67 سال میں آنیوالی تمام حکومتیں قوم کو حقیقی انصاف فراہم کرنے سے قاصر رہیں ،گورنر پنجاب

67 سال میں آنیوالی تمام حکومتیں قوم کو حقیقی انصاف فراہم کرنے سے قاصر رہیں ...
67 سال میں آنیوالی تمام حکومتیں قوم کو حقیقی انصاف فراہم کرنے سے قاصر رہیں ،گورنر پنجاب

  

                              لاہور (پینل انٹرویو: عامر خان، محمد نصیر الحق ہاشمی، تصاویر، ندیم احمد) انصاف کا حصول، معیاری تعلیم، صحت کی بنیادی سہولتیں اور روزگار کی فراہمی حکومت کی ترجیحات ہیں جمہوریت کا حسن بلدیاتی اداروں کے قیام میں ہے۔ بلدیاتی ادارے قیادت کے لئے نرسری کا کردار ادا کرتے ہیں اور ایسی قیادت مہیا کرتے ہیں جو ملک و قوم کے مفاد میں ہو۔ ان خیالات کا اظہار گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے روز نامہ ”پاکستان“ کو پینل انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 67 سال میں آنے والی تمام حکومتیں قوم کو حقیقی انصاف فراہم کرنے سے قاصر رہی ہیں، جس قوم میں انصاف ناپید ہو جائے وہ قوم کسی بھی شعبے میں ترقی نہیں کرتی، اس لئے حکومت کی اولین ترجیح انصاف کا فوری اور سہل حصول ہونا چاہئے۔ ہمارے ہاں بچوں اور بچیوں کے ساتھ بد اخلاقی، خواتین پر تیزاب پھینکنے اور قتل کے واقعات کے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ مظلوموں کو بروقت انصاف نہ ملنا بھی ہے، بلکہ اب تو بجائے مظلوم کی داد رسی کے، الٹا ان کے خلاف پرچے درج کرائے جاتے ہیں تاکہ انہیں صلح کے لئے مجبور کیا جا سکے۔ مہذب قوموں میں اول تو ایسے واقعات رونما نہیں ہوتے اگر ہوں تو ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ذمہ داری ریاست پر ہوتی ہے، ہمارے ہاں اس کے الٹ ہوتا ہے، اول تو ملزم گرفتار نہیں ہوتا اگر ہو جائے تو قانونی پیچیدگیوں کی بنا پر وہ چند ماہ بعد رہا ہو جاتا ہے اور پھر وہ پہلے سے زیادہ خطرناک مجرمانہ فعل انجام دیتا ہے۔ لہٰذا ہمیں بلا امتیاز انصاف کے حصول کو آسان اور موثر بنانا ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے بتایا کہ اس وقت ملک میں 23 ملین بچے ایسے ہیں جو سکول نہیں جاتے، دنیا بھر میں سکول نہ جانے والے بچوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں بستی ہے۔ یہ 23 ملین بچے ملک کا مستقبل ہیں جب یہ سکول نہیں جائیں گے تو ہمارا مستقبل تابناک کیسے ہوگا؟ ہمیں ان بچوں کی سکول میں حاضری کے لئے موثر اقدامات کرنے ہوں گے۔ پاکستان میں مسائل کے بڑھنے کی ایک وجہ بلدیاتی اداروں کے بروقت انتخابات نہ ہونا بھی ہیں اور ایک وجہ پاکستان کے اندرونی حالات بھی ہیں، جس ملک میں بلدیاتی ادارے جتنے زیادہ مضبوط ہوں گے، وہاں مسائل بھی اتنے ہی زیادہ کم ہوں گے، کیونکہ بلدیاتی ادارو ںکی موجودگی میں گلی محلے کے مسائل گلی محلے کی سطح پر ہی حل ہو جاتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں گورنر صاحب کا کہنا تھا کہ مسائل کے حل کے لئے یونین کونسل کی سطح پر مختلف کمیٹیاں تشکیل دینی چاہئے، ان کمیٹیوں میں حکومتی نمائندوں سمیت اپوزیشن کے نمائندے بھی شامل ہوں تاکہ وسائل اور مسائل کو مد نظر رکھ کر موثر حکمت عملی کے تحت انہیں استعمال کیا جائے، اس طرح درجہ بدرجہ بہتری آئے گی اور بجلی، پانی، گیس، سیوریج سمیت دیگر ترقیاتی کام بھی احسن طریقے سے پایہ¿ تکمیل کو پہنچےںگے۔ مُلک میں چیک اینڈ بیلنس کا سسٹم بہتر ہوگا تو کرپشن بھی بتدریج ختم ہو گی۔ اس حوالے سے میڈیا کو اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے میڈیا جاندار ہو اور اپنی ذمہ داری پوری کرے تو پھر کوئی ادارہ بھی غلط کام کرنے کی جرا¿ت نہیں کر سکتا۔ ایک اور سوال کے جواب میں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے بتایا کہ بیرون مُلک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے جو کمیشن بنا ہے امید ہے کہ اس سے ان کے مسائل حل ہوں گے اور کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں دوہری شہریت سمیت دیگر مسائل کے حل کے لئے شائد قانون سازی بھی کی جائے گی۔ گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے انٹرویو کی تفصیلات روزنامہ ”پاکستان“ کے سنڈے میگزین ہفت روزہ ”زندگی“ کے 18 جنوری کے شمارے میں ملاحظہ کی جائیں۔

مزید :

صفحہ اول -