فلموں میں ملکی ثقافت ا جاگر کرنے کی ضرورت ہے، عینی خان

  فلموں میں ملکی ثقافت ا جاگر کرنے کی ضرورت ہے، عینی خان

  

لاہور(فلم رپورٹر) اداکارہ وماڈل عینی خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں نیا سینما اورفلمسازی کا انداز زور پکڑرہا ہے،  حکومت کی جانب سے سینماؤں گھروں کی بحالی خبر اچھا اقدام ہے جو پاکستانی فلم انڈسٹری کو بلندیوں تک پہنچا سکتا ہے۔عینی خان نے ”پاکستان“سے خصوصی گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ مغربی ہوں یا مشرقی ممالک ان کے ملبوسات میں فرق نمایاں ہے لیکن ان کی اپنی اپنی خوبصورتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم فلموں اورڈراموں میں کسی بھی ملک یا قوم کی عکاسی کرتے ڈریس دیکھتے ہیں تو ہمیں ان کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے۔ لیکن پاکستان فلم انڈسٹری میں اس پرکبھی توجہ نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں کردار کی ڈیمانڈ کوپورا کرنے میں تھوڑی سی کوتاہی برتی جاتی رہی ہے۔ حالانکہ دنیا بھرمیں بننے والی فلموں میں ڈریس ڈیزائنرکا کام بہت اہمیت رکھتا ہے۔ 

مگربدقسمتی سے ہمارے ہاں اس شعبے پرتوجہ ہی نہیں دی جاتی۔ یہاں پرلوگوں کا ایسا مائنڈ سیٹ ہوچکا ہے کہ اس شعبے کی بہتری کے آثاربہت کم دکھائی دیتے ہیں۔عینی خان کا کہنا تھا کہ اگرہم اپنے پڑوسی ملک بھارت کی فلم انڈسٹری بالی وڈ میں بننے والی فلموں اوران کے کرداروں کو دیکھیں توہمیں ان کے لباس سے مختلف علاقوں کی جھلک نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ وہاں پرفلم کا سکرپٹ تیارہونے کے بعد ڈائریکٹر، رائٹراورڈریس ڈیزائنرمل کرباقاعدہ میٹنگز کرتے ہیں اورپھر ان کرداروں کے حوالے سے تحقیق کی جاتی ہے، لوکیشنز دیکھی جاتی ہیں اورپھر کہیں جاکر ڈریس تیارکئے جاتے ہیں۔یہ باقاعدہ ایک اہم شعبہ ہے جس کوہمیشہ پاکستان فلم انڈسٹری میں نظراندازکیا گیا ہے۔ان کے مطابق ایسی صورتحال میں جہاں پاکستان میں نیا سنیما اورفلمسازی کا انداززورپکڑرہا ہے۔

ہے، وہیں فیشن کے شعبے کی خدمات حاصل کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے، اس پر توجہ دی جائے تو شائقین مزید انٹرٹین ہوں گے اوردنیا بھر میں سافٹ امیج بھی جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں عنی خان نے کہاکہ پاکستانی حکومت کی جانب سے سینماؤں گھروں کی بحالی کیلئے فنڈ دینا اور اس پر کام کرنا اچھا اقدام ہے اس سے ہماری فلم انڈسٹری دنیا میں اپنا منفرد مقام حاصل کرسکتی ہے۔

مزید :

کلچر -