چھوٹے اور بڑے آبی ذخیروں کی تعمیرمیں مزید تاخیرخطرناک ثابت ہوگی

چھوٹے اور بڑے آبی ذخیروں کی تعمیرمیں مزید تاخیرخطرناک ثابت ہوگی

فیصل آباد (آن لائن)پنجاب کے کاشتکار 12لاکھ زرعی ٹیوب ویلوں کے ذریعے آبپاشی کیلئے قطعاً غیرموزوں پانی کی ہوش ربا پمپنگ کر رہے ہیں جس سے زیرزمین پانی کے وسائل تیزی سے کم ہورہے ہیں لہٰذا چھوٹے اور بڑے آبی ذخیروں کی تعمیرمیں مزید تاخیرخطرناک ثابت ہوگی ،چھوٹے زرعی رقبوں کو منافع بخش کاروباری یونٹ بنانے کیلئے ضروری ہے کہ نچلی سطح پر کوآپریٹو فارمنگ کی چھتری تلے مختلف فصلوں کے بیج‘ کھادیں‘ آبپاشی اور زرعی آلات و مشینری کی مشترکہ خریداری و استعمال یقینی بناکر پیداواری لاگت میں کمی لائی جائے۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آبا دکے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر اقرار احمد خاں نے پاک امریکہ مرکزاعلیٰ تعلیم ایگریکلچرل و فوڈ سیکورٹی کے زیراہتمام منعقدہ گول میز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں زیادہ پیداوارکے حوالے سے ٹیکنالوجی کی چنداں کمی نہیں یہی وجہ ہے کہ ایک ترقی پسند کاشتکار کے 80من فی ایکڑ پیداوار کے مقابلہ میں عام کاشتکار کی پیداوار 28من سے آگے نہیں بڑھ پا رہی جس کی بڑی وجہ چھوٹے اور عام کاشتکارکے محدودمالی وسائل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہرچندپاکستان میں دیہی معاشرت خاندان اور برادریوں کے پیچیدہ مسائل کا شکار ہے تاہم اگر کوآپریٹوفارمنگ میں اپنے معمولی مسائل اور تحفظات کوآڑے نہیں آنے دیاجائے تو دیہی ترقی میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے ۔ مرکز اعلیٰ تعلیم کے چیف آف پارٹی پروفیسرڈاکٹر بشیر احمد نے کہا کہ ملک میں 90فیصد کاشتکاری چھوٹے کسانوں کے ہاتھوں میں ہے جو محدود مالی وسائل کی وجہ سے نہ تو وقت پر زرعی مداخل خرید پاتے ہیں اور نہ ہی فصلوں کی برداشت و بعد از برداشت اُمور پر خاطر خواہ سرمایہ کاری کی استطاعت رکھتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی آمدنی بڑھ نہیں پا رہی۔

ملک میں مجموعی قومی پیداوار کے صرف 0.3فیصد زرعی تحقیقی فنڈزپر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر بشیر احمد نے کہا کہ دوسرے ممالک میں یہ شرح پانچ فیصد سے زیاد ہ ہے۔ انجمن کاشتکاران پنجاب کے رانا افتخار محمد نے انکشاف کیا کہ ان کا ادارہ صوبے کے 30دیہاتوں میں کوآپریٹو فارمنگ کا پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے جا رہا ہے جس کا جائزہ لینے کے بعد مزید اصلاحات کے ساتھ اس کا دائرہ 5ہزار دیہاتوں تک پھیلا دیا جائیگا۔آؤٹ ریچ چیئرکے سربراہ ڈاکٹر بابر شہباز نے جدید فارمنگ کے تناظر میں انفرمیشن و کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے مفید معلومات اور خدشات کی بروقت نشاندہی کرکے ممکنہ نقصان کی شرح کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ کھیت میں فصلوں کی پیداوارکا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔پالیسی چیئر کے سربراہ ڈاکٹر جمیل خاں نے کہا کہ غذائی استحکام کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا 76واں ملک ہے جس کی 50فیصد سے زائد آبادی کو غذائی قلت کے چیلنج کا سامنا ہے۔ ڈاکٹر جہانزیب چیمہ نے پری سیئن ایگریکلچرکی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ آج وقت آگیا ہے کہ ہم زراعت پر قدیم اندازوں کی بجائے ہر ایک منٹ اور فرٹیلائزرکے ضیاع کو روکتے ہوئے ایک ایک روپے کی بچت کریں۔ اجلاس سے کلائمیٹ چینج چیئر کے سربراہ ڈاکٹر اشفاق چٹھہ‘ بائیوٹیکنالوجی چیئر کی قائد ڈاکٹر بشریٰ سعدیہ اور سندھ ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ سے مصطفی نانگراج نے بھی خطاب کیا۔

مزید : کامرس


loading...