ماحولیاتی تبدیلی سے بچاؤ کیلئے جنگلات کا فروغ ناگزیر ہے: شکیل خان 

ماحولیاتی تبدیلی سے بچاؤ کیلئے جنگلات کا فروغ ناگزیر ہے: شکیل خان 

  

     پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیر آبنوشی شکیل خان نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے نقصانات سے بچاؤ کیلئے جنگلات کا فروغ انتہائی ناگزیر ہے اور اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے وژن کے مطابق ملک بھر میں 10 ارب درخت لگانے کا ٹارگٹ مقرر کیا ہے جسے کامیابی کے ساتھ مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی گزشتہ صوبائی حکومت میں پانچ سالوں کے دوران ایک ارب درخت لگائے گئے تھے تاکہ ماحول کے منفی اثرات کو کنڑول کرنے کیلئے موثر اقدامات کئے جاسکیں۔انھوں نے سرکاری اداروں اورعوام دونوں پر زور دیا کہ وہ اس سال موسم بہار کی شجرکاری مہم میں بڑ ھ چڑھ کرحصہ لیں اور اس کارخیر میں اپنا حصہ ڈالیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیر کے روز چکدرہ انٹر چینج کے مقام پر ضلع ملاکنڈ میں محکمہ جنگلات کی وساطت سے شجر کاری کیلئے سرکاری اداروں اور عوام کو مفت پودہ جات کی فراہمی کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ محمد عارف خان، اسسٹنٹ کمشنر بٹ خیلہ محب اللہ خان سمیت کنزرویٹر آف فارسٹ شرقی سرکل، ڈویژنل فارسٹ آفیسر ملاکنڈ،پاک آرمی کے افسران،سرکاری اداروں کے حکام،انجمن تاجران کے عہدیداروں،سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں،عوام اور طلبہ کے علاوہ رضاکاروں کی کثیر تعدادموجود تھی۔واضح رہے کہ ضلع ملاکنڈ میں رواں سیزن میں حکومت کے انقلابی منصوبے 10 بلین ٹریز سونامی شجرکاری مہم کے تحت تقریباََ 118000 پودے سرکاری اداروں کو پلانٹیشن کیلئے فراہم کئے گئے ہیں جبکہ 450000 پودے محکمہ جنگلات لگائے گی اور  22 لاکھ سے زائد پودیں عوام میں  شجر کاری کیلئے تقسیم کئے  جائیں گے جوضلع بھر کے تمام  موزوں مقامات پر لگائے جائیں گے۔منعقدہ تقریب میں صوبائی وزیر نے عوام میں مفت پودے بھی تقسیم کئے جبکہ اس موقع پر محکمہ تعلیم مردانہ و زنانہ کے افسران،پرائیویٹ سکولز کے نمائندوں،سول ڈیفنس،لوکل گورنمنٹ،ٹی ایم اے اور دیگر سرکاری اداروں کے حکام کو پودہ جات فراہم کئے گئے۔منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر شکیل خان کا کہنا تھا کہ شجرکاری اور درخت لگانا نئی نسل کیلئے بہترین سرمایہ کاری ہے اور ہمیں اپنی نئی نسل کی محفوظ مستقبل کیلئے ماحولیاتی تبدیلی سے رونما ہونے والے خطرات و نقصانات کے تدارک کی غرض سے منصوبہ بندی کرنی ہوگی جس کا واحد حل جنگلات کے کٹاؤ کا کنٹرول اور شجر کاری کا فروغ ہے۔انھوں نے کہا شجرکاری کرنے کے بعد اس کی حفاظت میں عوام کا انتہائی اہم کردار ہے اس لیے ہمارے معزیز ین اور عوام کو اس میں اپنا کردار ادا کر نا ہوگا۔انھوں نے اس موقع پر تھائی لینڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں پودے تو لگائے جاتے ہیں تاہم ان کو بلا اجازت کاٹنے کی کسی کو  اجازت نہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہاں پر جنگلات کے فروغ کی وجہ سے بارش ہوتی ہیں جس کے باعث پانی کی کمی نہیں ہوتی اور وہاں زراعت  کا شعبہ ترقی کر رہا ہے۔اس موقع پر انھوں نے  پودا لگا کر باقاعدہ طور پر موسم بہار کی شجرکاری مہم کا باضابطہ افتتاح بھی کیا۔تقریب سے ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ محمد عارف خان و دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ سرکاری اداروں کے سربراہان نے ایک ایک پودابھی لگایا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -