فرانسیسی حکومت نے منافقت کی انتہا کردی، مسلمانوں کو آزادی اظہار کا سبق پڑھانے کے بعد خود ہی۔۔۔

فرانسیسی حکومت نے منافقت کی انتہا کردی، مسلمانوں کو آزادی اظہار کا سبق ...
فرانسیسی حکومت نے منافقت کی انتہا کردی، مسلمانوں کو آزادی اظہار کا سبق پڑھانے کے بعد خود ہی۔۔۔

  

پیرس (نیوز ڈیسک) مغرب کی منافقت اور دہرا معیار بار بار دنیا کے سامنے بے نقاب ہوتا رہا ہے اور فرانسیسی میگزین ”شارلی ایبڈو“ پرہونے والے حملے کے بعد ایک دفعہ پھر اس سے پردہ اٹھ گیا ہے۔

اس حملے کے بعد سارے یورپ کے رہنماءپیرس میں اکٹھے ہوئے اور لاکھوں لوگوں اور رہنماﺅں نے آزادی اظہار کے حق میں ریلیاں نکالیں لیکن محض دو دن بعد ہی قابل اعتراض خیالات کا اظہار کرنے کا الزام لگا کر لوگوں کی گرفتاریاں شروع ہو گئیں اور اب تک 54 لوگوں کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا ہے کہ وہ شدت پسندوں کی حمایت اور تعریف پر مبنی خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔

بھارت میں ایک اور متنازع فلم پر پابندی

دنیا بھر میں شہرت رکھنے والے معروف اور معتبر امریکی صحافی گلین گرین والڈ نے ان گرفتاریوں کے بعد پیرس میں آزادی اظہار رائے کے حق میں لگائے جانے والے نعروں کو جعلسازی قرار دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ آزادی اظہار کا اصول اپنی پسند کے مطابق استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ مغربی حکومتیں قانون کا سہارا لے کر سیاسی بیانیے کو کنٹرول کر رہی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کی ایک قسم (مسلم دنیا میں تشدد) مغرب کے خلاف نہیں بلکہ یہ دہشت گردی مغرب خود کر رہا ہے۔ ان کا اشارہ، عراق، افغانستان اور دیگر اسلامی ممالک میں مغربی مداخلت کی طرف تھا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -