ضلعی عدلیہ کی ڈویژنز بنانے کے فیصلہ کیخلاف وکلاء نے سیشن، سول کورٹ کو تالے لگا دیئے

  ضلعی عدلیہ کی ڈویژنز بنانے کے فیصلہ کیخلاف وکلاء نے سیشن، سول کورٹ کو تالے ...

  

        لاہور(نامہ نگار)ضلعی عدلیہ کی ڈویژنز بنانے کے فیصلہ کے خلاف وکلاء نے سیشن کورٹ اورسول کورٹ کے تمام داخلی دروازوں پر تالے لگا دئیے  وکلاء کی جانب سے فاضل جج صاحبان کے عدالتوں کے کمروں کی بھی تالا بندی کردی گئی جس کی وجہ سے ججز بھی عدالتوں میں نہ داخل ہوسکے، وکلاء کی جانب سے میڈیا کو بھی کوریج کی اجازت نہیں دی گئی اور صحافیوں کو بھی اندر جانے سے روک دیاگیا،انصاف کے لئے آنے والے سائلین کوبھی دن بھرخواری کاسامنا رہا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ضلعی عدلیہ کی ڈویژنز بنانے کے خلاف ہڑتال کی کال دی گئی تھی،لاہور بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور دیگر وکلاء کی جانب سے سائلین کوعدالتوں میں کے باہر موجود کسی شخص کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ جنرل سیکرٹری بار ایسوسی ایشن عمار یاسر لگائے گئے تالوں کی خود نگرانی پر مامور رہے  وکلاء نے ججز گیٹ، بابا گراؤنڈ گیٹ، مین گیٹ اور پارکنگ گیٹ جوڈیشل کمپلیکس فیز 2 سیشن کورٹ لاہور کو تالے لگادیئے تھے، وکلاء کی جانب سے سائلین،عدالتی عملہ،پو لیس ملازمین اور جیل وین کو بھی سیشن کورٹ میں داخل نہیں ہونے دیا گیا وکلاء کا کہناہے کہ تالہ بندی کا سبب مقدمات کا ڈسٹرکٹ اور علاقہ وائز منتقلی ہے اس حوالے سے سیکرٹری لاہوربار ایسوسی ایشن کا کہناہے کہ مقدمات کی منتقلی کے باعث وکلاء کو زیادہ سفر اور تنگی کا سامنا کرنا پڑے گا فوری اس فیصلے کوواپس لیاجائے وگرنہ وکلاء مزید راست اقدام پر مجبور ہوں گے واضح رہے کہ وکلاء کی جانب سے ہڑتال اور تالہ بندی کے باعث ججز، عدالتی عملہ اور سائلین مشکلات کا شکار ہوئے اورعدالتی امور کو روکنے کے باعث ہزاروں مقدمات التواء کا شکارجبکہ دور دراز سے آئے سائلین کوبھی خواری کا سامنا رہا اوروہ سارا دن دربدر کی ٹھوکریں کھاتے گھروں کو واپس لوٹ گئے۔

ہڑتال 

مزید :

صفحہ اول -