دینی مدارس کا ڈپریشن

دینی مدارس کا ڈپریشن
دینی مدارس کا ڈپریشن

  

ُُُٓٓٓپاکستان میں جہاں کہیں بم پھٹتا ہے اس کی تباہی کا ملبہ دینی مدارس پر پھینک دیا جا تا ہے، اس کے باوجود کہ وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ نوے فیصد دینی مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں پاکستان کی سول سوسائٹی ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے کہ دینی مدارس میں قرآن کا نہیں قربان ہونے کا سبق پڑھایا جا تا ہے، سول سوسائٹی انتہائی منظم طریقے سے دینی مدارس کی آڑ میں اسلامی تعلیمات کی مخالفت کر رہی ہے، جس طرح کبھی متحدہ ہندوستان میں مسلمان کھل کر انگریزی تعلیم کی مخالفت کرتے تھے، آج یہی انگریزی تعلیم پاکستان میں سٹیٹس سمبل بن چکی ہے،ہمارا نظام تعلیم، نصاب، ذہن اور تربیت ۔۔۔ہر شے بدل چکی ہے!

حقیقت یہ ہے کہ ایک سوچی سمجھی سازس کے تحت پاکستانی اور افغانی پٹھانوں کے رسم و رواج کو اسلامی تعلیمات سے تعبیر کیا جا رہا ہے ،مثال کے طور پر اگر پٹھانوں کے رسم و رواج کے مطابق لڑکیوں کی تعلیم کو ضروری نہیں سمجھاجاتا تو اسے بھی اسلام کا قصور گرداناجاتا ہے ، اِسی طرح اگر پٹھانوں کے کلچر میں خواتین کو توپ نما برقعے پہنائے جاتے ہیں تو اس کا ذمہ دار بھی اسلام کو ٹھہرایا جاتا ہے اور اگر وہاں پر کم سنی کی عمر میں لڑکیاں بیاہی جاتی ہیں تو بھی سول سوسائٹی کا نزلہ اسلام پر گرتا ہے، حالانکہ اسلام کا ایسے رسوم و رواج سے دور دور کا واسطہ نہیں،بلکہ اسلام نے چودہ سو سال پہلے عرب معاشرے سے ایسی تمام جہالتوں کا خاتمہ کیا تھا اور عورت کا مقام بلند کیا تھا، ایسا لگتا ہے کہ ہماری سول سوسائٹی دینی مدرسوں، مذہبی تعلیم اور مخصوص رسم ورواج کی آڑ لے کر مذہب اسلام کے درپے ہو چکی ہے اور اپنے خوف کا ملبہ مذہب اسلام پر پھینکنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے، سول سوسائٹی پٹھان کلچر کی آڑ میں مذہب اسلام پر نشانے بازی کر رہی ہے!

طالبان ہوں، القاعدہ ہو یا پھر افغان مجاہدین،ہر شے ہمارے شمال مغربی علاقوں اور افغانستان تک محدود ہے، لیکن ہماری سول سوسائٹی اور ہمارے بعض دانشور اس کا دائرہ کھینچ کر معاملہ جنوبی پنجاب کے دینی مدارس تک پھیلائے ہوئے ہیں، امریکہ کا مسئلہ پٹھان ہیں ، ہم نے اسے پاکستان کا مسئلہ بنالیا ہے اور چلے ہیں لوگوں کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے !

سوال یہ ہے کہ ہماری سول سوسائٹی دینی مدارس میں کیسی تبدیلی چاہتی ہے؟ کیا اس سے اس کی مراد یہ ہے کہ دینی مدرسوں میں مذہب اسلام کی تعلیم نہ دی جائے اور اس کے برعکس انہیں جدیدعلوم سے بہرہ مند کیا جائے، لیکن اس کی کیا گارنٹی ہے کہ کمپیوٹر سکھانے سے دہشت گردی ختم کی جا سکتی ہے ، اگر ایسا ہوسکتا تو امریکہ میں 9/11کیوں ہوتا؟جہازوں کو کنٹرول کرنے والے وہ دہشت گرد تو بہت بڑے کمپیوٹرباز ہوں گے، اب بھی القاعدہ اپنی دہشت بندوق سے زیادہ کمپیوٹر پیغامات کے ذریعے پھیلا رہی ہے!

نوے کی دہائی میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کا الزام مخصوص گروہوں اور افراد تک محدود تھا، آج ہر پاکستانی دہشت گردی کا ملزم ہے، ایسے قوانین سامنے آرہے ہیں، جن کے بارے میں کبھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، امریکہ کے مجاہدین آج پاکستان کے دہشت گرد ہیں، شیعہ سُنی کی تفریق کے بغیر آج ہمیں انتہا پسند ہونے کا طعنہ دیا جا رہا ہے اور انتہا پسندی کو مذہب اسلام سے اس طرح نتھی کیا گیا ہے کہ پاکستان میں لادینیت کا بول بالا کرنے میں ہی عافیت ہے!

پاکستان میں 2015ء کا آغاز بہت خوفناک انداز میں ہوا ہے، ہر طرف لاشیں، ہر طرف اموات، چار جانب دہشت گردی اور خوف کا راج ہے، اگست 2014ء سے گزشتہ سال کے خاتمے تک عمران خان اور شیخ رشید نے پوری قوم کو دھاندلی کے ڈپریشن میں مبتلا کیا ہوا تھا، ہر شام جھوٹ کے ایسے ایسے اشتہار بنائے جاتے تھے کہ پوری قوم زچ ہو چکی تھی، تھرڈ امپائر کے انتظار میں تحریک انصاف کی حامی کئی دوشیزاؤں کی راتیں آنکھوں میں کٹ رہی تھیں،دھاندلی کا ڈپریشن بالآخر سانحہ پشاور پر منتہج ہوا،خیال تھا کہ اس عذاب سے جان چھوٹ گئی، لیکن اس دریا کے پار اترے تو معلوم ہوا کہ پوری قوم دینی مدرسوں کے ہسٹریا کا شکار ہوگئی ہے ، حتیٰ کے ننھے بچے بھی پلاسٹک کے پستول بستوں میں رکھ کر سکول جا رہے ہیں کہ دہشت گرد مارنے ہیں، اس پورے تناظر میں پاکستانی قوم دو حصوں میں علیحدہ سے بٹی نظر آتی ہے ، قوم کا ایک حصہ اس بات پر پریشان ہے کہ فوج اقتدار میں آرہی ہے اور دوسرا آدھا حصہ اس بات پر پریشان ہے کہ فوج اقتدار میں کیوں نہیں آرہی، دیکھئے اس ڈپریشن کا انجام کس نئے ڈپریشن پر ہوتا ہے!

مزید :

کالم -