افغانستان میں دہشت گردوں کی گرفتاری

افغانستان میں دہشت گردوں کی گرفتاری

  

ایک اطلاع کے مطابق پشاور میں16دسمبر2014ء کو آرمی پبلک سکول میں ہونے والی بدترین دہشت گردی میں ملوث 5 دہشت گردوں کو افغانستان میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق ان ملزمان کو افغان فورسز نے پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کی معلومات پر گرفتار کیا۔ پانچوں ملزمان کا تعلق پاکستان سے ہے اور وہ کالعدم تنظیم کے اہم کمانڈر ہیں،یہ ملزمان آرمی پبلک سکول پرحملے کے منصوبہ سازاور رابطہ کار تھے۔اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے ایگزیکٹو آرڈر(ای او) 13224 کے تحت کالعدم تحریک طالبان کے کمانڈر ملا فضل اللہ کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔اس حکم کے مطابق کوئی بھی امریکی شہری ملا فضل اللہ سے کسی قسم کا لین دین نہیں کر سکتا، اگر کوئی بھی امریکی شہری اس میں ملوث پایا گیاتو اس کی جائیداد اور بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے جائیں گے۔ ملا فضل اللہ کو نومبر 2013ء میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد کالعدم تحریک طالبان کا امیر مقرر کیا گیا تھا، اسی کی سربراہی میں کالعدم تحریک طالبان نے پشاور میں معصوم بچوں کو نشانہ بنایا،اس سانحے میں 148 افراد شہید ہوئے جن میں 134 بچے شامل تھے۔2012 میں ملا فضل اللہ کی ہدایت پر طالبان نے نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی پر بھی حملہ کیا تھا اور اسے جان سے مارنے کی کوشش کی تھی۔ خیبر پختونخوا حکومت پہلے ہی ملا فضل اللہ کے سر کی قیمت ایک ملین ڈالرز مقرر کر چکی ہے۔

امریکہ کی جانب سے ملا فضل اﷲ کو عالمی دہشت گرد قرار دینا خوش آئند ہے ، آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی منگل کو امریکی وزیرخارجہ جان کیری سے ملاقات کے دوران افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے اپناکردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا،جس کے جواب میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کی مکمل یقین دہانی کرائی تھی۔ اب ملا فضل اللہ جو کہ مبینہ طور پر تازہ ترین افغان آپریشن میں بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا،کا گھیرا تنگ کرنے میں مزیدمدد ملے گی۔

پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک میں تعاون کا ہاتھ دراز ہو رہا ہے، اس سے قبل بھی افغانستان میں کنٹر کے علاقے میں پاکستان کے مطالبے پر آپریشن کا آغاز کیا گیا، جس میں 21 دہشت گرد مارے گئے تھے،اس آپریشن کو شروع کرنے کی وجہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر کی طرف سے پیش کئے گئے ثبوت تھے ۔انہوں نے سانح�ۂ پشاور میں سرحد پار موجود عناصر کے شامل ہونے کے شواہددئیے تھے اور اب ان پانچ ملزمان کی گرفتاری کی کڑی بھی ڈی جی آئی ایس آئی کے حالیہ دورہ کابل ہی سے جڑی ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح براہ راست رابطوں کی بدولت ان پانچ ملزمان کو تفتیش و تحقیق کے بعد پاکستان کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے۔دونوں کے دوطرفہ تعاون اور باہمی معلومات کے تبادلوں کی وجہ سے ہی دہشت گردوں کے خلاف کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔ افغانستان کی جانب سے حالیہ اہم انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے بعد پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے کچھ عرصہ قبل کابل میں افغان والی بال ٹیم پر دہشت گرد حملے کے اہم ملزم، جس کا نام یحییٰ بتایاجاتاہے کو گرفتار کیاتھا۔

ماضی میں افغانستان پاکستان کے مطالبات کو نظر انداز کرتا رہا ،بلکہ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے ایک حالیہ بیان میں دہشت گردی کا الزام پاکستان کے سر پر دھرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ پاکستان پشاور کے سانحہ کے بعد اپنی پالیسی تبدیل کرے گا اوراب وہ اس نتیجے پر پہنچ گیا ہوگا کہ دہشت گردی کو ہتھیار کے طورپر استعمال نہیں کیا جاسکتا ، ایسا کرنا سانپ سے کھیلنے کے مترادف ہے جو کسی بھی وقت آپ کو ڈس سکتا ہے۔ حامد کرزئی کے الزامات اپنی جگہ، افغانستان میں اشرف غنی کی نومنتخب جمہوری حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کے ساتھ تعاون میں سنجیدہ ہے ۔

پاکستان میں تو آپریشن ضرب عضب نے دہشت گردوں پر زمین تنگ کر دی ہے، فوجی ذرائع کے مطابق 90فیصد علاقہ کلیئر ہو چکا ہے ۔پاکستانی حکام کے مطابق حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانے بھی ختم ہو رہے ہیں،اچھے اور بُرے طالبان کے خلاف بلا تفریق کارروائی جاری ہے، لیکن اس کے مکمل خاتمے کے لئے افغانستان کا تعاون ناگزیر ہے۔اس سے قبل متعدد دہشت گرد پاکستان میں کارروائی کر کے افغانستان بھاگ جاتے تھے، وہاں بیٹھ کر حملوں کی پلاننگ کرتے تھے۔سانح�ۂ پشاور کی پلاننگ بھی ملا فضل اﷲنے افغانستان میں بیٹھ کر ہی کی تھی۔ سانحہ پشاور سے قبل افغانستان پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف تعاون کی یقین دہانی تو کراتا رہا، مگر ضروری اقدامات کی کمی محسوس کی جاتی تھی،لیکن سکول پر حملے کے بعد جیسے کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔افغان جنرل محمد شیر اور افغان ایساف کمانڈر نے بھی دورہ پاکستان کے دوران آرمی چیف کو پاکستانی ملزموں کے خلاف آپریشن کی یقین دہانی کرائی تھی، حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ اب اس کے نتائج بھی حاصل ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ نیٹو فورسز13سال تک افغانستان میں موجود رہیں، لیکن امن قائم نہ ہو سکا، فوجیں تو افغانستان سے جا چکی ہیں، لیکن امن قائم نہیں ہو سکا۔ اگر دونوں ممالک خلوص نیت کے ساتھ ایک دوسرے کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دینے کے عہد پر قائم رہیں گے، مل کر کام کریں گے تو دنیا کی کوئی بھی طاقت اس کر ہ ارض پر قیامِ امن کی راہ میں رکاوٹ کھڑی نہیں کر سکے گی۔

مزید :

اداریہ -