محبت 

محبت 
محبت 

  

جب بھی گھر آتا ہوں اُس کی آنکھیں مجھے چمکتی دمکتی نظر آتی ہیں،محمد علی رضا میرا چھوٹا بیٹا ہے۔ کبھی کبھی محبت بڑی لطیف و سکون دینے والی شے   محسوس ہوتی ہے اور کبھی مصا ئب و مشکلات کا گھر۔ یہ کب دلچسپی یا سحر fascination میں تبدیل ہو جائے یا پھر دلچسپی یا سحر fascination محبت میں بدل جائے کچھ پتہ نہیں چلتا۔ محمد علی رضا کچھ دنوں سے اپنی نانو کے گھر ہے اور آج جب اُس کی ماں سے فون پربات ہوئی توکہنے لگی کہ علی آپ کو بہت یادکرتا ہے تو یکا یک میری زبان نے حرکت دی  کہ خالص اور پاکیزہ محبت کا معاملہ ہی کچھ اور ہوتاہے۔محبت پاک اور پاکیزہ ہو تو کچھ بعید نہیں کہ آنکھیں غم سے سفید ہوجائیں یا پھر جدائی سے دل ہلکان ہوجائے۔

اگر قافلہ مصر کی سرزمین سے نکلے جس میں صرف حضرت یوسف ؑ کی قمیض ہو اور کنعان میں حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے پوتوں سے فرمائیں کہ "بیشک میں یو سف علیہ السلام کی قمیص سے جنت کی خوشبوپارہا ہوں "۔ جب خالص محبت وارد ہوجائے تو دوچیزوں میں سے ایک چیز ضرور وقوع پذیر ہوتی ہے پہلی" جدائی" یاپھر دوسری "مصائب و تکالیف" کاسامنا کرنا۔ حضرت یوسف علیہ السلام جب قید خانے میں تھے تو جس دروغے کی ڈیوٹی آپؑ کے قید خانے کے پاس تھی اُس کو بھی حضرت یوسفؑ سے محبت ہوگئی اور حضرت یوسف ؑ سے کہنے لگا کہ "اے یوسفؑ! میں آپؑ سے اتنی زیادہ محبت کرتا ہوں کہ میں نے کسی سے اتنی محبت نہیں کی اور فرطِ محبت میں آپؑ پر جان قربان کرنے کو دل کرتا ہے"۔ اس پر آپؑ نے فرمایا، ”میں تمہاری محبت سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں، میرے باپ نے مجھ سے محبت کی تو میرے بھائیوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا کہ مجھے کنویں میں پھینک دیا، پھر میری مالکہ یعنی زلیخا نے مجھ سے محبت کی تو اس کی محبت کے نتیجے میں آج تک قید میں ہوں "۔

جہاں محبت تکالیف و مصائب کا گھر ہے وہاں محبت تو جاں بخش اور جاں افروز بھی ہے، محبت روشنی بھی ہے، محبت تو پھولوں پر پڑنے والی شبنم کے قطروں کا احساس بھی دیتی ہے،محبت مقصدِحیات بھی ہے، محبت نہ ہو تو پھولوں کا کھلنا اور اُن کی خوشبو کا احساس بالکل معمولی محسوس معلوم ہو، محبت راحتِ جاں بھی ہے اور جاں پرور بھی ہے۔ کچھ مہینے پہلے کتاب "محبت کے چالیس اُصول" The Forty Rules of Loveمیری نگاہ سے گزری۔ میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ کیا محبت کے بھی اُصول ہوتے ہیں یا محبت اُصولوں کے بغیر ہی پروان چڑھتی ہے۔ اس کتاب میں ترک مصنفہ "الف شفق" (Elif Safak)نے محبت کے جو چالیس نکات بیان کیے ہیں وہ صحیح معنوں میں محبت کے لوازمات کو عیاں کرتے ہیں۔ اس کتاب میں صوفی شاعر مولانا رومؒ کی وجاہت و دبدبہ اور صوفی درویش شمس تبریزؒ کا مختلف جگہوں پر محبت کے بارے خوبصورت جملوں کا طِلسِم بندی کرنا اس سے کو ئی بھی قاری ایلف شفق کو داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

حضرت امیر خسرو نے ایک دن خواجہ نظام الدین اولیاء سے پوچھا کہ محبت میں مصیبت و تکالیف کیوں آتی ہیں؟ آپ نے فرمایا " تاکہ کوئی کم ظرف محبت کا دعویٰ نہ کرسکے"۔ ایک دن حضرت ابو ہریرہؓ سے اللہ کے پیارے رسول رحمتہ العالمین ﷺنے فر مایا کہ" اے ابوہریرہ ؓہر روز نہ ملا کرو بلکہ ایک دن چھوڑ کر ملا قات کے لیے آیا کرو تا کہ محبت میں مز ید اضافہ ہو"۔ آج کل ہر شخص سوشل میڈیا پر کسی ناکسی سے محبت کا دعویٰ اور قربان ہونے کے لیے بے چین نظر آتا ہے بغیر دوسرے شخص کو ملے اور دیکھے۔علی رضا کی بے غرض محبت دیکھ کر سو چ میں پڑ جاتا ہوں کہ اُس کی محبت کا طلسم کہیں اُس کی تربیت میں حائل نہ ہو جائے۔مولاعلی کرم اللہ وجہ نے کیا خوب فرمایا تھا کہ" پیدائش سے سات سال کی عمر تک اپنے بچے کو ایسے پالو جیسے وہ آقا ہے اور تم غلام، سات سال سے چودہ سال کی عمر تک اُس کے ساتھ ایسے رہو کہ جیسے تم آقا ہو اور وہ غلام ہے،مگر چودہ سال سے اکیس سال تک گویا وہ تمھارا ایسا مشیر ہے جس سے تم ہر کام میں مشاورت کرو"۔  

مزید :

رائے -کالم -