیڈول طے تھا۔ اگرچہ یہ بہت پر خطرکام تھا کیونکہ جرمن فوجیں کو اگر علم ہو جاتا کہ اس جہاز میں صدر روزویلٹ اور شاہ عبدالعزیز سوار ہیں تو وہ آسانی سے جہاز کو نشانہ بنا سکتی تھی۔ ادھر شاہ عبدالعزیز پہلے غیرملکی دورے پر حجاز کی سرزمین سے باہر نکلے اور ایک جہاز میں سوار ہو کر نہرسوئز میں کھڑے صدر روزویلٹ کے جہاز تک پہنچے۔ اس جہازے کے عرشے پر عرب طرز کا ایک خوبصورت خیمہ لگایا گیا تھا۔ اس خیمے کے لیے جہاز کے درمیان میں نصب توپ نما نالی کو بطور ستون استعمال کیا گیا۔ فرش پر غالیچے بچھائے گئے اور ان پر کرسیاں رکھی گئیں جن پر دونوں رہنما براجمان ہوئے۔ امریکی صدر کے اس جہاز کا نام ’یو ایس ایس کوئنسی‘ تھا جو جدہ سے 1200کلومیٹر دور کھڑا ہوا اور صدر روز ویلٹ نے یہاں ایک دن اور دو راتیں رک کر شاہ عبدالعزیز کا انتظار کیا۔

ایک ریٹائرڈ امریکی فوجی کرنل ولیم اے ایڈی نے اپنی یادداشت میں لکھا ہے کہ اس وقت سعودی عرب میں تعینات امریکی سفارتی نمائندے کو سزا دی گئی کیونکہ اس نے انتہائی شارٹ نوٹس پر اس ملاقات کا اہتمام کیا اور وہ بھی ایسے وقت میں جب جرمن فوجوں کی طرف سے نہر سوئز پر بمباری کی جا رہی تھی اور اگر جرمن جان جاتے کہ اس جہاز میں کون لوگ سوار ہیں تو بہت خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ستمبر 1943ءمیں اس وقت کے سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل نے امریکہ کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے واپس آ کر شاہ عبدالعزیز کو امریکہ کے بارے میں خوش کن معلومات دیں اور بتایا کہ صدر روزویلٹ ڈاک ٹکٹ جمع کرنے کے شوقین ہیں۔اس پر شاہ عبدالعزیز نے تحفے میں صدر روزویلٹ کو سعودی عرب کے ڈاک ٹکٹ بھجوائے۔ جواب میں امریکی صدر نے شکریہ کا خط بھیجا اور یوں دونوں رہنماﺅں کے درمیان ملاقات کی راہ ہموار ہوئی۔ جب شاہ عبدالعزیز ملاقات کے لیے بحری جہاز پر پہنچے تو صدر روزویلٹ نے ان کا بہت گرم جوشی کے ساتھ استقبال کیا۔ ملاقات میں شاہ عبدالعزیز کی طرف سے صدر روزویلٹ کو کچھ تحائف پیش کیے گئے جن میں دو قیمتی تلواریں بھی شامل تھیں۔ رپورٹ کے مطابق صدر روزویلٹ اور شاہ عبدالعزیز کی اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان جس تعلق کی بنیاد رکھی گئی وہ دہائیوں کا سفر کرنے کے بعد آج بھی قائم ہے۔

مزید : عرب دنیا