سعودی عرب میں کسی کو بھی آن لائن چیٹنگ کرتے ہوئے بغیر رضا مندی"دل"والا ایموجی بھیجنے پر کتنا جرمانہ اور سزا ہو سکتی ہے ؟  

سعودی عرب میں کسی کو بھی آن لائن چیٹنگ کرتے ہوئے بغیر رضا مندی"دل"والا ...
سعودی عرب میں کسی کو بھی آن لائن چیٹنگ کرتے ہوئے بغیر رضا مندی

  

ریاض(ڈیلی پاکستان آن لائن)سعودی عرب میں بغیر رضامندی کسی کو" دل "والا ایموجی بھیجنے والے کو 1 لاکھ سعودی ریال(46 لاکھ پاکستانی روپے )جرمانہ اور 2سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے ۔

"گلف نیوز "کے مطابق سعودی اخبار کو انٹرویو میں اینٹی فراڈ ایسوسی ایشن کے رکن نے بتایا کہ بغیر اجازت کسی کو بھی دل والا ایموجی بھیجنا سعودی قوانین کے تحت آن لائن ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے جس کی سزا 1 لاکھ ریال (46 لاکھ سے زائد پاکستانی روپے) اور 2 سال قید ہوسکتی ہے۔اینٹی فراڈ ایسوسی ایشن کے رکن نے واٹس ایپ صارفین کو متنبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر کوئی شخص دوسری بار بھی اس جرم کا مرتکب پایا گیا تو جرمانہ بڑھ کر 3 لاکھ ریال اور قید کی سزا  5 سال تک ہوسکتی ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ واٹس ایپ پر کسی کی مرضی کے بغیر ان کی تصاویر بھی شیئر کرنا قابل گرفت جرم ہے۔ سائبر کرائم کے بڑھتے  واقعات کو دیکھتے ہوئے ان قوانین کو متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید :

عرب دنیا -