سعودی مفتی اعظم کا فتویٰ اور عیدمیلادالنبیؐ۔۔۔

سعودی مفتی اعظم کا فتویٰ اور عیدمیلادالنبیؐ۔۔۔
سعودی مفتی اعظم کا فتویٰ اور عیدمیلادالنبیؐ۔۔۔

  

سعودی مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز اور امام ترکی بن عبداللہ نے فرمایا ہے کہ میلاد النبیؐ بدعت اور کار گناہ ہے۔ ان کی آدھی بات درست ہے۔ ٹیکنیکل تعریف (Definition) کے مطابق ہر وہ بات جو مذہب میں فی الاصل یا زمانہ رسول اللہؐ میں موجود نہیں تھی بعد میں مروج ہوئی وہ بدعت ہے۔ بدعت، لفظ بدع سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں کسی نئی چیز کو وجود میں لانا۔ اللہ تعالیٰ کی صفت بدیع ہے جو چیزوں کو عدم سے وجود میں لاتا ہے۔ عدم سے وجود میں لانے کا مطلب یہ ہے کہ پہلے سے ان کی کوئی مثال موجود نہیں تھی۔ اس طرح دیکھا جائے تو انسان فی الاصل بدعت کا مرتکب ہو ہی نہیں سکتا، وہ کوئی ایسی چیز تخلیق کرنے سے قاصر ہے، جس کا کوئی خیال کوئی وجود سرے سے نہ ہو۔ انسان کی حیرت انگیز ترین ایجادات کے پیچھے کوئی نہ کوئی تخیل تھا،جس نے اسے اس سمت میں کھوج لگانے پر مجبور کیا۔ ہواؤں میں اڑنے ،زمین پر دوڑنے ،بیماریوں کے علاج غرض ہر نئی ایجاد کے پیچھے ایک مثال موجود تھی اور دنیا ایسے ہی چلتی رہے گی۔ انسان کا بدیع ہونا، اللہ کے بدیع ہونے کا ہمسر نہیں ہو سکتا اور اللہ کا بدیع ہونا انسان کے بدیع ہونے کو مانع نہیں ہو سکتا۔

عید میلاد النبیؐ موجودہ صورت میں یقیناًرسول اللہﷺ کے وصال کے دو تین سو سال بعد میں مروج ہوئی، لیکن کیا رسول اللہؐ کے زمانہ میں اس کا خیال تک موجود نہیں تھا۔ یہ ایک مشکل سوال ہے۔ مداح دربار رسالت حضرت حسان بن ثابت کے کئی اشعار میں رسول اللہﷺ کی پیدائش کا ذکر کیاگیا ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی سورۃ توبہ میں رسول اللہ کی بعثت کو انسانیت پر احسان جتلایا ہے۔ گویا یہ بدعت ، بدعت انسانی کے مطابق ہے اور جس حدیث کی رو سے ہر چیز کو بدعت قرار دیا گیا ہے، وہ احادیث بھی رسول اللہؐ کے دور کے دو تین سو سال بعد مرتب ہوئیں، حالانکہ خود یہی احادیث و روایات بتاتی ہیں کہ رسول اللہؐ نے احادیث جمع کرنے سے منع فرمایا تھا اور خلفائے راشدین نے اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی، بلکہ بعض روایات ہی کے مطابق حوصلہ شکنی بھی کی۔یہاں ایک بات کا تعین ہو جائے کہ بدعت کے فتاویٰ کا بے دریغ استعمال کرنے والے بھی بدعت کو صرف مذہب تک محدود کرتے ہیں۔ وہ دوسری قسم کی بدعات کو جائز سمجھتے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی ہر بدعت کارگناہ بھی ہے؟ جب بدعت کا الزام لگانے والوں سے دوسرے امور کے بارے میں کہاجاتا ہے، مثلاً گھڑی سے وقت معلوم کرکے صلوٰۃ ادا کرنا، سمت کعبہ کمپاس سے معلوم کرنا، حج کے لئے اونٹوں پر جانے کی بجائے طیاروں اور گاڑیوں سے جانا، طرح طرح کے خوش رنگ لباس اور جُبے پہننا وغیرہ وغیرہ تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ یہ چیزیں فی الاصل دین نہیں ہیں۔ فی الاصل دین تو پھر قرآن کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔احادیث بھی فی الاصل دین نہیں ہیں فِقہ بھی فی الاصل دین نہیں ہے۔ یہ سب رسول اللہؐ کے بعد وضع ہوئیں اور انہیں دین کا حصہ بنا لیا گیا۔یہاں بہت باریک سا فرق ہے، یہ حضرات ہر اس چیزکو جو انہیں اچھی لگے ، اصل دین سے الگ کرکے بدعت کے دائرے سے نکال لیتے ہیں۔ حج کے ارکان ادا کرنے کے تمام طریقے بدل گئے ہیں۔ رمی جمار جدید طرز کی بنا دی گئی ہے، سعی کے لئے سہولتیں پیدا کر دی گئی ہیں، اگر یہ کہا جائے کہ حج کا مقصد تو تکلیف اٹھا کر اللہ کے گھر کی تعظیم کے لئے حاضر ہونا تھا تو پھر وہ تکالیف تو ختم ہو گئیں، سعی جس وجہ سے سعی تھی وہ وجہ ختم ہو گئی، اب سعی تو سعی کی بجائے سہولت ہی سہولت ہے۔ رسول اللہؐ کے زمانے میں تو کوئی مفتی اعظم بھی نہیں ہوتے تھے نہ لاکھوں دینار کی تنخواہیں لیتے تھے۔ مفتیان کرام معلوم نہیں دین کا حصہ ہیں یا دین سے الگ ہیں، اس لئے ان پر بدعت کا اطلاق نہیں ہوتا۔ رسول اللہؐ کی حیات مبارکہ میں تو تراویح کو باجماعت ادا کرنے سے احتراز کیا گیا، تاکہ یہ طریقہ مستقل نہ ہو جائے ، اب یہ مستقل بھی ہو چکا ہے اور اس میں نئی نئی خوبصورتیاں بھی پیدا کی جاتی ہیں اور ان تراویح میں امام کعبہ کے پیچھے لوگ قرآن کھول کر پڑھ رہے ہوتے ہیں۔یہ تراویح کا اہتمام اور قرآن ہاتھ میں پکڑ کر پڑھنا دین میں سے ہے یا دین کے باہر ہے۔ دین میں سے ہے تو بدعت تو ہے ٹیکنیکل تعریف کے لحاظ سے لیکن کیا یہ گناہ بھی ہے؟

میلادالنبیؐ منانے والے بعض احادیث سے بھی اس عمل کا اثبات کرتے ہیں، مثلاً رسول اللہﷺ سے سوموار(پیر) کے روزے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس روز میں پیدا ہوا تھا اور مجھ پر پہلی وحی نازل ہوئی تھی۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ میلادالنبیؐ کو صرف روزے اور حسان بن ثابتؓ کے اشعار تک محدود رکھا جانا چاہیے تھا تو ایک غیر معقول بات ہوگی، کیونکہ نماز اور اس کے متعلقات مساجد اور ان میں قالین، ائرکنڈیشنڈ، لاؤڈ سپیکر اور خود کار کھلنے بند ہونے والی چھتریاں اگر اصل نماز کو ضرر نہیں پہنچاتیں تو یہ جلسے جلوس، نعتیں شامیانے اصل میلادالنبیؐ کو کیونکر ضرر رساں ہو سکتے ہیں اور وہ بھی اس قدر کہ اسے کار گناہ قرار دے دیا جائے۔ رمضان شریف میں مختلف ملکوں میں سحر و افطار کو طرح طرح کے کھیل اور تفریحات ہوتی ہیں، جن کا روزے کی عبادت سے کوئی تعلق نہیں، یہ محض وہاں کی معاشرت کا ایک پہلو ہے اور کبھی کسی نے انہیں کارگناہ قرار نہیں دیا۔ سعودی عرب میں بعض بڑے بڑے میلے لگتے ہیں۔ اونٹوں کی ریسیں لگتی ہیں اور خاندان سعودکے برسراقتدار آنے کے دن کو یادگار کے طور پر دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ ان تمام تقریبات میں بعض اوقت کچھ ایسے امور بھی پائے جا سکتے ہیں، جنہیں کوئی ’’نکتہ چیں‘‘ غیر شرعی ،حرام یا کم از کم ناپسندیدہ قرار دے سکتا ہے، لیکن کیا یہ تمام تقریبات اس وجہ سے ’’کار گناہ‘‘ کے زمرے میں آئیں گی؟

ہمارے ہاں ایک یہ غلط تاثر بھی پھیلایا گیا ہے۔ گویا میلادالنبیؐ صرف برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی اختراع (بدعت) ہے، حالانکہ تاریخی طور پر اس کا آغاز مصر سے ہوا تھا۔ مفتی اعظم کے بقول رسول اللہؐ کے دو سو سال بعد تو اس وقت تک برصغیر ابھی تک اسلام سے بھی آشنا نہیں تھا۔ مصر کے علاوہ یہ تقریبات اپنے اپنے معاشرتی رویوں کے مطابق تیونس، مراکش، انڈونیشیا، ملائیشیا وغیرہ میں بھی بھرپور طریقے سے منائی جاتی ہیں۔ اس موضوع پر کتابیں بھی موجود ہیں اور میں بھی کبھی اس کی تاریخی حیثیت پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔ برصغیر میں علمائے دیوبند اس کی مخالفت بھی کرتے ہیں، لیکن بانداز دیگر مناتے بھی ہیں، وہ ایسی ہی تقریبات کو سیرت کانفرنس وغیرہ کا نام دے دیتے ہیں۔ شاید کانفرنس کا انگریزی لاحقہ اس کو بدعت کے دائرے سے باہر کھینچ لے جاتا ہوگا، وگرنہ رسول اللہؐ کے زمانے میں کانفرنسوں کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ سالانہ تبلیغی اجتماعات کا بھی سیرت نبوی میں کہیں سراغ نہیں ملتا۔تبلیغ کے لئے بستر بدوش چلے لگانے کا بھی کوئی واقعہ نہیں ہے۔ اگر اس بات کو کہ تم میں ایک گروہ ہونا چاہیے، جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور برائی سے روکے ، کے فرمان کو بستر بدوش تبلیغ اور چلوں کی شکل دے دی گئی ہے تو حضرت حسان بن ثابتؓ کے اشعار میں تذکرہ ولادت، یا سوموار کے روزے کو اگر کچھ لوگوں نے اپنے معاشرتی رویوں کے مطابق ایک شکل دے دی ہے تو اس میں ’’کارگناہ‘‘ کہاں سے آ گیا؟

ایک بات محل نظر ہے۔ہمارے ہاں تمام رویوں میں ایک نمایاں انتہا پسندی ہے۔ پہلے محرم کے جلوس ایک آدھ جگہ سے نکلتے تھے، چار دیواری کے اندر مجالس ہوتی تھیں ،رفتہ رفتہ ہر گلے محلے سے جلوس برآمد ہونا شروع ہو گئے۔ میلادالنبیؐ میں اب ولادت رسول کی خوشی کی بجائے اسراف و نمود و نمائش بڑھ گئی ہے۔ اس موقع پر غرباء میں لنگر تقسیم کرنے اور یتامیٰ و بیوگان کی خبر گری کا سامان کرنے کی بجائے اب گاڑیوں کے ساتھ اونٹ گھوڑے بھی شامل ہو گئے ہیں اور ہر جگہ ہر طبقے نے اس میں اپنی اپنی مرضی کی رسوم شامل کر لی ہیں۔ ان کی اصلاح ہونا چاہئے، میلادالنبیؐ اس قدر باوقار اور رکھ رکھاؤ کے ساتھ ہو جو رسول اللہؐ کی ذات ستودہ صفات سے مناسبت رکھتی ہو اور یہ جگہ جگہ جلوس اور ہر گلی محلے کے جلوس بھی نہیں ہونا چاہئیں، اس طرح ان غیر ذمہ دار لوگوں کو شہہ ملتی ہے جو میلادالنبیؐ کے نام پر محض ایک موج میلہ سجانا چاہتے ہیں۔ ہر شہرمیں ایک مرکزی جلوس ہو، باقی چار دیواری کے اندر محفلیں منعقد ہونا چاہئیں۔ مقصد رسول اللہﷺ کا یوم ولادت منانا ہے نہ کہ لوگوں کو دکھانا ہے۔ کسی بھی سیاسی و مذہبی جلوس کے لئے اخلاقاً اور قانوناً یہ جائز نہیں کہ ان کی وجہ سے لوگوں کے لئے راستے بند ہو جائیں ، لوگوں کو تکلیفیں اٹھانا پڑیں۔ بیمار ایمبولینس میں موت سے ہمکنار ہو جائیں، زخمی دم توڑ دیں اور خواتین کو پریشانیاں اٹھانا پڑیں۔ رسول اللہﷺکی ولادت کا جشن منانے والوں کو تو اس سلسلے میں مزید محتاط ہونا چاہیے کہ جو رسول ﷺ انسانیت پر سہولت کے راستے وا کرنے کے لئے تشریف لائے تھے، ان کے عقیدت مند ان کی ولادت کی یاد مناتے ہوئے اپنے ہم وطنوں اپنے شہر کے رہنے والوں اور سب سے بڑھ کر اسی رسولؐ امین کی امت کے افراد پر راستے بند کرکے انہیں عذاب میں مبتلا کر دیں اور اسے کار ثواب سمجھیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں ہر کار ثواب ’’کار گناہ‘‘ بن جاتا ہے، وگرنہ میلادالنبیؐ بدعت (ٹیکنیکل تعریف) ہو کر بھی کارگناہ نہیں ہے، جب تک اسے منانے والے خود اسے ’’کارگناہ‘‘ نہ بنا دیں اور یہ بھی یاد رہے کہ نیکی کا دار و مدار نیت پر ہے، اگر اللہ کی خوشنودی کے لئے اللہ کے رسول کی ولادت کا دن منائیں گے تو ثواب حاصل کریں گے، اگر میلادالنبیؐ کو نہ ماننے والوں کو جلانے کے لئے زور لگائیں گے تو یہی حاصل ہوگا، اس میں ثواب کہاں؟

مزید :

کالم -