صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال نا گزیر ہے،میاں محمد ادریس

صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال نا ...

  

                                 فیصل آباد(بیورورپورٹ) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں محمد ادریس نے کہا ہے کہ صنعتی کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے اور خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کیلئے آئی ٹی سلوشنز کیلئے IBEX جیسے مستند ادارے کی فیصل آباد آمد اس شہر اور علاقہ کی مجموعی ترقی کی سمت مثبت پیشرفت ہے۔ وہ آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں IBEX کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کر رہے تھے جس میں IBEX گلوبل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور کنٹری ہیڈ ندیم الہٰی نے پر شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل اداروں میں آج چلنے والی لومز بھی آئی آٹومیٹڈہیں جبکہ ہر شخص کے ہاتھ میں موجود موبائل فون بھی انواع اقسام کے سافٹ ویئر سے بھرا پڑا ہے۔ انہوں نے اس شعبہ میں ہونے والی محیر العقومی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایپل کی ٹیکنالوجی جو کبھی جدید ترین سمجھی جاتی تھی اب متروک ہو چکی ہے اور اس کی جگہ آج دنیا بھی چھبیس ہزار سے زائد کمپنیاں اینڈر ائیڈ کا سافٹ ویئر استعمال کر رہی ہیں۔ انہوں نے IBEX کی فیصل آباد آمد کو اس شہر کی خو ش قسمتی قرار دیا اور کہا کہ اس سے یہاں کے لوگوں کو نہ صرف آگاہی حاصل ہوگی بلکہ ان کیلئے مشکل حالات اور کم خرچ میں اپنے کاروبار کو بہتر اور منافع بخش طور پر چلانے میں بھی مدد ملے گی۔

 انہوں نے کہا کہ آبادی اور معیشت کے حوالے سے ملک کے تیسرے بڑے شہر میں IBEX کیلئے فیصل آباد چیمبرکے علاوہ 16 دیگرکاروباری ایسوسی ایشنز اور 106 اہم ادارے ہیں جن کو وہ اپنی خدمات دے سکتے ہیں۔ انہوں نے بارہ سال قبل اپنے دورہ چین کا حوالہ دیا اور کہا کہ انڈیا نے چین سے تعلقات بہتر ہونے کے صرف 2 تین سال بعد ہی چین کو آئی ٹی کے 2 بلین ڈالر کے سافٹ ویئر برآمد کئے تھے جبکہ ان کی آئی ٹی کی برآمدات 600 بلین ڈالر سے بھی تجاویز کر چکی ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کی مجموعی برآمدات صرف 20 بلین ڈالر ہیں اور ہم اب ان کو 25 بلین تک لے جانے کی کوششیں کر رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنی کمپنی ستارہ میں کمپی¿وٹرائزیشن کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 8 سال پہلے انہوں نے 35 ملین کا آئی ٹی پروگرام سیمنزسے خریدا تھا جبکہ اس کو پوری طرح استعمال میں لانے کیلئے انہیں ایک سال لگا۔ تاہم اس کی وجہ سے ان کی کمپنی دنیا کی 500اہم کمپنیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ IBEX کے کنٹری ہیڈ ندیم الہیٰ نے کہا کہ پاکستان میں آئی ٹی انڈسٹری کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں کمپنی ہر طرح کے کاروبار کیلئے ان کی ضروریات کے مطابق انتہائی موزوں نرخوں پر سافٹ ویئر تیار کر سکتی ہے اور اس سلسلہ میں ان کے پاس قابل اور محنتی ماہرین کی بڑی ٹیم موجود ہے ۔

مزید :

علاقائی -