2015ء معاشی بحالی کا سال ہے

2015ء معاشی بحالی کا سال ہے
2015ء معاشی بحالی کا سال ہے

  

صنعت وتجارت کی دنیا میں یونائیٹڈ بزنس گروپ نے بہت بڑی تبدیلی پیدا کردی ہے اور حال ہی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے ہونے والے انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کی ہے، صدر، سینئر نائب صدر اور نائب صدر سمیت تمام سیٹوں پر بھرپور کامیابی حاصل کی ہے، یقیناً اس کامیابی کا سہرا بزنس لیڈر افتخار علی ملک کے سر جاتا ہے جس نے اپنی مضبوط ٹیم کے ساتھ ایک کامیاب حکمت عملی اپنا کر اتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہے بظاہر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز کے انتخابات ہرسال باقاعدگی کے ساتھ ہوتے تھے ، لیکن ذہین اور کامیاب صنعت وتجارت کے لیڈروں کو عین وقت پر ناکام بنادیا جاتا تھا اور ایک ایسے امیدوار کا انتخاب کرنے کا حکم دیا جاتا تھا جسے اس کے اپنے بزنس میں کوئی خاص مقام حاصل نہیں ہوتا تھا۔ یہی سبب ہے کہ ایک شخص کے آمرانہ فیصلوں کے خلاف پوری بزنس کمیونٹی میں اتنا شدید ردعمل پیدا ہوا کہ بالآخر افتخار علی ملک اور اس کے ساتھیوں کو یونائیٹڈ بزنس گروپ تشکیل دینا پڑا۔ جس نے جمہوری روایات کی پاسداری کرتے ہوئے تمام امیدواروں کو پورا موقع دیا کہ وہ خود اپنے نئے صدر اور باقی امیدواروں کا انتخاب کریں اس مرتبہ صدارت کا عہدہ میاں محمد ادریس نے اکثریتی ووٹوں سے حاصل کیا ہے لیکن میاں محمد ادریس کا نام کسی ایک نے نامزد نہیں کیا تھا بلکہ یونائیٹڈ بزنس گروپ نے متفقہ طورپر انتخاب کیا تھا۔

صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد نئے صدر میاں محمد ادریس سے گپ شپ ہوئی تو ایک نئی حکمت عملی سے آگاہی ہوئی جس کے نتیجے میں ایک طرف فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا تو دوسری طرف پورے پاکستان میں صنعت وتجارت کے اہم مسائل حل کروانے کے لئے اس کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔ ، ایک طرف فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز کی اہمیت اتنی کم ہوگئی تھی کہ سرکاری میٹنگوں میں بھی اسے مدعو نہیں کیا جاتا تھااور اب یکایک ایسی انقلابی تبدیلی آئی ہے کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے میاں محمد ادریس کو صدر بننے کی بھرپور الفاظ میں مبارکباد دی ہے اور ساتھ ہی کہا ہے کہ وہ بزنس کمیونٹی کے تمام مسائل میرے پاس لے کر آئیں اور پاکستان میں صنعت وتجارت کا پہیہ تیزی سے چلانے کے لئے ان کے پاس جو آئیڈیاز ہیں انہیں بھی تحریری شکل میں پیش کریں۔

فیڈریشن کے نئے صدر نے بتایا ، میں نے اپنی پہلی تقریر میں ہی 2015ء کو معاشی بحالی کا سال قرار دے دیا ہے ، یہ مجھے انتہائی خوشی ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی سے دلچسپی رکھنے والی شریف قیادت نے اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے حکومت کی طرف سے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے، یہ کام حکومت کی امداد کے بغیر ہونا ممکن نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں میری وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو تجویز ہے کہ اس وقت پاکستان کے اسی فیصد مسائل کا تعلق معاشی سرگرمیوں کی سست روی سے ہے۔ اگر حکومت تھوڑی سی محنت کرے تو پاکستان کی معیشت صحیح پٹڑی پر آسکتی ہے اور اس کے بعد اسے روکنا بہت مشکل ہوگا ۔ جس طرح مغرب میں ون ونڈو کا کامیاب تجربہ ہوا ہے۔ اس تجربے سے ہمیں بھی فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے، مختلف محکموں میں ون ونڈو کی وجہ سے عوام کی مشکلات میں کمی ہوئی ہے۔ لیکن اس وقت سب سے اہم مشکلات صنعت و تجارت کے حلقوں کی ہیں ۔ اجتماعی مسائل حل کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف فیڈریشن کے ممبران کے ساتھ ایک میٹنگ رکھیں جس میں متعلقہ سرکاری اداروں کے سربراہ بھی شریک ہوں۔ انتہائی مختصر وقت میں اجتماعی نوعیت کے حل طلب مسائل وزیراعظم کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے اور ان کے لئے آسانی ہوگی کہ جس طرح کھلی کچہری میں مسائل حل کر دیتے تھے بالکل ویسے ہی صنعت وتجارت کے جائز مسائل فوراً حل کرنے کے احکامات جاری کریں اور ایک حکومتی اور فیڈریشن کی کمیٹی بنادی جائے جو نہ صرف رابطے کا کام انجام دے بلکہ ان احکامات پر عملدرامد نہ ہونے کی صورت میں وزیراعظم کو بھی باخبر رکھے۔ 2015ء معاشی بحالی کا سال ہے اور میاں نواز شریف اس سلسلہ میں بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں۔

مزید :

کالم -