بے روزگاری اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان 

بے روزگاری اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان 
بے روزگاری اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان 

  

کل ملتان کے صدر بازار کینٹ گیا تو وہاں ریڑھی پر پھل فروخت کرنے والے ایم فل پاس نوجوان محمد صدیق سے ملاقات ہوئی۔ اس نے بتایا ایم فل کی ڈگری کے باوجود جب اسے ڈیڑھ سال ملازمت نہ ملی تو اس نے بوڑھے والدین کا بوجھ بانٹنے کے لئے پھل کی ریڑھی لگا لی۔ایسے نوجوانوں سے مل کر ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کرنے والوں پر غصہ آتا ہے۔ حکومت نے تو اب اس طرف سے بالکل منہ موڑ رکھا ہے۔ گویا یہ مسئلہ اس کے نزدیک کوئی مسئلہ ہی نہیں، سیاسی لڑائیاں ہوں یا عدم اعتماد کی باتیں، ایک دوسرے کے خلاف الزامات لگانے کی دوڑ ہو یا کچھ اور، ان پر توجہ ہے مگر وہ ایشوز جن کا تعلق براہِ راست عوام سے ہوتا ہے کبھی توجہ نہیں پاتے۔ سب دیکھ رہے ہیں پہلے سے مسائل میں گھرے ہوئے معاشرے کا اب سنگین ترین مسئلہ بے روزگاری ہے۔ سب سے زیادہ بے روزگار بھی وہ طبقہ ہے جو یونیورسٹی کی سطح سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر چکا ہے۔ گویا ملک کا پڑھا لکھا طبقہ گھروں میں بیٹھا ہے۔ ان کی شادیوں کے مسائل ہیں، بوڑھے والدین کو سہارا دینے کا وقت ہے۔ یہ کسی ایک شہر، کسی ایک گھر کا مسئلہ نہیں، جب 16سے 18سال تک تعلیم کے حصول میں گزار کر ہمارا یہ نوجوان طبقہ عملی زندگی میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے کوئی جگہ نہیں ملتی، کوئی روزگار کا در اس کے لئے نہیں کھلتا، تعلیم کے نت نئے ادارے تو کھل رہے ہیں مگر روزگار کے دروازے نہیں کھولے جا سکے۔ پنجاب میں تین برسوں کے دوران صرف ایک بار پبلک سروس کمیشن کے ذریعے چند سو لیکچرر بھرتی کرنے کا عمل شروع ہوا، اس کی تکمیل میں بھی سال سے اوپر لگ گیا۔

اس دوران ہزاروں نہیں لاکھوں نوجوان اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں لے کر میدان میں آگئے، لیکن انہیں معمولی پرائیویٹ نوکریوں کے سوا ان کی تعلیم اور صلاحیت کے مطابق کہیں کوئی جاب نہیں ملی۔ پنجاب ہی میں سکول اساتذہ کی دو ہزار اسامیوں پر بھرتی کا اعلان کرکے بجٹ نہ ہونے کو بہانہ بنایا گیا اور یہ سلسلہ منسوخ ہو گیا۔ گویا 33ہزار اساتذہ کی پنجاب کے سکولوں میں کمی ہے، جسے پورا نہیں کیا جا رہا اور دوسری طرف تعلیم یافتہ نوجوان بھی روزگار سے دور  رکھے جا رہے ہیں۔ بے روزگاری کا یہ معاملہ ہے گزشتہ دنوں میڈیکل افسر کی چند سو اسامیوں کے لئے پندرہ ہزار سے زائد درخواستیں جمع کرائی گئیں، یہ اس پروفیشنل ڈگری جسے ایم بی بی ایس کہتے ہیں اور جس کے لئے نجانے والدین کتنے پاپڑ بیلتے ہیں، کی بے روزگاری کا حال ہے، عام ڈگریوں کے بارے میں آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں، جب بے روزگاری بڑھ جاتی ہے تو استحصالی طبقہ بھی جنم لیتا ہے۔ جوانِ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی مجبوریاں خریدتا ہے۔ انجینئر اور ایم بی بی ایس کرنے والے بھی نجی اداروں میں معمولی تنخواہ پر کام کرتے عام مل جاتے ہیں۔ ایم اے ایم ایس سی اور ایم فل کی ڈگری والوں کا تو کوئی پرسانِ حال ہی نہیں۔ آج سوشل میڈیا پر ایسی بے شمار پوسٹیں مل جاتی ہیں، جن میں بتایا گیا ہوتا ہے کہ ایک ایم فل ہولڈر پکوڑوں یا نان چھولے کی ریڑھی لگا کر اپنے گھر کا گزارا کر رہا ہے یا اسے کسی جگہ محنت مزدوری کرتے دکھایا جاتا ہے، جہاں تک پرائیویٹ سکولوں حتیٰ کہ بڑی بڑی اکیڈیمیوں کا تعلق ہے وہ بھی ایسے نوجوانوں کو اتنا معاوضہ دیتے ہیں جو آج کل کے مزدور سے بھی کم ہوتا ہے۔ سب سے بُری حالت لڑکیوں کی ہے، جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں سب سے آگے ہیں۔ ان کی ذہانت اور قابلیت پر بھی کسی کو شک نہیں، مگر ان کے لئے روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پروفیشنلز تعلیمی اداروں یعنی میڈیکل کالجز اور انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں بھی طالبات لڑکوں سے زیادہ بڑھ رہی ہیں۔ اب یہ پرلے درجے کی بدانتظامی اور عدم منصوبہ بندی ہے کہ آپ ایک شعبے میں لڑکیوں کو تعلیم دیئے جا رہے ہیں، مگر آگے ان کے لئے مواقع پیدا نہیں کر رہے۔ یعنی قومی وسائل کا ضیاع ہو رہا ہے۔ کوئی اس پر توجہ دینے کو تیار نہیں۔

جناب مجیب الرحمن شامی نے کئی بار یہ کہا ہے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ آبادی کا ایٹم بم ہے۔ یہ تمام مسائل کی جڑ ہے۔ اسے کنٹرول نہ کیا گیا تو لاکھ کوششوں کے باوجود بہتری نہیں آ سکے گی۔ اس سے بھی زیادہ اہم مسئلہ یہ ہے ہمارے ہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے، یہ وہ تعلیم ہے جسے روائتی تعلیم کہا جاتا ہے، کئی بار یہ سوال اٹھا ہے کیا ہمیں اس روائتی تعلیم کی ضرورت ہے یا ہمیں فنی تعلیم کی طرف جانا چاہیے تاکہ ہنر مند افراد پیدا کرکے ان کے ذریعے روزگار کے نئے دروازے بھی کھولے جائیں۔ ملک کو معاشی طور پر اپنے پیروں پر بھی کھڑا کیا جا سکے۔ ایک زمانے میں ماسٹر کی سطح تک تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد 2فیصد سے زیادہ نہیں ہوتی تھی، اب یہ ایک جائزے کے مطابق 10سے پندرہ فیصد کے درمیان ہے۔ سرکاری یونیورسٹیاں دھڑا دھڑ اپنے علاقائی کیمپس کھول رہی ہیں اور نجی یونیورسٹیاں ایچ ای سی کی کرم فرمائی سے بغیر معیار اور مطلوبہ فیکلٹی کے ڈگریاں بانٹ رہی ہیں۔ا س بھیڑ چال نے اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بھی نقصان پہنچایا ہے اور بے روزگاروں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا ہے جو بھی کسی نجی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیتا ہے وہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری لئے بغیر باہر نہیں آتا، چاہے اس کی ذہنی استعداد اس کے قابل نہ بھی ہو۔ یہ ادارے ڈگری بانٹنے کی فیکٹریاں بن کر رہ گئے ہیں، جس سے تعلیمی معیار کے ساتھ ساتھ ڈگری حاصل کرنے کے جنون میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس کا منفی نتیجہ یہ نکلتا ہے جو اچھے اداروں سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں وہ بے روزگاروں کے ہجوم میں گم ہو کر اپنے حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔

حکومتی زعماء اکثر یہ تو کہتے ہیں روزگار فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں اسے سیاسی نعرہ بھی انہوں نے ہی بتایا تھا، جب سیاسی جلسوں میں عمران خان یہ بلند بانگ دعوے کرتے تھے، ملک سے بے روزگاری ختم کرین گے، ایک کروڑ نوکریاں دیں گے تو اس وقت انہیں کیوں یاد نہیں تھا کہ ملازمتیں دنیا حکومت کی ذمہ داری نہیں۔ اگر ملازمتیں دینا حکومت کا کام نہیں تو کم از کم اسے ملک میں ایسے حالات تو پیدا کرنے چاہئیں کہ ملک میں روزگار کے مواقع بڑھیں۔ سب سے اہم ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ حکومت نجی سیکٹر کے لئے نوجوانوں کی تعلیم کے حساب سے شرائط ملازمت طے کرے، تاکہ نوجوانوں کے استحصال کا خاتمہ ہو سکے۔ آج تو یہ عالم ہے ایم اے پاس نوجوانوں کو چند ہزار روپے کی ملازمت دی جاتی ہے، کیونکہ وہ محنت مزدوری نہیں کر سکتا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے وائٹ کالر جاب چاہتا ہے۔ حکومت کو چاہیے وہ اپنے تین سالہ دور کے اعداد و شمار سامنے لائے کہ اس نے کتنے نوجوانوں کو اس عرصے میں روزگار دیا، جبکہ اس کے بارے میں تاثر یہ ہے اس نے بے روزگار زیادہ افراد کئی ہیں اور روزگار کم افراد کو دیا ہے۔ ہماری سیاسی اشرافیہ بھی شاید یہی چاہتی ہے۔ ملک میں بے روزگاری رہے، تاکہ اس پر سیاست کی جا سکے۔ اس ساڑھے تین سال کے عرصے میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سیاسی بحران اور کشیدگی کے مناظر تو دیکھنے کو ملے، لیکن عوام کے مسائل سے تعلق رکھنے والے معاملات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ 

مزید :

رائے -کالم -