اس گاﺅں کے رہنے والے باشندے اپنے پورے جسم پر یہ ایک لفظ کیوں لکھواتے ہیں؟ ایسی وجہ جسے جان کر پاکستان سے آپ کی محبت میں مزید اضافہ ہوجائے گا

اس گاﺅں کے رہنے والے باشندے اپنے پورے جسم پر یہ ایک لفظ کیوں لکھواتے ہیں؟ ...
اس گاﺅں کے رہنے والے باشندے اپنے پورے جسم پر یہ ایک لفظ کیوں لکھواتے ہیں؟ ایسی وجہ جسے جان کر پاکستان سے آپ کی محبت میں مزید اضافہ ہوجائے گا

  

نئی دلی (نیوز ڈیسک) بھارت میں ذات پات کی تفریق کے متعلق آپ نے بہت کچھ سن رکھا ہوگا لیکن ایک بھارتی گاﺅں کے باسیوں کے جسم معاشرے کے اس شرمناک پہلو کی کہانی آج بھی بیان کرتے نظر آتے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاست چھتیس گڑھ کا گاﺅں جام گاہاں ایک حیرت انگیز جگہ ہے کہ جہاں ہر شخص کے پورے جسم پر ایک عجیب و غریب ٹیٹو نظر آتا ہے۔ یہاں ہر شخص نے اپنے جسم کو لفظ ”رام“ کے ٹیٹو سے بھر رکھا ہے اور یہ روایت ایک صدی سے بھی زائد عرصے سے جاری ہے ۔

گاﺅں والوں کے منفرد اور متنازعہ ٹیٹو کی وجہ بھی انتہائی دلچسپ ہے۔ اس معاملے کا آغاز اس وقت ہوا جب گاﺅں کے اونچی ذات کے ہندوﺅں نے نچلی ذات کے لوگوں کے لئے بھگوان کا نام لینا اور مندر جانا منع قرار دے دیا۔ اس فیصلے کے خلاف احتجاج کے لئے نچلی ذات کے لوگوں نے اکٹھے ہوکر فیصلہ کیا کہ وہ اپنے جسموں کو رام کے نام سے ڈھانپ دیں گے تاکہ اونچی ذات والوں کو معلوم ہو جائے کہ وہ بھگوان کے ٹھیکے دار نہیں ہیں۔

مزید جانئے: اپنے ہی جسم کی چربی سے صابن بنا کر ’محبوب‘ کو بھیج دیا وجہ ایسی کہ سن کر آپ کا محبت سے اعتماد اٹھ جائے گا

اس دن کے بعد سے اس گاﺅں کے تمام لوگ اپنے پورے جسم پر لفظ رام کے ٹیٹو بنواتے ہیں اور آج بھی یہاں پیدا ہونے والے بچوں کے جسم پر یہ ٹیٹو بنائے جاتے ہیں۔ زمانہ بدلنے کے ساتھ نئی نسل میں کچھ تبدیلی ضرور آئی ہے اور بڑے شہروں میں تعلیم اور روزگار کے لئے جانے والے افراد اپنی پورے جسم کی بجائے صرف کچھ مخصوص حصوں پر یہ ٹیٹو بنواتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے گھروں کی دیواروں پر بھی لفظ ”رام“ کندہ کرتے ہیں اور 100 سال قبل شروع ہونے والا احتجاج آج بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس