تشدد پر اکسانے کے مقدمے کی سماعت کرائون کورٹ میں ختم، مجھے کسی بات پر پچھتاوا نہیں: بانی ایم کیوایم 

تشدد پر اکسانے کے مقدمے کی سماعت کرائون کورٹ میں ختم، مجھے کسی بات پر پچھتاوا ...
تشدد پر اکسانے کے مقدمے کی سماعت کرائون کورٹ میں ختم، مجھے کسی بات پر پچھتاوا نہیں: بانی ایم کیوایم 
سورس: Wikimedia Commons

  

لندن (ویب ڈیسک) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم ) کے بانی کے خلاف تشدد پر اکسانے کے مقدمے کی سماعت برطانیہ کی کنگسٹن کرائون کورٹ میں ختم ہوگئی،  جیوری نے مسز جسٹس مے کے سامنے کیس پر تفصیلی بحث کی، تاہم وہ کوئی فیصلہ نہ کرسکے۔

اس سے قبل بانی ایم کیو ایم کے خلاف کیس میں وکلاء کے دلائل مکمل ہوئے تھے، پیر کے روز کنگسٹن کرائون کورٹ کی 12 رکنی جیوری نے مسز جسٹس میری کے سامنے کیس پر تفصیلی بحث کی تاکہ فیصلہ کیا جاسکے کہ بانی متحدہ نے جرم کا ارتکاب کیا ہے یا نہیں، تاہم وہ کوئی فیصلہ نہ کرسکے ،  جب کہ بانی متحدہ روز عدالت سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے رہے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ہرقسم کے نتائج کے لیے تیار ہیں ،  نہ ہی میں معافی مانگوں گا اور نہ ہی مجھے کسی بات پر پچھتاوا ہے۔ میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔ احتجاج کے دوران پاکستان مخالف نعرے بازی پر میں معافی مانگتا ہوں لیکن مہاجروں کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے میں نے جو کچھ کیا اس کا مجھے کوئی پچھتاوا نہیں، میں نے جو کچھ کہا میں اس پر قائم ہوں۔

بانی متحدہ نے تمام الزامات کو مسترد کردیا تھا ۔ جب کہ پراسیکویشن کا کہنا تھا کہ انہوں نے چھ برس قبل اپنی دو تقریروں میں عوام کو تشدد پر اکسایا تھا۔ جج نے جیوری کو ہدایت کی تھی کہ بانی متحدہ کے کیس میں برطانیہ کے قوانین کا اطلاق ہوگا ، پاکستان کے قوانین کا اطلاق نہیں ہوگا۔

مزید :

برطانیہ -