مسجد میں بچے کے وحشیانہ قتل میں ملوث ملزم گرفتار

مسجد میں بچے کے وحشیانہ قتل میں ملوث ملزم گرفتار
مسجد میں بچے کے وحشیانہ قتل میں ملوث ملزم گرفتار

  

 لاہور(کرائم سیل ) ایس پی سی آئی اے محمد عمر ورک کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے قریبا دو ہفتے قبل گرین ٹاؤن کی ایک مسجد میں ایک معصوم بچے معین کو گلے میں پھندا ڈال کر قتل کرنے والے سفاک ملزم شعیب کو گرفتار کر لیا ہے ۔ اس واقعہ کا مقدمہ 2 جنوری کو تھانہ گرین ٹاؤن میں درج ہوا تھا۔ ملزم کی گرفتاری فرانزک لیبارٹری سے DNA کی رپورٹ کے بعد عمل میں لائی گئی یہ امر قابل ذکر ہے کہ واقعہ کے بعد اہل علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے روڈ بلاک کر دی تھی اور اعلیٰ حکام کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم کیا تھا۔یہ بات سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر)محمد امین وینس نے آج اپنے دفتر میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں کو پریس کانفرنس کے دوران بتائی انہوں نے کہا کہ پولیس نے اس مقدمہ میں مختلف زاویوں سے تفتیش کرتے ہوئے آٹھ ، نو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا تھا۔کیس انتہائی پیچیدہ تھا لہذا ایس پی سی آئی محمد عمر ورک کواس مقدمہ کی تفتیش سونپی گئی جنہوں نے ایس ایس پی انویسٹی راناایاز سلیم کے ہمراہ اس کیس کی تفتیش میں دل و جان سے محنت شروع کر دی اور کرائم سین سے تمام شہادتیں اکٹھی کرنے کے بعد سی آئی اے نے جدید طریقہ تفتیش استعمال کرتے ہوئے مسجد کے نمازیوں اور اہل علاقہ سے حقائق جاننا شروع کیے۔ اس دوران ایس پی سی آئی اے نے ایک روز سارا دن مسجد میں بیٹھ کر اس کیس کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی ۔میں یہاں ایس پی سی آئی اے اور ان کی ٹیم کواس مقدمہ کی تفتیش نہایت پیشہ وارانہ انداز میں کرنے اور موقع سے شہادتیں اکٹھی کرنے کے ساتھ ساتھ تفتیش میں ان کا درست استعمال کرتے ہوئے ملزم کو گرفتارکرنے پر ایس پی سی آئی اے محمد عمر ورک اور پولیس ٹیم کے لئے 50 ہزار روپے نقد انعام اور تعریفی سرٹیفکیٹ کا بھی اعلان کرتا ہوں ۔ سی سی پی او نے بتایا کہ ملزم شعیب جو قریبی علاقے کا ہی رہنے والا ہے بچوں سے بدفعلی کرنے کا عادی ہے اور اس سے قبل بھی وہ کئی بچوں کو اپنی جنسی درندگی کی ہوس کا نشانہ بنا چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی سی آئی اے نے پہلے چند روز کی تفتیش میں ہی ملزم شعیب کو اس لرزہ خیز واردات میں ملوث ہونے کے حوالے سے بتا دیا تھا لیکن پولیس اس حوالے سے بہت محتاط تھی اور کوئی رسک نہیں لینا چاہتی تھی اس لیے پولیس ٹیم نے اس مقدمہ میں روایتی تفتیش کی بجائے تفتیش کی جدید تکنیک کے استعمال کے ساتھ ساتھ DNA ٹیسٹ سمیت فرانزک لیبارٹری کی خدمات سے بھر پور استفادہ کیا اور فرانزک لیبارٹری سے DNA کی رپورٹ نے یہ ثابت کر دیا کہ ملزم شعیب ہی اس گھناؤنی واردات کا اصل ذمہ دار ہے ۔ آخر میں پولیس نے سفاک ملزم شعیب کو میڈیا کے سامنے پیش کیا جس نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے سارا واقعہ انہیں بتایا ۔ملزم نے بتایا کہ اس نے معین کو صرف اس لئے پھندا دے کر مار دیا تھا کیونکہ اسے یہ ڈر تھا کہ یہ ہوش میں آکر میرا راز فاش کر دے گا ۔ صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ملزم نے بتایا کہ وہ اس سے قبل بھی کئی بچوں کو بدفعلی کا نشانہ بنا چکا ہے جس پر صحافیوں نے اس سے کہا کہ تو پھر تم نے ان بچوں کو قتل کیوں نہیں کیا جس پر ملزم نے جواب دیا کہ جن بچوں سے میں نے پہلے بدفعلی کی وہ مجھ سے پیسے لیکر یہ کام کرواتے تھے لہذا مجھے ان کی طرف سے کوئی ڈر نہیں تھا۔ملزم سے جب یہ سوال کیا گیا کہ تمہیں اپنے کیے پر کوئی ندامت نہیں ہے کہ تم نے ایک معصوم بچے کو جان سے مار دیا تو ملزم نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے وہ مجھے معاف کردے گا۔ ملزم گرفتار

مزید :

صفحہ آخر -