اسرائیل امریکہ کے آگے ’جھک‘ گیا

اسرائیل امریکہ کے آگے ’جھک‘ گیا

تل ابیب(مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کے وزیرِ دفاع موشے یالون نے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کے بارے میں اپنے بیان پر ان سے معافی مانگ لی ہے۔ایک اسرائیلی اخبار میں شائع ہونے والے ان سے منسوب بیان میں موشے یالون نے مشرق وسطیٰ کے بارے میں جان کیری کی پالیسی کو ’مسیحانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس بار جب وہ اسرائیل آئے تو انھوں نے کچھ چیزیں ذہن پر حاوی کر رکھی تھیں اور ایسا لگتا تھا کہ وہ یہ سب کچھ’مسیحانہ‘ جذبے سے کر رہے تھے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’جان کیری نے وادی اردن کے لیے جو سیکیورٹی منصوبہ اسرائیل کے سامنے رکھا تھا وہ اس کی اہمیت اس کاغذ جتنی بھی نہیں تھی جس پر وہ تحریر تھا‘ اور یہ کہ امریکی وزیرِ خارجہ انہیں مسئلہ فلسطین کے بارے میں کچھ سکھا نہیں سکتے۔اسرائیلی اخبار کے مطابق انھوں نے یہ تبصرہ نجی بات چیت کے دوران کیا تھا۔

اس بیان پر امریکی حکام نے منگل کو اپنے قریبی حلیف اسرائیل کی سرزنش کی تھی اور کہا تھا کہ اگر یہ بیان درست ہے تو یہ انتہائی ’ناگوار گزرنے والا‘ اور ’نامناسب‘ بیان ہے۔بی بی سی کے مطابق امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی سرزنش ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔اسرائیلی وزیرِ دفاع نے اپنے معذرتی بیان میں کہا ہے کہ ’ اسرائیل اور امریکہ دونوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ جان کیری کی قیادت میں اسرائیل اور فلسطین کی امن بات چیت کو آگے بڑھایا جائے۔‘بیان میں اسرائیل کی وزارتِ دفاع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’ہم اس سلسلے میں سینیٹر کیری کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں اور وزیرِ دفاع امریکی وزیر کو ناراضگی کی کوئی وجہ نہیں دینا چاہتے اور اگر ان سے منسوب الفاظ سے جان کیری کو تکلیف پہنچی تو وہ اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔‘

مزید : بین الاقوامی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...