ایپل اور سام سنگ کو سبق سکھانے کے لیے فیس بک کاوہ منصوبہ جس پر عمل نہ ہوسکا

ایپل اور سام سنگ کو سبق سکھانے کے لیے فیس بک کاوہ منصوبہ جس پر عمل نہ ہوسکا
ایپل اور سام سنگ کو سبق سکھانے کے لیے فیس بک کاوہ منصوبہ جس پر عمل نہ ہوسکا

  

بیجنگ (نیوز ڈیسک) امریکی کمپنیاں ایپل اور گوگل موبائل فون کی دنیا میں نمایاں ترین مقام رکھتے ہیں لیکن گزشتہ ماہ ایک ایسا موبائل فون آتے آتے رہ گیا کہ جو ان دونوں دیوہیکل کمپنیوں کو کہیں پیچھے چھوڑ سکتا تھا۔ چین کی ٹیکنالوجی کمپنی Xiaomi کو چین کا ایپل کہا جاتا ہے اور اکثر اس پر الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ ایپل کی ٹیکنالوجی کی نقل تیار کرتا ہے۔ گزشتہ ماہ یہ کمپنی فیس بک کے ساتھ ایک ڈیل کرنے والی تھی جس کے نتیجہ میں ایک ایسا موبائل فون تیار کیا جانا تھا جو بڑی بڑی کمپنیوں کو مشکل میں ڈال دیتا۔

انڈر ویئر کے مردوں کی صحت پر اثرات ،سائنسدانوں نے مشورہ دے دیا ،جاننے کیلئے کلک کریں

ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی کمپنی نے گزشتہ ماہ ایک ارب ڈالر (تقریباً ایک کھرب پاکستانی روپے) کا فنڈ اکٹھا کر لیا تھا اور فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ نے چینی کمپنی کے سربراہ لی جن سے ملاقات بھی کی تھی لیکن دونوں طرف سے خدشات کے بعد اس نئے فون کے منصوبے کا آغاز ہوتے ہوتے رہ گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فیس بک کو خدشہ تھا کہ Xiaomi کی طرف سے مطلوبہ فنڈز کی فراہمی میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جبکہ دوسری جانب چینی کمپنی کو خدشہ تھا کہ ان کی حکومت فیس بک کے ساتھ بڑے معاہدے کو پسند نہیں کرے گی۔ یاد رہے کہ چین میں فیس بک کو 2009ءسے پابندیوں کا سامنا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -