غالب اور بے وفا لوگ

غالب اور بے وفا لوگ
غالب اور بے وفا لوگ

  

مجیب الرحمن شامی صاحب کے تازہ کالم انداز بیاں اور کو پڑھ کر مجھے ان بے وفا لوگوں کی فہرست یاد آگئی جنہیں اپنے اسد اللہ غالبؔ نے مرتب کررکھا ہے۔ عنوان سے پہلے میں نے بھی دھوکہ کھایا، لیکن قصور کا ذکر آتے ہی پتہ چل گیا کہ یہ تو اپنے غالبؔ کا احوال بیان ہورہا ہے۔ میں نے دوسری مرتبہ تفصیل سے پڑھا لیکن پہلے سانس روک کر تیزی سے حیران پریشان ہوکر کالم کے آخر تک پہنچ کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ اپنے غالب کی اتنی فصاحت اور بلاغت کے ساتھ تعریف کا سبب کیا ہے۔

آخر میں جاکر یہ کھل گیا کہ یہ دراصل غالبؔ کی کتاب ’’ضرب عضب‘‘ کا دیباچہ ہے۔ لگتا ہے غالب کا ذکر ہی اتنا بھاری پڑ گیا کہ اصل کتاب کے مندرجات کی باری نہیں آئی۔ یقیناً شامی صاحب نے یہ دیباچہ غالب صاحب کی ’’درخواست ‘‘ پر لکھا ہوگا لیکن میرے اندازے کے مطابق اس کا انہیں بالواسطہ یہ فائدہ ضرور ہوا ہوگا کہ غالب نے ان کا نام اپنی بے وفا لوگوں کی فہرست سے خارج کردیا ہوگا۔ کم ازکم وقتی طورپر ۔

غالبؔ کے لئے بیان کی گئی تمام صحافتی خوبیاں برحق۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان خوبیوں کے بیان کے لئے ایک مختصر سا دیباچہ یا کالم کافی نہیں ہے۔ اگرچہ شامی صاحب نے ایک بے کراں سمندر کو ایک چھوٹے سے کوزے میں بند کردیا ہے۔ اگر پورا انصاف کرنا ہوتو پھر اس کے لئے ’’ضرب عضب ‘‘ جیسی ایک الگ کتاب لکھنی پڑے گی ۔ سنجیدہ بات یہ ہے کہ غالب جتنا عظیم صحافی ہے وہ اتنا ہی بڑا انسان، کہیں زیادہ مخلص، زندہ دل اور ہنس مکھ دوست اور محفلوں کی جان انتہائی زوردار سماجی اور ثقافتی شخصیت ہے۔ لیکن معاف کیجئے میں مزید سنجیدہ باتیں نہیں لکھوں گا ورنہ میں اپنے موضوع سے ہٹ جاؤں گا۔

بات چلی تھی بے وفا لوگوں کی فہرست سے جو غالبؔ نے مرتب کررکھی تھی اور آج سے ٹھیک ایک سال قبل جب میں لاہور میں تھا تو اس نے مجھ سے شیئر کی تھی۔ اس سلسلے میں میرے ساتھ جو دھوکہ ہوا اس کا ذکر میں بعد میں کروں گا لیکن ایک وضاحت کردوں کہ یہ فہرست مستقل چیز نہیں ہے، ہر نئی ڈیولپمنٹ کے نتیجے میں لوگ اس میں داخل یا اس سے خارج ہوتے رہتے ہیں۔ ’’لوگ‘‘ کا لفظ میں نے ایسے ہی لکھ دیا۔ یہ دراصل سارے غالبؔ کے دوست ہیں جنہیں ’’بے وفا‘‘ قرار دے کر اس فہرست میں داخل کر دیا گیا غالب ’’وفا دار‘‘ دوستوں کا ذکر نہیں کرتا۔ یہ خود سمجھ لیں کہ جو بے وفا لوگوں کی فہرست میں نہیں ہے، وفاداروں میں شامل ہوگا۔

غالبؔ کے دوستوں کی اس فہرست میں آنے جانے والے لوگوں میں شعیب بن عزیز، مجیب الرحمان شامی ، ضیا شاہد، پروفیسر شفیق جالندھری، پروفیسر مسرورکیفی، قدرت اللہ چودھری، وحید رضا بھٹی اور اظہر زمان شامل ہیں۔ شاید ارشاد احمد عارف اور رؤف طاہر مستقل ’’خوارج‘‘ قرار دے دیئے گئے ہوں میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا۔

اپنے اسد اللہ غالبؔ سے میرا تعارف شاید 1978ء میں میرے امریکن سنٹر جوائن کرنے سے پہلے بھی تھالیکن ان سے کچی پکی دوستی اس کے بعد ہوئی۔ ان کی تب چھوٹی سی خشخشی داڑھی تھی۔ پھر وہ اچانک ایک دن کلین شیو ہوگئے۔

مجیب الرحمن شامی اور شعیب بن عزیز جیسا فقرہ کسنے کا فن بہت کم لوگ جانتے ہیں لیکن اسد اللہ غالب محفل میں رنگ بھرنے اور رنگ جمانے میں یکتا ہے۔ سو مجلس کا آل راؤنڈ کھلاڑی ہے۔ بلے بازی ہو، بالنگ ہو یا فیلڈنگ اس سے جیتنا مشکل ہے۔ یہ نہیں وہ ہمیشہ ہلکی پھلکی گفتگو کرتا ہے۔ وہ ہر ٹیکنیکل اور نان ٹیکنیکل موضوع پر پوری سنجیدگی سے مدلل اور معلومات سے بھرپور گفتگو کرسکتا ہے۔ وہ عام صحافیوں کی نسبت کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی نہ صرف تھیوری سے زیادہ آگاہ ہے بلکہ وہ اس کے عملی اطلاق پر بھی دسترس رکھتا ہے۔

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ امریکہ میں اردو صحافت کا جو جدید نظام رائج ہے اس کی بنیاد اسداللہ غالبؔ نے رکھی اس نے نیویارک میں اپنے چند ماہ کے قیام کے دوران دیکھا وہاں اردو کمپوزنگ ، ڈیزائننگ اور فائنل کاپی پرنٹنگ پریس تک بھیجنے کے مراحل پرمالکان کے بہت اخراجات ہوتے ہیں اس نے وہاں ایک مالک کوپورا اخبار پاکستان سے کمپوز اور تیار کراکر انٹرنیٹ کے ذریعے واپس بھیجا جس کی صرف پرنٹنگ نیویارک کے پریس میں ہوئی۔ وہ اخبار تو بعد میں بند ہوگیا لیکن دوسرے اردو اخبارات نے وہ طریقہ اپنا لیا اور آج تک اسی انداز سے نسبتاً کم لاگت کے ساتھ یہ اخبارات پاکستان سے تیار ہورہے ہیں۔

اسداللہ غالبؔ جس دلیری کے ساتھ مذاق کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ حوصلے کے ساتھ دوسروں کا مذاق برداشت کرتا ہے اس جیسا کھلا دل، کھلا ذہن اور وسیع ظرف بہت کم لوگوں کے پاس ہے۔ وہ بڑے سے بڑا مذاق مسکراتے ہوئے برداشت کرلیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کو غصہ نہیں آتا۔ اس کو جب دوستوں کے رویے سے دکھ پہنچتا ہے تو پھر اسے یاد نہیں رہتا کہ اس کے منہ سے کیا نکل رہا ہے، میں نے اسے ایسے عالم میں لال پیلا ہوتے دیکھا ہے جب غصے سے اس کے منہ سے جھاگ نکل رہی ہوتی تھی۔

میں اس کی وسیع الظرفی کاعینی شاہد ہوں۔ امریکن سنٹر لاہور کے ٹاپ فلور پر میرا دفتر تھا جہاں گراؤنڈ فلور پر ہمارے سیکشن کا پریس لاؤنج تھا جس کا میں نگران تھا میں نے اپنی ذاتی دلچسپی کے باعث اسے ایک طرح کا غیر رسمی پریس کلب بنادیا تھا۔ میرے بہت سے دوست سمجھتے تھے کہ وہاں خاطر تواضع کے لئے شاید سرکاری فنڈ میسر تھا جو غلط تھا۔ میں اپنی جیب سے وہاں مہمان نوازی کرتا تھا اور خوش ہوکر کرتا تھا کہ اسے ہم سب مل کر انجوائے بھی بہت کرتے تھے۔

اسد اللہ غالب سمیت تمام صحافی دوست وہاں باقاعدگی سے آتے تھے۔ ایک مرتبہ ضیا شاہد نے تجویز کیا کہ ’’حلقہ ارباب ذوق‘‘ کی طرز پر ’’حلقہ ارباب مذمت‘‘ کے نام سے ایک تفریحی مجلس قائم کی جائے۔ ضیا شاہد مستقل صدر منتخب ہوگئے۔ طے پایا کہ ہر ہفتے ایک مہمان خصوصی کو مدعو کیا جائے جس کی مجلس کے ارکان جی بھر کر مذمت کریں ۔

سب سے پہلے مہمان خصوصی کے لئے اسداللہ غالب کا نام تجویز ہوا جنہوں نے فوراً قبول کرلیا۔ شعیب بن عزیز، شفیق جالندھری ، مسرور کیفی اور خود ضیا شاہد سمیت سب نے جی کھول کر تبرہ کیا اور دل کی بھڑاس نکالی۔ غالب مسکرا کر سب کچھ سنتے رہے۔ پہلی مجلس کے اختتام پر اراکین کی رائے یہ تھی کہ غالب کو برابھلا کہنے کے لئے ان کے پاس مواد ابھی ختم نہیں ہوا۔ اس لئے اس مقصد کے لئے ایک اور نشست منعقد کی جائے۔ اس طرح اگلے ہفتے کی توسیعی نشست میں مزید غبار نکالا گیا غالب تو یہ سب کچھ برداشت کر گیا۔ لیکن اس کے بعد کسی نے مہمان خصوصی بننے کی ہمت نہیں کی۔ اس طرح دو ہفتے کے بعد یہ ’’مجلس احباب مذمت ‘‘ خود ہی ختم ہوگئی۔

اسد اللہ غالبؔ ، عارف نظامی کے علاوہ دوسرا صحافی تھا جسے میں نے دو مرتبہ انٹرنیشنل وزیٹر پروگرام کے لئے نامزد کیا اور منظوری حاصل کی۔ دوسری دفعہ نامزدگی کا راستہ خود غالب نے دکھایا۔ غالب نے ہمارے قانون کا جائزہ لے کر بتایا کہ اس پروگرام کے لئے سات سال بعد ٹھوس وجوہات موجود ہوں تو دوبارہ نامزدگی ہوسکتی ہے۔ سات سال کا عرصہ گزر چکا تھا اور ہم نے مل کر ایک ٹھوس کیس تیار کیا اور اس میں کامیابی حاصل کرلی۔

میرا موضوع اور علم غالب کی میڈیا میں دوستیوں تک محدود ہے۔ غالب کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی حلقوں میں وسیع تعلقات ہیں۔ ان کے بارے میں مجھے کچھ نہیں کہنا ہے۔ البتہ میڈیا کی جن دوستیوں کا میں ذکر کررہا ہوں ان کے بارے میں یہ تسلیم کرنا چاہتا ہوں کہ میں ایک دفعہ دھوکہ کھاچکا ہوں۔ اس لئے میں سب کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ وہ بھی اس دھوکے میں نہ آئیں۔

میں نے عمرانی یارومانوی شعبے میں ایک نیا تصور متعارف کرایا ہے کہ محبت اور نفرت کے درمیان ایک ’’عدم محبت‘‘ کی کیفیت بھی ہوتی ہے۔ میں نے اپنے تجربے کی روشنی میں اس کا غالب پر اطلاق کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ اپنے میڈیا کے دوستوں کے سرکل میں نفرت تو بالکل نہیں کرتا۔ البتہ وہ کچھ سے محبت کرتا ہے اور کچھ سے ’’عدم محبت‘‘ لیکن مزید گہرائی میں جانے سے پتہ چلا کہ میں جن سے ’’عدم محبت‘‘ کا تعلق سمجھتا تھا وہاں اصلی معاملہ تو محبت سے بھی زیادہ گہرا ہے۔

اب میں گزشتہ برس کے تجربے کی روشنی میں بہ بانگ دہل یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ وہ شخص بہت بڑاڈرامہ باز ہے جس کا نام اسد اللہ غالب ہے۔ میں یکم جنوری 2014ء کو یہاں امریکہ سے لاہور گیا اور چھ ہفتے گزارنے کے بعد بڑی محنت کرکے اپنے آپ کو غالب کے بے وفا لوگوں کی فہرست سے خارج کروایا۔ مجھے اپنے قیام کے دوران غالب اور شعیب بن عزیز کے درمیان کھچاؤ محسوس ہوا کیونکہ انہوں نے ایک دوسرے کی تقریبات میں شرکت نہیں کی تھی۔ پہلی نظر میں مجھے لگا کہ پتہ نہیں کتنے عشروں سے چلے آنے والے گہرے دوست محبت کے دائرے سے نکل کر ’’عدم محبت‘‘ کے شعبے میں داخل ہوچکے ہیں۔

واپس آنے سے پہلے اپنے آخری ہفتے میں میں نے اپنے اب تک حاصل نتائج کی تصدیق کے لئے غالب کا انٹرویو کیا۔ میری توقع کے عین مطابق اس نے بتایا کہ لاہور کے بے وفا لوگوں میں سر فہرست شعیب بن عزیز ہے۔ اس کے بعد دو اور نام بھی لئے جن کا تذکرہ کروں تو بات لمبی ہوجائے گی۔ غالب نے جی بھر کر غبار نکالا۔ پھر مجھے پتہ چلا کہ چھوٹے موٹے مسئلے اپنی جگہ لیکن ان کے درمیان باقاعدہ روزانہ کی بنیاد پر بات ہوتی رہتی ہے۔ الوداعی کال میں میں غالب سے دوبارہ شعیب کے بارے میں پوچھ بیٹھا۔ غالب مجھ پر برس پڑا۔ تم کون ہوتے ہو امریکہ سے آکر یہاں ہمارے معاملات میں مداخلت کرنے والے۔ جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے کچھ لپیٹ کر تسلیم کرلیا کہ چھوٹے موٹے معاملات جاری رہتے ہیں لیکن بنیادی دوستی تو بہرحال قائم ہے۔ اس طرح لاہور کے بے وفا لوگوں کے بارے میں ڈرامہ باز اسد اللہ غالب کی باتوں میں ایک مرتبہ آگیا تھا۔ آئندہ اس دھوکہ میں نہیں آؤں گا۔

مزید :

کالم -