حفاظتی ٹیکے نہ لگانے سے ہر سال لاکھوں بچے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں،مجتبیٰ شجاع

حفاظتی ٹیکے نہ لگانے سے ہر سال لاکھوں بچے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ...

  

لاہور(کامرس رپورٹر) وزیر خزانہ‘ قانون ‘ایکسائز و ٹیکسیشن پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا ہے کہ ذراسی غفلت اور حفاظتی ٹیکے بروقت نہ لگانے سے تقریبا ساڑھے سات لاکھ پاکستانی بچے ہر سال مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر یا تو زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا عمر بھر کی معذوری کا روگ لگ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچے قوم کا مستقبل ہیں اور حکومت بچوں کو بیماریوں سے محفوظ بنانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے بچوں کو بیماریوں سے محفوظ بنانے کے لئے حفاظتی ٹیکے لگانے اور ویکسین کی فراہمی پر خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے ۔مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ پولیو کے علاوہ حفاظتی ٹیکوں کی مہم کے دوان بچوں کو9 مہلک بیماریوں ،ٹی بی،پولیو خناق ،کالی کھانسی،تشنج،ہیپا ٹائٹس،گردن توڑ بخار، نمونیہ اور خسرہ سے بچاﺅ کے حفاظتی ٹیکے ہیلتھ سنٹرز،ہسپتالوں اور موبائل ٹیموں کے ذریعے بلا معاضہ لگائے جا تے ہیں۔انہوںنے کہا کہ گردے کے مریضوں کے لئے ڈائلسز کی سہولت کے لئے سرکاری ہسپتالوں کودوگنا فنڈز فراہم کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت مہلک اور خطرناک بیماریوں کے علاج معالجہ کے لئے سٹیٹ آف دی آرٹ طبی ادارے قائم کررہی ہے اور 2745ملین روپے کی لاگت سے جدید انسٹیٹیوٹ آف نیوروسائنسزقائم کیا جائے گاتاکہ لوگوں کو علاج معالجہ کی معیاری سہولتیں سستی اورمستحق مریضوں کو بلامعاوضہ دستیاب ہوں۔     انہوںنے کہا کہ کم وسائل رکھنے والے لوگوں کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کے لئے ہیلتھ انشورنس کارڈ کا اجراءکیا جائے گا جس کی بدولت کم آمدنی والے افراد نہ صرف سرکاری بلکہ بہترین نجی طبی اداروں میں بھی سٹیٹ آف دی آرٹ صحت کی سہولتیں حاصل کر سکیں گے ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -