حجرہ شاہ مقیم میں چند لمحوں کا قیام

حجرہ شاہ مقیم میں چند لمحوں کا قیام
حجرہ شاہ مقیم میں چند لمحوں کا قیام

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


میر تقی میر نے کہا تھا:
سر سری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا
جہانِ دیگر، دِل کی آنکھ سے دیکھنے والوں کو دکھائی دیا کرتا ہے۔مَیں اپنی پرانی گزر گاہوں، گلیوں اور شاہراہوں کو ہمیشہ دِل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔یہی وجہ ہے کہ مجھے ہر پرانی چیز، دوبارہ دیکھنے پر بھی نئی نظر آتی ہے۔حجرہ شاہ مقیم ایک ایسا ہی قصبہ ہے،جو مَیں نے کئی بار دیکھا ہے۔ اس کے مکینوں سے میری ملاقات کئی بار ہو چکی ہے،لیکن جب بھی دیکھا ہے تجھے، عالم ِ نو دیکھا ہے۔اس شہر کے لوگوں میں محبت بھی ہے اور ملنے کی تڑپ بھی۔فطرت کے قرب نے انہیں حق آشنا کر دیا ہے۔ یہاں کے سارے لوگ کھری بات کرتے ہیں اور کھری بات سننا پسند کرتے ہیں۔ یہاں ہر سال اپریل کے مہینے میں ایک بہاریہ مشاعرہ منعقد ہوتا ہے،ان میں سے کئی مشاعروں میں مجھے شرکت کا موقع ملا ہے۔ یقین جانیے کہ داد اور بے داد کے جو رنگ مَیں نے اس شہر میں دیکھے ہیں، کہیں نہیں دیکھے۔لوگوں کا سیاسی، معاشی، علمی، ادبی اور ثقافتی شعور دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ گدڑی کے یہ لعل ابھی تک گدڑی میں کیوں ہیں؟انہیں گدڑی سے کب نکالا جائے گا؟ کب یہ کسی کے سر کا تاج بنائے جائیں گے؟

حجرہ شاہ مقیم مجھے اس لیے بھی پسند ہے کہ  اس کا لینڈ سکیپ بہت حسین ہے۔ لگتا ہے کہ کسی مصور نے تصویریں بنا کر زمین پر رکھ دی ہیں۔ پنجاب کا دیہاتی کلچر دیکھنا ہو تو آپ حجرہ شاہ مقیم چلے جائیے۔مجھے یاد ہے کہ ایک بار مَیں اس قصبے میں گیا تو مشاعرہ شروع ہونے میں ابھی کچھ وقت تھا۔مَیں اس کی گلیوں میں نکل گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مکان کے سامنے دلہن کو لے جانے کے لیے ڈولی دھری ہوئی ہے۔کہار بھی پاس ہی کھڑے تھے۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ چند لمحوں کے بعد ڈولی اٹھائی جائے گی اور اس گھر کی شہزادی،پیا گھر سدھارے گی۔پنجابی فلموں کے لیے اداکارہ فردوس، نغمہ، عالیہ اور زمرد پر جتنے اچھے نغمے اس گاؤں میں فلمائے گئے ہیں شاید کسی اور گاؤں میں نہ فلمائے گئے ہوں۔


اس قصبے میں سرخے بھی ہیں، سبزے بھی۔ کمیونسٹ بھی ہیں۔جماعت اسلامی کے لوگ بھی ہیں۔مزدور  راہ نما بھی ہیں اور کسانوں کے لیڈر بھی ہیں۔مزے کی بات یہ ہے کہ سب مکالمے پر یقین رکھتے ہیں۔ مجھے اس قصبے میں جب بھی بلایا گیا، تمام مکاتب فکر کے لوگ بطور سامع میرے سامنے موجود تھے۔اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ میری منزل تو پاک پتن تھی، جہاں صوفی منش شاعر کرم علی کیفی صاحب نے میرے اعزاز میں ایک مشاعرے کا ڈول ڈالا تھا۔میری فیس بُک پر لگی پوسٹ دیکھ کر کاروانِ فکر و عمل حجرہ شاہ مقیم کے سربراہ برادرم جہانگیر غوری نے رابطہ کیا اور حکم دیا کہ دو تین گھنٹے حجرے والوں کے لیے بھی نکالوں۔ کفرانِ نعمت کی طرح کفرانِ محبت بھی ایک گناہ ہے۔سو مَیں حجرہ شاہ مقیم جا پہنچا۔ کاروانِ فکر و عمل کے سیکرٹری اطلاعات پروفیسر غوری عبدالغفار مجھے لینے کے لیے بائی پاس کے قریب آ گئے۔ وہ ”پروٹوکول“ دیتے ہوئے مجھے جہانگیر غوری صاحب کے آستانے پر لے گئے جہاں محمد عمران حیدر صاحب بھی موجود تھے۔چائے پی، سگریٹ کا دھواں اڑایا۔ تھوڑی گپ لگائی۔


ہماری اگلی منزل سردار زاہد حسن ظفر پھلروان اور حاجی ارشد حسن ظفر کا ڈیرہ تھا۔ سردار صاحب کسان اتحاد کے راہ نما ہیں۔ مسلم لیگ (ن) ضلع اوکاڑہ کے نائب صدر ہیں، یو سی چیئرمین رہے ہیں اور متوقع چیئرمین بھی ہیں۔ سردار صاحب کی شخصیت کی خوبی یہ ہے کہ آپ غایت درجے کا علمی ادبی اور شعری ذوق رکھتے ہیں۔ مطالعے کے شوقین ہیں۔ شاعروں کے قدردان ہیں۔باجماعت میرا کلام سننے کے لیے انہوں نے اپنے دولت خانے پر حجرہ شاہ مقیم کے بہت سے باذوق حضرات کو مدعو کر رکھا تھا۔ مرزا غالب کو ان کے قدردان شاگرد آم بطور تحفہ دیا کرتے تھے، لیکن یہ نیا زمانہ ہے۔ عیاشی کی بجائے ضرورتوں کا فسانہ ہے۔سو  میری کار کی ڈگی میں جتنی جگہ خالی تھی وہاں آلو بھر دیئے گئے۔

بتایا گیا کہ تحصیل دیپالپور ایشیا بھر میں آلو کی سب سے بڑی منڈی ہے۔ سب سے زیادہ آلو یہیں کاشت کیے جاتے ہیں۔مجھے ایک فارم ہاؤس دکھانے کا وعدہ کیا گیا تھا،لیکن احباب سے مکالمہ ایسا شروع ہوا کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔ جہانگیر غوری،نذیر مجاہد، غوری عبدالغفار، محمد عمران حیدر، محمد اصغر جٹ، حاجی برکت علی،چاچا محمد بوٹا انجم ملک، اسد پھلروان ایڈووکیٹ، حاجی ارشد حسن ظفر اور سردار زاہد حسن ظفر نے مجھے باخبر صحافی سمجھ کر ایسے ایسے سوالات داغے کہ الامان الحفیظ۔ہر سوال اپنے اندر ایک دانش لیے ہوئے تھا۔انجمن ِ اربابِ ذوق حجرہ شاہ مقیم کے سیکرٹری جنرل نذیر مجاہد نے اپنا کلام سنانے کے بعد مجھ سے کلام سنانے کی فرمائش کر دی۔ حجرے والوں کا ”پیٹ“ ایک آدھ غزل سے نہیں بھرتا اس لیے مَیں بہت سی غزلیں لے کر گیا تھا اور سب کی سب سنائیں۔ایک غزل کے چند شعر آپ بھی پڑھ لیجیے۔

ہم اہلِ درد کو پابندِ التجا نہ کرو
جو ناخدا بھی نہیں ہیں، انھیں خدا نہ کرو
جو رہزنوں سے مراسم پہ ناز کرتا ہے
اس آدمی کو تو سالارِ قافلہ نہ کرو
ہماری پیاس ہمارے ہی پاس رہنے دو
کرم کرو، ہمیں محرومِ کربلا نہ کرو
جنوں، اہلِ جُنوں ہی کو زیب دیتا ہے
زمانے والو! ہمیں دیکھ کر ہنسا نہ کرو
تمام شہر کو ہم پیچھے چھوڑ سکتے ہیں 
ہمارے ساتھ اگر تم مقابلہ نہ کرو
تمھارے سینے میں پتھر کا دِل سہی ناصر
یہ بزمِ یار ہے، باتیں تو شاعرانہ کرو

مزید :

رائے -کالم -