عمران خان کا دورہ پشاور، آرمی سکول میں احتجاج کا سامنا

عمران خان کا دورہ پشاور، آرمی سکول میں احتجاج کا سامنا
عمران خان کا دورہ پشاور، آرمی سکول میں احتجاج کا سامنا

  

تجزیہ چودھری خادم حسین

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو گزشتہ روز پشاور میں احتجاج کا سامنا کرنا پڑا وہ آرمی سکول کے معصوم بچوں کی دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت کے حوالے سے تعزیت کرنا اور سکول جا کر اظہار یکجہتی کرنا چاہتے تھے۔ وہ صوبائی وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے ہمراہ جب پورے پروٹوکول کے ساتھ آرمی سکول پہنچے تو وہاں ان کو شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ شہداءاور طلباءکے والدین اس اطلاع پر پہلے سے موجود تھے کہ عمران آ رہے ہیں۔ ان کے آتے ہی ”گو عمران گو“ کے نعروں سے ان کا استقبال ہوا اور پھر لائیو کوریج کے ذریعے عوام نے ان کو وہاں سے بھاگتے ہوئے بھی دیکھا۔ گاڑی تیزی سے واپس لے جائی گئی کہ حادثے کا بھی خدشہ محسوس ہوا۔ یوں خود احتجاج کرنے اور دھمکیاں دینے والوں کو جب ان حالات کا سامنا کرنا پڑا تو وہ کہہ اٹھے۔ ”یہ سب بدمزگی پیدا کرنے کے لئے کیا گیا“

بات صرف اتنی ہے کہ خیبر پختون خوا میں اقتدار تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے پاس ہے۔ تاہم بڑا حصہ دار ہونے کی وجہ سے تصور یہی کیا جاتا ہے کہ تحریک انصاف ہی حکمران ہے اور پھر عمران خان دعوے دار بھی ہیں۔ چنانچہ شہدا اور طلباءکے والدین کو حفاظتی انتظامات کے حوالے سے شکوہ تھا اور پھر عمران خان کی شادی اور اس کی کوریج نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا یوں بھی اس پورے عرصہ میں وہ جائے حادثہ پر گئے ہی نہیں تھے۔ اس پر وارثوں میں اشتعال پایا جاتا تھا۔ بہر حال سکول سے مایوس لوٹنے کے بعد وزیر اعلیٰ ان کو دو شہید بچوں کے گھر بھی لے گئے جہاں انہوں نے وقت گزارا تعزیت اور فاتحہ خوانی بھی کی۔

عمران خان کا ردعمل اپنی جگہ تاہم اگر اس امر کو مد نظر رکھا جائے کہ آرمی سکول کا سانحہ کتنا بڑا تھا اور پوری قوم کتنی سوگوار تھی اور ہے۔ تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ معصوم بچوں کے ورثاءہی نہیں۔ عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ دہشت گرد انجام کو پہنچیں اور معصوم شہدا کی جانوں کا بدلہ لیا جائے۔ اس سلسلے میں سانحہ کے بعد جو اتحاد پیدا ہوا وہ تسلی کے لئے بہت تھا لیکن اب اس کو بھی پارہ پارہ کیا جانے لگا ہے تو متاثرین کے بھی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ عمران خان بھی احتجاج کی راہ پر چل نکلے ہیں اس سے جذباتی ردعمل سمجھ میں آتا ہے اور عمران خان بھی سمجھ گئے ہوں گے ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے اور جس کے خلاف احتجاج ہو اس کے جذبات کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے اندر بھی بعض پالیسی امور پر اختلافی نقطہ نظر سامنے آیا ہے۔ یہ ان کا جماعتی معاملہ ہے، تاہم مرکزی سطح پر اب یہ محسوس کیا جانے لگا ہے کہ عمران خان مشاورت کا صرف بھرم رکھتے ہیں ورنہ فیصلے وہ خود ہی کرتے ہیں اور شیخ رشید ان کو خراب کر رہے ہیں۔ بہر حال یہ ان کی جماعت کا اندرونی معاملہ ہے اور ایسا نہیں کہ جماعت متاثر ہو البتہ آگے چل کر حالات کچھ اور رخ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ شاید ایسی ہی وجوہات کی بناءپر دھرنا جلسے کی جگہ دھرنا کنونشن کر دیا گیا، 18 جنوری کو ڈی چوک میں جلسہ نہیں۔ ہوٹل میں کنونشن ہوگا اور ایسے ہی اگلے تین کنونشن کراچی، لاہور اور فیصل آباد میں ہوں گے۔

آپریشن ضرب عضب جس سطح پر ہے اس پر ملک کسی گڑ بڑ یا تحریک کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ضد الگ چیز ہے سیاسی ذہن رکھنے والی قیادت کو یہ ادراک ہونا چاہئے کہ یہ نازک مرحلہ ہے جب آپریشن کو پورے ملک میں پھیلایا گیا ہے اور عوام سے بھی تعاون حاصل کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں سیاسی جلسے اور مظاہرے عوام کی توجہ مبذول نہ کرا سکیں گے، جہاں تک مطالبات اور احتجاج کا تعلق ہے تو یہ سب کا حق ہے تاہم اس حق کے استعمال کے لئے بھی فضا ساز گار ہونا ضروری ہے یہاں تو تمام انتظامی مشینری ختم ہو گئی اور ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی شروع ہو گئی۔ عمران خان نے پھر الٹی میٹم دے دیا اس پرہر طرف سے حکومت پر دباﺅ آیا کہ وہ معاملات کو حل کرے کہ اس کی ذمہ داری زیادہ ہے تاہم احتجاج نے عوامی ذہنوں میں تبدیلی پیدا کی ہے یوں بھی جوڈیشل کمیشن کا قیام کسی قانون، قاعدے اور آئینی طریق کار کے مطابق عمل میں آتا ہے حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کو بھیجی گئی درخواست پر عدالت عظمیٰ نے کمیشن نہیں بنایا تو بہتر طریقہ یہ ہے کہ فریقین مذاکرات کے ذریعے طریق کار اور ریفرنس کے نکات طے کر لیں پھر دونوں کی طرف سے عدالت عظمیٰ سے مشترکہ اپیل کی جائے تو کمیشن وجود میں آ جائے گا دونوں فریقوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

ایک اچھی خبر یہ ہے کہ افغانستان نے پاکستان کی انٹیلی جنس معلومات کی روشنی میں پانچ ملزم گرفتار کر لئے ہیں جو آرمی سکول کے سانحہ میں ملوث ہیں۔ اس سلسلے میں آئی۔ ایس۔ آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کا دورہ کابل بہت کامیاب رہا ہے یہ بھی طے ہو گیا کہ موجودہ افغان حکومت دہشت گردی کے خلاف تعاون کر رہی ہے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی اس حوالے سے اپنی معاونت کا یقین دلایا ہے۔ یہ بہتری کے آثار ہیں سیاسی جماعتوں کو ادراک کرنا چاہئے اور حکومت پر بھی لازم ہے کہ وہ تحفظات کو دور کرے۔

مزید :

تجزیہ -