آم کے پودوں کے تنوں پر دو سے تین فٹ کی بلندی پر بند لگائیں، ماہرین

آم کے پودوں کے تنوں پر دو سے تین فٹ کی بلندی پر بند لگائیں، ماہرین

فیصل آباد (آن لائن)باغبان آم کے باغات کو گدھیڑی کے متوقع نقصانات سے بچانے کے لیے پودوں کے تنوں پر دو سے تین فٹ کی بلندی پر بند لگائیں تاکہ سردی کے فوراََ بعد زمین سے نکلنے والے گدھیڑی کے نوزائندہ بچے تنے کے ذریعے پودوں پر چڑھ کر نقصان نہ پہنچا سکیں۔محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق آم کی گدھیڑی کے انسداد کے لیے پودوں کے تنوں پر لگائے جانے والے بند دو قسم کے ہوتے ہیں ۔چپکانے والے بندکی چوڑائی8سے10سینٹی میٹر جبکہ پھسلانے والے بند کی چوڑائی 15سے 30سینٹی میٹر ہوتی ہے ۔باغبان پودوں کے تنوں پر لگائے گئے بندکا باقاعدگی سے معائنہ کرتے رہیں۔چپکانے والے بند خشک ہونے پر انہیں دوبارہ لگائیں اورپلاسٹک شیٹ کے بنے ہوئے پھسلانے والے بند لگانے سے پہلے یہ یقین کر لیں کہ تنے کی سطح ہموار ہے ۔

سردیوں کے اختتام پر درجہ حرارت میں اضافہ ہونے پراس بند کے نیچے گدھیڑی کے بچے کثیر تعداد میں نظر آتے ہیں جو پودوں کے اوپر چڑھنے کی کوشش میں ہوتے ہیں ۔ زہروں کے بروقت استعمال سے گدھیڑی کے بچوں کو کو ختم کیا جاسکتا ہے اور اس ضرر رساں کیڑے کا بروقت تدارک انتہائی ضروری ہے کیونکہ جب یہ کیڑا پودوں پر حملہ آور ہو جائے تو کیمیائی زہروں کے استعمال سے اس کا انسداد مشکل ہو جاتا ہے۔حملہ کی صورت میں پرو فینو فاس زہر بحساب 500ملی لٹر فی 100لٹر پانی یا امیڈا کلوپرڈ زہر بحساب 200ملی لٹر فی 100لٹر پانی میں ملا کر درختوں کے تنوں پر پودے کے گھیرے میں ، خالی زمین پر ،سیاڑوں اور دیواروں پر سپرے کریں تاکہ آم ۔

مزید : کامرس


loading...