ہمیں عقل داڑھ کی ضرورت کیوں نہیں ہوتی؟ انتہائی دلچسپ بات جو اکثر لوگوں کو معلوم نہیں

ہمیں عقل داڑھ کی ضرورت کیوں نہیں ہوتی؟ انتہائی دلچسپ بات جو اکثر لوگوں کو ...
ہمیں عقل داڑھ کی ضرورت کیوں نہیں ہوتی؟ انتہائی دلچسپ بات جو اکثر لوگوں کو معلوم نہیں

  

لندن(نیوزڈیسک)ہر انسان کی منہ میں کافی دانت ہوتے ہیں جن میں آٹھ سامنے والے دانت(چار اوپر اورچار نیچے)،چار نوکیلے دانت،آٹھ داڑھیں،آٹھ داڑھوں کے ساتھ والے دانت اور چار تیسری داڑھیں ہوتی ہیں۔ان چار تیسری داڑھوں کو عقل کی ڈارھیں بھی کہاجاتا ہے۔

یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ کچھ لوگوں کے یہ عقل داڑھیں موجود ہوتی ہیں اور کچھ اس کے بغیر کی زندگی گزار لیتے ہیں۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عقل داڑھ کے بغیر گزارا کیا جاسکتا ہے؟تو اس بات کا جواب مثبت میں ہے اور ضروری نہیں کہ ہرانسان کے منہ میں تمام کے تمام 32دانت ہی موجود ہوں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہماری عقل داڑھ کے ٹشوز 12سال کی عمر میں بننا شروع ہوتے ہیںاور25سال کے بعد یہ نکلتے ہیں،اسی لئے انہیں عقل داڑھ کا نام بھی دیاجاتا ہے۔تاہم ضروری نہیں کہ ہر انسان کے منہ میں یہ عقل داڑھیں موجود ہوں،دنیا بھر میں 65فیصد لوگوں کے منہ میں چار کی چار عقل داڑھیں بنتی ہی نہیں۔کچھ لوگوں کے منہ میں ایک،دو یا تین تک داڑھیں نکلتی ہیں اور کئی کے منہ میں چوتھی داڑھ نکلتی ہی نہیں۔سائنسدانوں کا کہنا ہے100ملین سال قبل کے انسان کے منہ میں اتنی زیادہ جگہ ہوتی تھی کہ اس کے منہ میں بآسانی 32دانت نکل آتے تھے اور کچے پھل اورسبزیاں کھانے میں اسے آسانی ہوتی تھی ۔سخت کھانوں کی وجہ سے اسے ان داڑھوں کی زیادہ ضرورت ہوتی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ کھانا پکاکر کھانے کی عادات بڑھنے سے انسان تن آسان ہونے لگا جس کی وجہ سے اس کا منہ چھوٹا ہونے لگااور تمام کے تمام 32دانتوں کے لئے منہ میں جگہ کم پڑنے لگی اور یوں دنیا میں کئی لوگ ایسے بھی ہیں جن کے منہ میں عقل داڑھیں ہی نہیں ہوتیں۔چونکہ ہم ایسا کھانا کھاتے ہیں جس میں چبانے کی بہت زیادہ ضرورت نہیں ہوتی اس لئے عقل داڑھوں کی ضرورت بھی زیادہ نہیں ہوتی اور ان کے بغیر بھی کام چلایا جاسکتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس