بچوں میں کینسر کی بروقت تشخیص میں ڈاکٹر اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، ڈاکٹر علینہ

بچوں میں کینسر کی بروقت تشخیص میں ڈاکٹر اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، ڈاکٹر ...

  

لاہور(پ ر)بچوں میں کینسر کے بارے میں ہر سال 15فروری کو آگاہی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس دن کا مقصد کینسر میں مبتلا بچوں کے علاج میں حائل رکاوٹوں کو اجاگر کرنا ہے۔ کینسرکے مریض بچوں کے لیے قائم عالمی تنظیم کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں بچوں میں کینسر کے علاج کی کامیابی کی شرح 80فیصد تک ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک میں تشخیصی عمل میں تاخیر یا غلط تشخیص اور مخصوص سہولیات تک رسائی میں مشکلات کی وجہ سے صرف 20فیصد مریض بچوں کا علاج کامیاب ہو پاتا ہے۔ اس مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے امسال اس دن کا موضوعہے کہ'' کینسر کے ماہرین کے ذریعے بروقت تشخیص اور بہترین علاج کی مدد سے زندگی کی امید قائم رکھنا ممکن ہے ''۔ پاکستان میں بچوں کے کینسر اور اس کے علاج میں حائل رکاوٹوں پر روشنی ڈالتے ہوئے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر لاہور میں بچوں کے کینسر کی ماہر کنسلٹنٹ ڈاکٹر علینہ صدف نے کہاکہ بدقسمتی سے ہمارے اکثر مقامی ڈاکٹر بچوں میں کینسر کی تشخیص کا خاص تجربہ نہیں رکھتے جس کی وجہ سے بہت سارے بچے کینسر کی بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے محروم رہتے ہیں۔اکثر مریضوں کو کینسر کے علاج کی تمام سہولیات ایک ہی ادارے میں میسر نہیں آتیں۔ مریض کو علاج کے حصول کے لیے مختلف اداروں میں جانا پڑے تو غلط تشخیص اور غیر معیاری علاج کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جبکہ دوسری طرف بہت سارے مریض اس صورتحال سے مایوس ہوکر علاج کو ترک بھی کر دیتے ہیں۔ ہمیں بہت سے ایسے مریضوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جنہیں ابتداء میں غلط تشخیص کی وجہ سے غیر ضروری سرجری یا کینسر کے علاج کی غلط ادویات سے تکالیف اٹھانی پڑیں۔ ڈاکٹر علینہ صدف نے مزید کہا کہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اورریسرچ سنٹر لاہور اور پشاورمیں کینسر کی تشخیص و علاج کی تمام سہولیات ایک ہی چھت تلے میسر ہیں۔ یہاں آنے والے 75فیصد سے زائد مریضوں کو یہ تمام سہولیات بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہیں۔ جبکہ مریضوں کی ضروریات کا احساس کرتے ہوئے ہسپتال میں داخل بچوں اوران کے والدین کو باقاعدہ طور پر کھانا بھی فراہم کیا جاتاہے۔ اس کے علاوہ کینسر میں مبتلا بچوں کی دیکھ بھال خاص طور پر تربیت یافتہ نرسنگ سٹاف اور ماہرین نفسیات کی زیر نگرانی کی جاتی ہے۔ مزید براں ہسپتال میں زیر علاج  بچوں کے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے استاتذہ بھی موجود ہوتے ہیں۔ علاج مکمل ہونے کے بعد بھی ایک طویل عرصے تک بچوں کا وقتا فوقتامخصوص کلینک میں معائینہ کیا جاتاہے تا کہ ان کی صحت پر نظر رکھی جا سکے۔ ان تمام اقدامات کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ علاج مکمل ہونے کے بعد یہ بچے، دیگر بچوں کی طرح ایک کامیاب اور بھر پور زندگی گزار سکیں۔ ڈاکر علینہ کا کہنا تھا کہ تمام ڈاکٹرز میں بچوں کے کینسر کی علامات کی پہچان اور اس کی تشخیص کے حوالے سے بنیاد ی تربیت وقت کی اہم ضروت ہے۔ اس تربیت کی بدولت نہ صرف بچوں کو کینسر کے علاج میں بہتر اور بروقت راہنمائی فراہم کرنا ممکن ہو سکتاہے بلکہ کینسر کے ماہرین کے ذریعے بروقت تشخیص اور بہترین علاج کی مدد سے ہزاروں بچوں کے لیے زندگی کی امید قائم رکھنا بھی ممکن ہو پائے گا۔  

مزید :

کامرس -