مقبوضہ کشمیر میں نصف شب کو ایک مرتبہ پھر زلزلے کے جھٹکے

مقبوضہ کشمیر میں نصف شب کو ایک مرتبہ پھر زلزلے کے جھٹکے

سری نگر(کے پی آئی)مقبوضہ کشمیر میں نصف شب کوایک مرتبہ پھر زلزلے کے جھٹکوں سے خوف و ہراس پھیل گیاجبکہ افغانستان اور پاکستان کے متعدد علاقوں میں بھی زلزلہ محسوس کیا گیا جس کی شدت ریکٹر پیمانے پر5.6 اور5.9بتائی گئی ہے ۔ وادی کے اطراف و اکناف میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب کے ایک بجکر34منٹ پرزلزلے کے زوردار جھٹکے محسوس کئے گئے جس کے نتیجے میں رہائشی مکانوں اور دیگر عمارات کے درودیوار ہل گئے اورگہری نیند میں محو لوگ خوف وہراس کے عالم میں کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر آئے۔سرینگر میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے جس کے باعث لوگوں میں اتھل پتھل مچ گئی اور وہ شدید سردی کے باوجود افراتفری کے عالم میں رہائشی مکانات سے باہر آگئے ۔زلزلے کے جھٹکوں سے سرینگر سمیت وادی کے شمال و جنوب میں لوگوں پر خوف طاری ہوا تاہم جھٹکے کچھ سیکنڈ تک ہی جاری رہے تاہم کسی جگہ کوئی نقصان نہیں ہوا۔وادی کے ساتھ ساتھ کنٹرول لائن کے دوسری طرف کے علاقوں میں بھی زلزلے کے زوردار محسوس کئے گئے جن میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے کئی شہر شامل ہیں۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد، صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخواہ سمیت شمالی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر پیمانے پر5.6تھی ،اس کا مرکزا افغان تاجکستان سرحد پر ہندو کش پہاڑیوں میں تھااور یہ زمین کے اندر قریب220کلومیٹر کی گہرائی میں آیا۔

پاکستان کے زلزلہ پیما سینٹرکا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت5.9 تھی تاہم اس کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ سینٹر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش افغانستان تھا اور اس کی گہرائی194 کلو میٹر تھی۔خیال رہے کہ حالیہ عرصے پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک میں آنے والے زلزلوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران ہندو کش پہاڑی سلسلے میں کئی زلزلے آئے ہیں۔یہ زلزلے وادی کشمیر میں بھی شدت کے ساتھ محسوس کئے جارہے ہیں ۔منگل کو آنے والا زلزلہ دسمبر2015سے اب تک پانچواں زلزلہ تھا۔

مزید : عالمی منظر