سیاسی اور سفارتی سطح پر نئی حکمت عملی

سیاسی اور سفارتی سطح پر نئی حکمت عملی
سیاسی اور سفارتی سطح پر نئی حکمت عملی

  

پاکستان کے دیرینہ ’’دوست‘‘ امریکہ بہادر کے وزیر خارجہ مسٹر جان کیری کا پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے دورے کے بعد ہمارے وزیر اعظم نوازشریف، آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز سے میٹھی میٹھی باتیں کرنا بہت عجیب سا لگا۔ ایک بار تو ہم نے سوچا کہ ساقی نے کچھ ’ملا نہ دیا ہو‘ شراب میں! ورنہ امریکہ بہادر کا وزیر خارجہ یہ کیسے کہہ سکتا ہے۔ ’’دہشت گرد امریکہ اور پاکستان کے مشترکہ دشمن ہیں لہٰذا پاکستان سے امریکی تعاون جاری رہے گا۔‘‘ یہ خوبصورت جملہ سن کر یہی کہا جا سکتا تھا کہ خوشی سے مر نہ جانتے، اگر اعتبار ہوتا! در اصل ماضی گواہ ہے کہ امریکہ ہمیشہ مفاداتی پالیسی پر عمل کرتا رہا ہے۔ محض زبانی کلامی دوستی کا دم بھرتا رہتا ہے۔ مطلب پورا ہوتے ہی آنکھیں ماتھے پر رکھ لینے کا عادی ہے۔ چنانچہ موجودہ حالات میں جب امریکی وزیر خارجہ نے دہشت گردوں کو مشترکہ دشمن قرار دیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا تو یقین نہیں آ رہا تھا۔ امریکی دوستی اور تعاون کے حوالے سے پنجابی کا ایک طنز سے بھرپور نعرہ بھی یاد آ گیا۔ ’’تازہ خبر آئی اے تے امریکہ ساڈا بھائی اے۔‘‘امریکی پالیسی میں قول او رفعل کا تضاد نمایاں ہے اور اسی تضاد پر تنقید کرتے ہوئے کئی سال پہلے جماعت اسلامی کے امیر مرحوم و مغفور قاضی حسین احمد نے یہ نعرہ دیا تھا۔۔۔ ’’ امریکہ کا جو یار ہے، غدار ہے، غدار ہے!‘‘ یہ نعرہ قوم کے جذبات اور احساسات کی بھرپور ترجمانی کرتا تھا، چنانچہ عوام میں بے حد مقبول ہوا۔ اس نعرے کے ساتھ قاضی صاحب نے بھرپور مہم چلائی تھی تو وہائٹ ہاؤس میں امریکی انتظامیہ تلملا کر رہ جاتی تھی۔ گزشتہ ہفتے قاضی حسین احمد کی برسی کا خاص طور پر اہتمام کیا گیا کہ امیر جماعت سراج الحق کی ہدایت پر جماعت اسلامی لاہور کو یہ اعزاز حاصل ہوا۔ اس کی تفصیل بعد میں ہو گی، فی الحال تو امریکی یاری کا ذکر مقصود ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی یہی نوازش کیا کم تھی کہ وہ بھارت یاترا پر گئے تو واپسی پر پاکستان کا بھی دو روزہ دورہ کیا۔ اُن کی نوازشات میں یہ بات بھی شامل تھی کہ انہوں نے سانحہ پشاور پر تعزیت کی۔ جی ایچ کیو میں انہوں نے شہداء کی یادگار پر پھول چڑھائے اور سلامی دی۔ جنرل راحیل شریف اور ان کے رفقاء سے مذاکرات کئے کہ پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا۔ وزیر اعظم سے مذاکرات کے دوران فوجی قیادت بھی موجود ہوا کرتی تھی۔ اس مرتبہ جان کیری نے فوجی قیادت کے ساتھ علیحدہ بات چیت کی۔ مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ ان کے مذاکرات اور تفصیلی پریس کانفرنس سے یہی لگتا تھا کہ امریکہ ایک نئے عزم کے ساتھ باہمی تعلقات کی بنیاد رکھنا چاہتا ہے، جسے مضبوط بنانے کے لئے چھ ورکنگ گروپس بنائے گئے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان نے امریکہ اور اتحادیوں کی جنگ گزشتہ تیرہ سال سے لڑی ہے۔ فوجی اور سول قربانیوں کی انتہا کر دی۔ امریکہ زبانی جمع خرچ سے کام چلاتا رہا۔ جب افغانستان سے روس کو نکال کر (مجاہدین کی مدد سے) پاکستان کے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے ناقابل یقین کارنامہ انجام دیا تھا تو امریکی صدر جمی کارٹر نے انہیں اس قدر معمولی رقم بطور امداد پیش کی کہ جنرل ضیاء الحق کو کہنا پڑا ’’ یہ تو مونگ پھلی ہے!‘‘ نہوں نے درست کہا تھا کہ اتنی معمولی رقم کی امداد امریکہ اور پاکستان دونوں کے شایان شان نہیں۔ اس مرتبہ وہی کام امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کیا۔ خیبر پختونخوا میں آئی ڈی پیز کے بحالی پروگرام کے لئے صرف 25 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا گیا، حالانکہ سرتاج عزیز نے واضح کر دیا تھا کہ پاکستان کو اس پروگرام کے لئے کم از کم 2 ارب ڈالرز کی ضرورت ہے۔ اس رقم کو مونگ پھلی یا اونٹ کے منہ میں زیرہ کہئے، یہ بات ایک بار پھر واضح ہو گئی کہ امریکہ عملی طور پر دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے سارا بوجھ حکومت پاکستان پر ڈالنے کی پالیسی جاری رکھنا چاہتا ہے۔

اگر یہ بات کہی جاتی ہے کہ دہشت گرد امریکہ اور پاکستان کے مشترکہ دشمن ہیں تو امریکہ کو ایک پارٹنر کی حیثیت سے برابر بوجھ برداشت کرنا چاہئے لیکن عجیب بات ہے کہ آج بھی امریکہ ’’ڈومور‘‘ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے حقانی گروپ، طالبان، لشکر طیبہ کے خلاف زور دار ایکشن کی فرمائش کر رہا ہے کہ یہ لوگ امریکہ کے لئے خطرہ ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی سفارت کاروں، عام شہریوں اور عمارات پر حملوں میں ملوث افراد کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے زور دے رہا ہے۔ اگر امریکہ آئی ڈی پیز کے لئے کم از کم ایک ارب ڈالر دینے کا اعلان کرتا تو ایسا اعلان دہشت گردی کے خلاف پاکستانی حکومت اور مسلح افواج کی کارروائیوں کے حوالے سے حوصلہ افزا قرار دیا جاتا لیکن کمال ڈھٹائی سے کام لیتے ہوئے خاموشی اختیار کی گئی۔ حد یہ ہے کہ سرحدوں پر بھارتی فوج کی اشتعال انگیزیوں کے معاملے میں بھی کچھ کردار ادا کرنے سے گریز کیا گیا۔ پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے بغیر بھی بھارت سے مذاکرات کی تلقین کی گئی۔ کیا مشترکہ مفادات اسی کو کہتے ہیں؟ امریکہ کی اس بے حسی پر بھرپور عوامی ردعمل سامنے آنا چاہئے۔

آیئے، اب ’’ امریکہ کا جو یار ہے، غدار ہے، غدار ہے‘‘ کے نعرے سے امریکی پالیسی کے خلاف عوامی تحریک چلانے والے سابق امیر جماعت اسلامی مرحوم و مغفور قاضی حسین احمد کی برسی کا ذکر ہو جائے۔ ’’ بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی۔۔۔ تمہارے نام پر آئیں گے غمگسار چلے‘‘ جب یہ فیصلہ ہوا کہ قاضی صاحب کی برسی منائی جائے گی اور دیگر مصروفیات آڑے نہیں آئیں گی تو امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے یہ ذمہ داری لاہور جماعت کے امیر میاں مقصود احمد کو سونپی۔ میاں مقصود احمد چند ہفتے پہلے ہی جماعت اسلامی کے اجتماع عام کی میزبانی کا فریضہ احسن طریقے سے ادا کر چکے ہیں۔ محترم قاضی صاحب کی برسی پر انہوں نے تفصیلی پروگرام کو حتمی شکل دیتے ہوئے سیاسی و دینی جماعتوں کے قائدین اور معروف صحافیوں کو اظہار خیال کے لئے مدعو کیا۔ جبکہ قاضی صاحب کے بیٹے لقمان قاضی نے ایک نہایت خوبصورت اور موثر ڈاکومنٹری تیار کی۔ جس میں انہوں نے اپنے نامور والد کی بھرپور اور کامیاب زندگی کے بیشتر پہلوؤں کو بڑی مہارت سے اُجاگر کیا۔ یہ ڈاکو منٹری دیکھتے ہوئے بہت سے حاضرین کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہے جب مقررین قاضی صاحب کی باتیں بیان کرتے اور ان کے کردار کو واضح کیا جاتا تو اس وقت بھی خواتین سمیت سبھی لوگوں کی آنکھیں نم تھیں چار گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہنے والی یہ تقریب اس قدر کامیاب تھی کہ ایوان اقبال آڈیٹوریم میں کوئی نشست خالی نہیں تھی اور لوگ آخر وقت تک کھڑے ہو کر تقاریر سنتے رہے۔ سراج الحق اور دیگر شخصیات نے قاضی حسین احمد کی فکر کو آگے بڑھانے پر زور دیا اور جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے عالمی سطح پر اتحاد و یگانگت سے مشترکہ جدوجہد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا کہ آج بھی قاضی صاحب کے فکر و عمل سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔

پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے دھرنے ختم ہوئے تھے تو یہ سمجھا گیا تھا کہ طاہر القادری نے صورت حال کا اندازہ لگاتے ہوئے دانشمندی کا ثبوت دیا اور دھرنا ختم کر کے علاج کے لئے بیرون ملک چلے گئے جبکہ سانحہ پشاور کی وجہ سے عمران خان کو دھرنا ختم کرنا پڑا۔ اس کے تین ہفتے بعد ہی موصوف دلہا بن گئے۔ اب دھرنے کا احیاء بہت مشکل ہو گا۔ کم از کم احتجاجی تحریک نہیں چلائی جا سکے گی۔ ویسے بھی حکومت کی طرف سے تحقیقاتی کمیشن بنانے پر رضا مندی ظاہر کی گئی تھی۔ لیکن عمران خان نے اس حوالے سے واضح کر دیا کہ حکومت وعدہ خلافی کر رہی ہے لہٰذا احتجاجی تحریک دوبارہ شروع کی جائے گی حکومت سے حالات کے جبر کو برداشت کرتے ہوئے تعاون کیا تھا، مگر جواب مثبت نہیں ملا۔ عمران خان نے 18 جنوری کو دھرنا کنونشن بلا کر آئندہ لائحہ عمل کے اعلان کا پروگرام بنا لیا۔ پہلا احتجاجی جلسہ لاہور میں ہوگا۔ تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز چوہدری نے اس حوالے سے واضح کیا کہ عمران خان نے شادی ضرور کی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہ لیا جائے کہ وہ اپنے بنیادی پروگرام سے غافل ہو جائیں گے۔ اب چیئرمین تحریک انصاف اور شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے بانی کی حیثیت سے وہ زیادہ پر جوش انداز میں کام کریں گے۔ اعجاز چوہدری نے کہا کہ تحریک انصاف نے پہلے بھی اگرچہ پنجاب میں زیادہ جلسے کئے، لیکن کراچی، لاڑکانہ، سکھر، اور دیگر شہروں میں بھی احتجاجی جلسوں کے ذریعے عوام میں بیداری اور تبدیلی کی لہر دوڑائی تھی۔ اب بھی ویسا ہی پروگرام ہوگا۔ الیکشن کو دھاندلی کے ذریعے چرانے والے حکمرانوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دیا جائے گا۔ دھاندلی انشاء اللہ ثابت ہو کر رہے گی۔ این اے 122 کی تحقیقاتی رپورٹ بے حد حوصلہ افزاء ہے۔ ہم اپنا حق لے کر رہیں گے اور آئندہ کے لئے بھی دھاندلی کے راستے بند کرنے کا کام مکمل کیا جائے گا۔ اعجاز چوہدری کی گفتگو سے یہی معلوم ہوا کہ دہشت گردی کے خلاف تمام سیاسی اور دینی جماعتوں کے ایک پلیٹ فارم پر متحد رہنے کی بجائے احتجاج کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا۔ دیکھئے کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان عوامی تحریک نے بھی اپنے قائد طاہر القادری کی ہدایت پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری کے لئے مطالبہ تسلیم نہ کئے جانے پر باقاعدہ احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عوامی تحریک کے صدر رحیق احمد عباسی چند روز تک طاہر القادری کے پاس امریکہ میں رہے اور پھر پارٹی امور کو زور دار طریقے سے چلانے کے لئے پاکستان آگئے تھے۔ا ن کے خلاف دہشت گردی کی دفعات شامل کرتے ہوئے قتل اور اقدام قتل کے مقدمات بھی قائم کئے گئے۔ اب رحیق احمد عباسی اور خرم گنڈا پور کی مشترکہ جدوجہد سے سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق پیش رفت میں آسانی ہو گی۔ رحیق احمد عباسی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکمران اوچھے ہتھکنڈوں سے عوامی تحریک کے کارکنوں کو احتجاج سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن وہ ناکام رہیں گے کیونکہ ہمارے قائد طاہر القادری نے وقت ضائع کرنے کی بجائے شہداء ماڈل ٹاؤن کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے احتجاجی پروگرام کی منظوری دے دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے منظم اور بھرپور احتجاجی پروگرام گزشتہ سال کی طرح ایک مرتبہ پھر ایک ساتھ شروع ہو رہے ہیں۔

مزید :

کالم -