نریندر مودی کی لذیز ڈشیں اورکھانا مولوی صاحب کی مجبوری لیکن بھائیوں کا خون۔۔۔

نریندر مودی کی لذیز ڈشیں اورکھانا مولوی صاحب کی مجبوری لیکن بھائیوں کا ...

لاہور(نعمان تسلیم)جب وہ عالم دین اور اسلام کا خدمت کار، نریندر مودی کا سرکاری مہمان رہا ہو گا تو کیا اس کے دل میں ایک بار بھی یہ خیال نہیں آیا ہو گا کہ وہ اسی لیڈر کا مہمان ہے جس کی وزارت اعلیٰ کے دنوں 2002ءمیں گجرات میں 1,000 سے زائد مسلمان عورتوں، مردوں اور بچوں کو ہندو بلوائیوں نے سرعام قتل کیا تھا اور 200 سے زائد مسلمانوں کے گھر جلا دیئے تھے۔ کیا اسے یہ خیال بھی نہ آیا ہو گا کہ کس طرح گجرات اسمبلی کا ایک مسلمان ممبر آخری دم تک پولیس سے مدد مانگتا رہا لیکن کوئی اس کی مدد کو نہ آیاا ور ہندو فسادیوں نے اسے گھر میں اس کے خاندان سمیت زندہ جلا دیا۔ یہ وہی نریندر مودی تھا جو وقتاً فوقتاً پاکستان اور مسلمانوں کو سبق سیکھانے کی بات کرتا ہے اور جس کے دور اقتدار میں مسلمانوں کی مساجد کی بے حرمتی عام سی بات ہو کر رہ گئی تھی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ مذہبی رہنماءکوئی اور نہیں بلکہ ڈاکٹر طاہر القادری ہیں جن کا ویزہ حال ہی میں بھارت نے یہ کہہ کر مسترد کیا ہے کہ اس وقت بھارت میں الیکشن کی آمد آمد ہے اس لئے انہیں ویزہ جاری نہیں کیا جا سکتا۔ ڈاکٹر طاہر القادری وقتاً فوقتاً بھارت جاتے رہتے ہیں اور فروری 2012ءمیں نریندر مودی کے مہمان خصوصی تھے۔ احمد آباد میں انہوں نے بھگوت گیتا اور قرآن کے پیغام پر دو گھنٹے تقریر بھی کی ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ گجرات میں فساد پر کیا کہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ صرف امن و محبت کا پیغام لے کر آئے ہیں اور گجرات کے وزیراعلیٰ کے شکرگزار ہیں کہ انہیں بہت زبردست سیکیورٹی دی گئی۔ یقینا بھارت کا ڈاکٹر طاہر القادری کو ویزہ دینے سے انکار پر نریندر مودی کو دکھ تو ضرور ہوا ہو گا تاہم وہ آنے والا الیکشن جیت کر اس دکھ کا مداوا بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں اور ڈاکٹر طاہر القادری کو بھارت میں ’ویزہ فری‘ انٹری بھی دے سکتے ہیں تا کہ اگلی بار ڈاکٹر صاحب کو بھارت آنے جانے میں کوئی دقت نہ ہو۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...