ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کا سمگل شدہ اور ٹمپرڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن سے انکار

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کا سمگل شدہ اور ٹمپرڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن سے ...

  

                            لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل)ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے ایف بی آر کے تحریر ی طورپر رجوع کرنے کے باجود نا ن کسٹمز، سمگل شدہ، چوری شدہ اور ٹمپرڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن سے انکار کردیا ہے۔معلوم ہواہے کہ ایف بی آر اور ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے مابین گزشتہ چند ماہ سے پاکستان کسٹمز کے زیر قبضہ نا ن کسٹمز، سمگل شدہ، چوری شدہ اور ٹمپرڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن کی رجسٹریشن کا معاملہ چل رہا تھا۔ایف بی آر کا اصرار تھا کہ ٹمپرڈ اور سمگل شدہ گاڑیاں قانونا ً رجسٹرڈ ہوسکتی ہیں۔ اور ایکسائز اینڈٹیکسیشن پنجاب کو کارسرکار میں استعمال کی خاطر ایسی گاڑیاں رجسٹرڈ کرنی چاہیں۔ تاکہ کسٹمز حکام پیشہ وارانہ سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے ایسی گاڑیاں استعمال کرسکیں۔کسٹمز حکام کا موقف تھا کہ محکمہ نا ن کسٹمز، سمگل شدہ، چوری شدہ اور ٹمپرڈ گاڑیوں کو رجسٹریشن کے بغیر چلا کر موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہتا۔ اس ضمن میں کسٹمز ایکٹ 1969اور موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965کا حوالہ دیا گیا ہے۔ لیکن جواب میں ایکسائز اینڈٹیکسیشن نے ٹمپرڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن سے انکار کردیا۔ اس سلسلے میں ڈائریکٹر موٹرز کی طرف سے ایف بی آر کے ہیڈ کوآرٹر کو لکھے جانے والے خط میں موقف اختیار کیا تھا کہ ٹمپرڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن سے صوبے میں ایسی گاڑیوں کا سیلاب امڈ آئیگا۔دوسری طرف ایف بی آر کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ہیڈ کوآرٹر نعمان تاشفین کی طر ف سے محکمے کو لکھے جانے والے خط میں موقف اختیار کیا گیا تھاکہ کسٹمز ایکٹ1969کے سیکشن182کے تحت کسٹم افسران سمگل شدہ، نان کسٹم ، چوری شدہ اور ٹمپرڈ گاڑیوں کوکارسرکار کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ اسی طرح خط میں مزید لکھا گیا کہ موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965کے سیکشن 41کے تحت ایکسائز اینڈٹیکسیشن کسی خاص شخص یا ادارے کی گاڑیوں کو مخصوص حالات میں رجسٹرڈ کرسکتا ہے۔لیکن ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے جوابی خط میں موقف اختیار کیا ہے کہ ٹمپرڈ اور سمگل شدہ گاڑیوں کی رجسٹریشن شروع کی گئی تو اس سے معاملات خراب ہونگے اور ایسی گاڑیوں کا سیلاب امڈ آئیگا۔

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن

مزید :

صفحہ آخر -