سکولوں میں قرآن کریم کی تعلیم میں لا پرواہی کیوں؟

سکولوں میں قرآن کریم کی تعلیم میں لا پرواہی کیوں؟
سکولوں میں قرآن کریم کی تعلیم میں لا پرواہی کیوں؟

  



آٹھویں جماعت کا PEC کا آخری امتحان "ناظرہ" کا تھا۔ اس امتحان کو اسلامیات کے پرچے کے ساتھ لینے کی بجائے اگلے دن ساڑھے پانچ گھنٹے کے طویل دورانیہ کے ساتھ لینا واضح کرتا ہے کہ قرآن پاک کی تعلیم کی اہمیت باقی دنیاوی مضامین سے زیادہ ہے۔ کمرہ امتحان میں داخل ہونے سے پہلے سپریٹنڈنٹ نے ڈیوٹی پر مامور نگرانوں کو Rubrics تھما دیں اور ساتھ ہی کہہ دیا گیا کہ کسی کے نمبر 30 سے کم نہیں لگانے غیر مسلم بچوں کو بھی کم از کم 30 نمبر دینے ہیں ۔ جو سراسر بے ایمانی تھی۔ مطلب صاف ظاہر تھا کہ ہم اس امتحان کو اہمیت دینے کو تیار ہی نہیں۔

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جب غیر مسلم بچے ناظرہ کا امتحان نہیں دے سکتے تو سکولوں والے ان بچوں کو اسلامیات کا مضمون پڑھنے کو کیوں کہتے ہیں؟ جبکہ ان کے لیے اخلاقیات کا مضمون موجود ہے ۔( اس کے لیے میں بس اللہ سے دعا ہی کر سکتی ہوں کہ وہ سکول انتظامیہ کو ہدایت دیں۔) خیر یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔ قرآن پاک سے سننے کے لیے جب ہم نے سکول والوں سے قرآن پاک طلب کیے تو پتا چلا کہ بس ایک جلد والا قرآن پاک ہے۔ سپاروں والا قرآن تو سکول میں موجود ہی نہیں ۔ سن کر خاصی حیرت ہوئی کہ جب ناظرہ کا امتحان ہوتا ہے تو اسلامیات کا استاد قرآن پاک سکول میں کیوں نہیں پڑھاتا۔ اب یہ سوال پوچھنے کی جسارت ہم اس سکول کے ہیڈ ماسٹر سے تو نہ کر سکے۔ البتہ سکول والوں سے یہ ضرور کہا کہ سر شہر کا سکول ہے آپ کسی مسجد سے ہی قرآن پاک لا دیں لیکن وہاں بھی ناکامی ہوئی۔ جواب ملا شہر کی مساجد تو نماز کے اوقات میں ہی کھلتی ہیں اس وقت تو وہ بند ہوتی ہیں۔ خیر کہیں سے ڈھونڈ ڈھانڈ کے ہمیں ایک جلد والا قرآن پاک اور 5،6 تیسویں پارے دے دیئے گئے۔ حالانکہ بچوں سے امتحان 21 تا 30 پاروں میں سے لینا مقصود تھا۔

جب ہیڈ ماسٹر صاحب کو پتا چلا کہ ہم قرآن پاک منگوا رہی ہیں تو انہوں نے مہیا کرنے کی بجائے سپریٹنڈنٹ کو اپنے دفتر بلوا بھیجا اور انہیں کہا کہ آپ کیوں قرآن پاک منگوا رہی ہیں جو کچھ تھا وہ ہم نے دے دیا اب مزید نہ منگوایں۔ انہوں نے جواب دیا "سر ہمیں لگا آپ کا ہائی سکول ہے تو تین چار قرآن پاک تو ضرور موجود ہوں گے۔ کیا آپ اپنے سکول میں سال میں ایک دفعہ بھی قرآن خوانی یا میلاد کا اہتمام نہیں کرتے؟" ہیڈ ماسٹر صاحب کچھ یوں گویا ہوئے:" میں نہیں سمجھتا کہ اسکولوں میں ایسا کوئی کام ہونا چاہیے "۔بادل نخواستہ سپریٹنڈنٹ کو واپس آ کر انہیں پر گزارا کرنا پڑا ۔

ہمارے سینٹر میں چار کمرے تھے تین کمروں میں تیسواں پارہ بھیجوا دیا گیا جبکہ میں نے قرآن پاک سے سننے کو ترجیح دیا۔ جوں جوں میں  طلباء سے سنتی گئی دکھ ، غصہ اور پریشانی میں مبتلا ہوتی گئی۔ طلباء کو قرآن پاک پڑھنا ہی نہیں آ رہا تھا ۔ ستائیس میں سے 6 طلباء نے صحیح قرآنی آیات پڑھیں جبکہ بقیہ کے حالات نہایت خراب تھے۔ انتہائی غلط حروف و مخارج کے ساتھ قرآن سنایا۔ کچھ لڑکیوں نے یہ تک کہہ دیا کہ قرآن پاک پڑھنا ہی نہیں آتا ۔ حالانکہ ہمارے معاشرے میں قرآن پاک کی تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی رہی ہے ۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی والدہ نے بھی ان کی ابتدائی تعلیم کا آغاز قرآن کی تعلیم سے کروایا تھا۔ لیکن اب شاید والدین نے اپنی ترجیحات بدل دیں ہیں ۔

جب حصہ حفظ کی باری آئی تو نوے فیصد طلباء نے بڑے اطمینان سے کہہ دیا کہ  کوئی سورت یاد نہیں ۔ مطلب اس سوال میں دس میں سے صفر نمبر دیئے جائیں ۔ اگلے سوال کی طرف بڑھی جس میں آیت الکرسی یا سورہ الم نشرح مع ترجمہ سننی تھی میرا خیال تھا کہ آیت الکرسی تو ہر لڑکی کو یاد ہو گی لیکن نہیں جناب اس سوال میں بھی مجھے پہلے کی طرح مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر میں ان سے کسی ڈرامے کی کہانی پوچھتی تو وہ بالکل صحیح سنا دینی تھی۔

آج کی نسل کو میرے پاس تم ہو کا تو بخوبی پتا ہے لیکن یہ نہیں یاد کہ ہماری مذہبی کتاب کو کیسے پڑھنا ہے۔ یہاں قصور بچے کا نہیں سب سے زیادہ والدین کا ہے کیونکہ قیامت کے روز اولاد کی تعلیم و تربیت کے بارے میں انہی سے باز پرس کی جائے گی ۔ اسی سلسلے میں قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ہے "مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو آتش (جہنم) سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جس پر تند خو اور سخت مزاج فرشتے (مقرر) ہیں جو ارشاد خدا ان کو فرماتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں" (التحریم) آج والدین بچے کو بالی ووڈ، لالی ووڈ اور ہالی ووڈ کے بارے میں تو سب بتا رہے ہیں اگر علم نہیں دے رہے تو قرآن کا علم نہیں ۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے۔

والدین کے ساتھ ساتھ اس میں قصور وار اساتذہ کرام بھی ہیں اگر سکولوں میں انگریزی، سائنس اور ریاضی کے ساتھ ناظرہ کی تعلیم پر بھی توجہ دی گئی ہوتی تو صورت حال یکسر مختلف ہوتی۔ اس کے بعد قصوروار میں امتحانی عملہ کو بھی سمجھتی ہوں کہ وہ اللہ تبارک و تعالی کی کتاب کا امتحان Rubrics کی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیوں نہیں لیتے۔ جب باقی مضامین کے پرچوں کو Rubrics کی ہدایات کے عین مطابق چیک کیا جاتا ہے تو پھر اس میں کیوں غفلت برتی جاتی ہے۔ اگر ناظرہ کے امتحان میں ایمان داری سے بچوں کو ان کارکردگی کی بنیاد پر نمبر دیئے جائیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے تو شاید اچھے نمبر حاصل کرنے کی لالچ میں ہی والدین، اساتذہ کرام اور بچے سنجیدگی سے قرآن پاک کا علم حاصل کرنے کی طرف راغب ہو جائیں ۔ دینی و اخلاقی تعلیم کو بدولت ہی صالح اور نیک معاشرے کی تشکیل ممکن ہے ۔

ہم کون ہیں کیا ہیں بخدا یاد نہیں

اپنے اسلاف کی کوئی بھی ادا یاد نہیں

ہاں اگر یاد ہیں تو کافر کے ترانے ہی بس

ہاں نہیں یاد تو مسجد کی صدا یاد نہیں

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں 

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ