ایوننگ آﺅٹ ڈور کی شفٹ دم توڑ گئی

ایوننگ آﺅٹ ڈور کی شفٹ دم توڑ گئی

  

                             لاہور(جاوید اقبال)صوبائی دارالحکومت کے ٹیچنگ ہسپتالوں میں مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی کیلئے شروع کی گئی ایوننگ شفٹ دم توڑ گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے حکم پر شہرکے تمام سرکاری ہسپتالوں میںآﺅٹ ڈور ایوننگ شفٹ شروع کی گئی تھی ہر ہسپتال میں آﺅٹ ڈور ایوننگ شفٹ کے تحت سہ پہر 3 بجے سے شروع ہو کر رات 10 بجے اختتام پذیر ہونے کا شیڈول جاری کیا گیا تھا۔ ایوننگ آﺅٹ ڈور شفٹ وزیر اعلیٰ نے جولائی 2008 ءمیں شروع کرائی جس کا مقصد ایسے غریب مریض جو صبح کے وقت اپنے علاج معالجہ کیلئے ہسپتالوں میں بوجہ مجبوری نہیں جا سکتے ان کو شام کے وقت علاج معالجہ کی سہولت دینا تھا۔ تمام ہسپتالوں کو پابند بنایا گیا کہ وہ ایوننگ آﺅٹ ڈور کا سلسلہ شروع کرائے اس کے تحت شہر لاہور کے تمام ہسپتالوں میں شام کے وقت آﺅٹ ڈور کھولے گئے ہر آﺅٹ ڈور رات 10 بجے تک کھولا گیا جہاں میڈیسن، سرجری ، آئی ، ای این ٹی، امراض قلب اور ڈینٹل سرجری سمیت ہر شعبہ کے سینئر ڈاکٹرز کو تعینات کیا گیا مگر آہستہ آہستہ محکمہ صحت کی عدم نگرانی کے باعث ہسپتالوں میں وزیر اعلیٰ پنجاب کا عوام دوست اور صحت دوست منصوبہ دم توڑ گیا ۔ اکا دکا ہسپتالوں میں صرف ڈینٹل سرجری میں کبھی کبھار ایوننگ آﺅٹ ڈور میں ڈاکٹرز موجود ہوتے ہیںباقی ہسپتالوں کی اکثریت نے عوام کو یہ مفت دی جانیوالی سہولت ختم کر دی ہے جس سے مزدورطبقہ علاج معالجہ کی سہولت سے محروم گیا ہے بعض ہسپتالوں میں فائلوں اور کاغذوں میں ایوننگ آﺅٹ ڈور کی موجودگی کے نشانات ملتے ہیں مگر موقع پر کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ہوتا آرتھو پیڈیک سرجری ، بچہ میڈیسن اور سرجری کے ماہرین کو بھی ایوننگ آﺅٹ ڈورز میں بٹھایا گیا تھا مگر اب وہ بھی ڈیوٹی پر موجود نہیں ہوتے اس حوالے سے سیکرٹری صحت جواد رفیق ملک سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ تحقیقات کر یں گے ایوننگ آﺅٹ ڈور بند کرنے کا حکم نہیں دیا مجھ سے پہلے کا علم نہیں ایوننگ آﺅٹ ڈور کی سہولت جاری رکھیں گے کوتاہی پائی گئی تو متعلقہ ایم ایس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -