چین کیساتھ کاروباری روابط مزید مستحکم کرنے کیلئے اگلے ہفتے تجارتی کانفرنس ہو گی ، دستگیر خرم

چین کیساتھ کاروباری روابط مزید مستحکم کرنے کیلئے اگلے ہفتے تجارتی کانفرنس ...

 اسلام آباد(اے پی پی) وفاقی وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان کے مابین تجارت اور کاروباری تعلقات کو مزید بڑھانے اور مستحکم کرنے کے لئے آئندہ ہفتے ’’پاک چین تجارتی مواقع کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا جارہاہے ، تین سالہ تجارتی پالیسی کا مسودہ تیار ہے اور وزیراعظم کی منظوری کے بعد اس کا اعلان کر دیا جائے گا، پاکستان کی تجارت پر عالمی کساد بازاری کے اثرات مرتب ہوئے ہیں جس سے نمٹنے کیلئے معیشت کے مختلف شعبوں کو جدید تقاضوں اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اقدامات جاری ہیں ، حکومت کی کاوشوں اور وزیراعظم کے وژن کے تحت حکومت نے میکرو اکنامک استحکام حاصل کرلیا ہے ،زرمبادلہ کے ذخائر عالمی معیار کے مطابق ہیں، اقتصادی راہداری کے تحت توانائی کے شعبہ میں 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’اے پی پی‘‘ کو خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ وزارت تجارت کے زیراہتمام پاکستان میں چین کے سرمایہ کاروں کو مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا جارہاہے ، ’’پاکستان میں تجارتی مواقع‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ کانفرنس منعقد کی جائے گی، کانفرنس کے انعقاد کا مقصد دونوں ممالک کے مابین تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کو مزید وسعت دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لئے پانچ اچھی خبریں ہیں کہ پاکستان نے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات کئے جس سے ملک میں امن و امان کے قیام میں مدد ملی ، حکومت کی کاوشوں سے میکرو اکنامک استحکام آ گیا ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ، توانائی بحران پر بتدریج قابو پایا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں موثر حکمت عملی کے تحت کام کیا جا رہا ہے، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے تحت صرف 35 ارب ڈالر کے مختلف منصوبے توانائی کے شعبہ کے لئے ہیں۔ وزیرتجارت نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کوششوں سے پاکستان نے سیاسی استحکام حاصل کرلیا ہے ،ان اچھی خبروں سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بھی بڑھے گا۔ وفاقی وزیر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایک ایل این جی ٹرمینل فعال ہو گیا ہے ، صنعتی اور گھریلو صارفین کے لئے گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لئے دوسرا ایل این جی ٹرمینل جلد کام شروع کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ تین سالہ تجارتی پالیسی کا مسودہ تیار ہے اور وزیراعظم کی منظوری کے بعد اس کا جلد اعلان کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کی کمیٹی برائے پیداوار، برآمدات اور درآمدات جس کے سربراہ وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار ہیں، نے پہلے ہی تجارتی پالیسی کے فریم ورک کی منظوری دے دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجارتی پالیسی کے متعلقہ ماہرین کی رائے اور تجاویز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کے وژن کے تحت تجارت کو افغانستان سمیت وسطی ایشیائی ریاستوں تک فروغ دیا جا رہا ہے۔ خطے کے ممالک کے ساتھ تجارت کو بڑھایا جا رہا ہے، اس سلسلے میں 1000 میگاواٹ بجلی تاجکستان سے درآمد کی جائیگی جبکہ تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کے ذریعے گیس کی کمی کو پورا کیا جائیگا ۔ انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین کی طرف سے جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد 19 ماہ میں پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں 37 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وزارت تجارت نے پہلی مرتبہ زرعی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے پر توجہ مرکوز کررکھی ہے ، زرعی مصنوعات کی برآمدات کے لئے موثر اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی زرعی مصنوعات کی کھپت کے لئے نئی منڈیاں بھی تلاش کی جا رہی ہیں، فلپائن اور کیوبا بالترتیب 10 ہزار اور 15 ہزار ٹن چاول پاکستان سے درآمد کررہے ہیں جبکہ انڈونیشیا بھی چار کروڑ ڈالر مالیت کا چاول درآمد کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ترکی، تھائی لینڈ اور جنوبی کوریا کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے (ایف ٹی اے) کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ تجارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی لا کر عالمی سطح پر پاکستانی مصنوعات کی کھپت بڑھائی جا سکے۔

مزید : کامرس


loading...