پاکستان کا تعلیمی منظر نامہ ذرا نم ہو یہ مٹی تو بڑی زرخیز ہے ساقی

پاکستان کا تعلیمی منظر نامہ ذرا نم ہو یہ مٹی تو بڑی زرخیز ہے ساقی

حامد ولید

ابنِ انشاء نے جب ’’اردو کی آخری کتاب‘‘ لکھی ہوگی تو انہیں کیا معلوم ہوگا کہ اس کتاب کے شائع ہوتے ہی پاکستان سے اردو زبان کا جنازہ نکل جائے گا اور اس کی جگہ انگریزی زبان اس طرح چھا جائے گی جس طرح گھر میں پرانی اوردیسی بیوی کی موجودگی میں نئی اور بدیسی بیوی چھاجاتی ہے ۔ پاکستان کے تعلیمی نظام میں آج کئی زبانوں کی بیک وقت جنگ جاری ہے ، یوں کہئے کہ کئی تہذیبیں اور کئی ثقافتیں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں۔ ہمارے سکول،سکولوں سے جڑے نصاب، نصابوں سے جڑے اساتذہ، اساتذہ سے جڑے طالب علم ، طالب علموں سے جڑے والدین اور والدین سے جڑا سسٹم اردو، انگلش، فرنچ، فارسی ، عربی، پنجابی، سندھی، بلوچی، پٹھانی، بروہی، پوٹھوہاری اور دیگرکئی زبانوں کا میدان جنگ بنا ہوا ہے۔

سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ہمارا نظامِ تعلیم ہمیں کیا بنا رہا ہے ؟.... انگریز کہ ایشیائی، گڈمین کہ بیڈمین، طالبان کہ دہشت گرد، مولوی کہ مدرس، امام کہ خطیب، عالم کہ لیڈر، جیالا کہ متوالایا پھر تبدیلی کا دلدادہ، فوجی کہ کسان، کلرک کہ منشی....ہمارا نظام تعلیم ہمارے کلچر، ہماری تہذیب، ہماری فقہ، ہمارے فرقوں، ہماری روشن خیالی، ہماری قدامت پسندی اور ہماری خودپسندی کا ملغوبہ بنا ہوا ہے.... ہم بچوں کو نفرت سکھا رہے ہیں ،انہیں سوچنا نہیں سکھا رہے ہیں!....ہمارے نظام تعلیم نے ہمیں لکیروں میں کاٹ دیا ہے، ہم باہر کی تعلیم، اندر کی تعلیم، غیر کی تعلیم، اپنی تعلیم، مذہبی تعلیم، معاشرتی تعلیم، دیسی تعلیم اور انگریزی تعلیم کی بحث میں تقسیم ہو کر کمزور ہو گئے ہیں ۔

یہ اہم نہیں رہا ہے کہ تعلیم نے ہمیں کیا دیا ہے بلکہ اہم یہ ہے کہ ہم نے تعلیم سے کیا لیا ہے؟ اگر ڈاکٹر عبدالسلام، ڈاکٹر عبدالقدیر، مولوی عبدالحق، ممتاز مفتی اور منیر نیازی ہماری اساس ہیں تو ہمارے ہاں لاہور لٹریسی فیسٹیول میں جن رائٹروں کی تحریروں پر سر دھنے جاتے ہیں وہ انگریزی ناول کیوں لکھتے ہیں ، ہمیں اپنی تعلیم کے نتیجے میں لکھے جانے والے ادب کی تلاش ہے ، ہمیں اردو کی اس کتاب کا انتظار ہے جس سے پاکستان میں اردو زبان کا بول بالا ہو جائے ۔ ہم اپنے ادب، اپنی تعلیم کا سراڈھونڈ رہے ہیں۔ ہم ان اساتذہ کے سدھائے ہوئے ہیں جن کے ہاتھ میں چھڑی ہوتی تھی ، ہمارے بچے ان اساتذہ سے نبرد آزما ہیں جن کے لئے چھڑی شجر ممنوعہ ہے ۔ہمارے لئے استاد باپ کے مقام پر ہوتے تھے ، ہمارے بچے استادوں کے استاد دکھائی دیتے ہیں کیونکہ کوئی آکسفورڈ کا نصاب پڑھ رہا ہے تو کوئی امریکی ہائی سکول کا نصاب، ہم نے تعلیم کو روپوں پیسوں میں تولا ہوا ہے، ایک وقت تھا جب معاشرے میں کسی کے خوش حال ہونے کی علامت اس کی بڑھی ہوئی توند ہوتی تھی ، آج اسے بیماری سمجھا جاتا ہے !....آج خوش حالی کا معیار یہ ہے کہ ہمارا بچہ کس مہنگے سسٹم میں پڑھ رہا ہے ، کون سے اعلیٰ پائے کے سکول میں جا رہا ہے ، ہم مقابلے کی دوڑ میں شامل ہیں اور ہمارے بچے ہم سے بھی تیز دوڑ رہے ہیں ، پھر وہ دوڑتے دوڑتے اتنی دور نکل جاتے ہیں کہ ان کی واپسی ہمارے جنازوں پر ہی ممکن ہو پاتی ہے ، اس دوران ان کا اور ہمارا رشتہ صرف ڈالروں اور پاؤنڈوں کا رہ جاتا ہے، ہم ان کی شکل دیکھنے کو ترستے ہیں اور فون پر بتاتے ہیں کہ وہ پاکستانی معاشرے کے لئے ان فٹ ہیں کیونکہ یہاں ان کی تعلیم کے مطابق نوکری دستیاب نہیں ہے، ہمارا پرائیویٹ سیکٹر ہمارے پبلک سیکٹر کی ایجوکیشن کو کھا گیا ہے، اس میں پرفارم کرنے کی استطاعت نہیں رہی ہے ، تعلیم سرکار کی ذمہ داری تو کجا ترجیحات میں بھی نظر نہیں آتی ہے ، تبھی تو سرکاری سکول مکھی پہ مکھی مار رہے ہیں، کبھی انجینئر پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں، کبھی ڈاکٹر تو کبھی اکاؤنٹینٹ۔۔۔اور کلرکوں کی تو فوج ظفر موج پیدا کی ہوئی ہے !

ایک وقت تھا جب نظر یہ پاکستان اور قرارداد مقاصد ہماری تعلیم کی اساس سمجھے جاتے تھے ، پھر تعلیم کا گھوڑا اس قدر سرپٹ بھاگا کہ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا، ہمارے سامنے کی بات ہے کہ یہ گھوڑا ہر چراگاہ سے چارہ کھا آیا ہے اور خوب تنومند نظر آرہا ہے ، اتنا تنومند کہ ہمارے قابو سے باہر ہے ، ہم اس پر سواری نہیں کر سکتے بلکہ یہ ہم پر سوار ہے ، ہم اس گھوڑے پر چڑھنا اور اترنا بھول چکے ہیں، علامہ اقبال کی جوانوں کو پیروں کا استاد کر کی دعا قبول ہو گئی.....؟

ایک وقت وہ بھی تھا جب نوجوان شہر سے تعلیم حاصل کرکے گاؤں واپس جاتے اور انگریزی بولتے تو ماں باپ، عزیز رشتہ دار اور محلے دار صدقے واری جاتے تھے ، اب پریشان ہو جاتے ہیں ، خاص طور پر جب بچیاں فر فر انگریزی مارتی ہیں تو ماں باپ کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں کیونکہ پھر وہ سوچتی بھی انگریزی میں ہیں اور ساری زندگی ایڈجسٹ نہیں ہو پاتی ہیں، جہاں تک لڑکوں کا تعلق ہے تو وہ تو داڑھی مونچھ پھوٹتے ہی امریکہ بھاگنے کی کرتے ہیں اور واپس آتے ہیں تو پاکستانی ماں باپ کے امریکی بچے بنے پھرتے ہیں اور پاکستان کی گلی گلی میں امریکہ ڈھونڈتے پھرتے ہیں، ہمارے نظام تعلیم نے پینترا بدل لیا ہے ، ماحول بدل دیا ہے ، بقول ناصر بشیر

منظر بدل گئے ، پس منظر بدل گئے

حالات میرے شہر کے یکسر بدل گئے

اس بدلے ہوئے منظر نامے میں ہماری کتابیں، ہمارے رسالے، ہمارے ڈائجسٹ اور ہمارے اخباراغیر متعلقہ ہو گئے ہیں، بے معنی ہو گئے ہیں ، ہم انگریزی لکھنے کو لکھنا مانتے ہیں حالانکہ لکھنے سے مراد اپنی سوچ کو ترتیب سے صفحے پر اتارنا ہوتا ہے ، زبان کوئی بھی ہو...پھر بھی ہماری ادبی کانفرنسوں میں انگریزی رائٹرز کی آؤ بھگت ہوتی ہے ، اردو کو وہ پذیرائی نہیں ملتی جو اس کا استحقاق ہونا چاہئے، ہم نے اتنی انگریزی پڑھی کہ ہم اردو لکھنا بھول گئے ، ہماری زبان اردو ہے نہ انگریزی، پنجابی نہ سندھی، ہم مکسڈ بریڈ بن چکے ہیں ، ہمارے اندر ہر زبان کا خون شامل ہو گیا ہے ، جس طرح اردو کو لشکر کی زبان جانا اور مانا جاتاہے اسی طرح ہماری نوجوان نسل بھی لشکری نسل بن گئی ہے ، ہم پنجابی بھی ہیں سندھی بھی ، بلوچی بھی ہیں پٹھان بھی، پاکستانی بھی ہیں امریکی بھی، یورپی بھی ہیں اور اب تو چینی بھی بنتے جا رہے ہیں، یہ سارے کمالات ہمارے نظام تعلیم کے ہیں، ہم نے اس نظام کے ساتھ کھلواڑ کھیلا تھا، اس نے ہم سے ہماری شناخت چھین لی، ہماری اساس چھین لی، ہم سے ہم کو چھین لیا!

وائے ناکامی ! متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

لیکن اس حقیقت سے بھی کسے انکار ہو سکتا ہے کہ آج دنیا ایک گلوبل ویلج میں تبدیل ہو گئی ہے ، ساری دنیا کے لوگ ایک دوسرے اس طرح جڑ گئے ہیں کہ جیسے کبھی جدا تھے ہی نہیں ، ہمارے ساتھ ہی نہیں باقی اقوام کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے ، ایک نیا گلوبل کلچر، ایک نیا سسٹم، ایک نیو ورلڈ آرڈر ہمارے سامنے ایک بہت بڑی حقیقت بن کر کھڑا ہے، ساری دنیا سکڑ کر انٹرنیٹ میں گھس گئی ہے ، کسی شے، کسی کلچر، کسی تہذیب کو اس نے مخفی نہیں رہنے دیا، اب ہم پاکستان میں رہتے ہوئے بھی دنیا میں رہتے ہیں ، ہمیں سب کچھ سیکھنا ہے ، مسابقت اور مقابلے کی دوڑ میں شامل ہوئے رہنے کے لئے ، دوسروں کے برابر کھڑا ہونے کے لئے ، اب لباس تہذیب کی علامت نہیں رہے ہیں ، صرف ضرورت رہ گئے ہیں ، بین ا لاقوامی ضرورت اب مقامی ضرورت میں ضم ہو گئی ہے ، ہم دوسروں کو نقل تب کرتے ہیں جب ہم دوسروں کو دیکھتے ہیں ، اب وہ وقت گیا کہ جب سفر ہی وسیلہٗ ظفر تھا، نئی روایات، نئی رسموں اور نئے رواجوں کے دروازے کھلتے تھے ، اب آپ گھر بیٹھ کر دنیا بھر کا مشاہدہ کر سکتے ہیں، اب کر کسی کے ہاتھ میں انگشت سلیمانی ہے ، موبائل فون کی صورت، آئی پیڈ کی صورت اور کمپیوٹر کی صورت !....ہر کوئی ہر سمت دیکھ رہا ہے ، یہ تعلیم سے بڑھ کر ہے ، تعلیم سے آگے کی بات ہے ، گلوبل ایجوکیشن جاننے کی ایجوکیشن ہے، استفادے کی ایجوکیشن ہے ، اب ہمیں عالمی تناظر میں سوچنے کی عادت ڈالنا ہے!....ایک وقت تھا جب یونیورسٹیوں میں لڑکے لڑکیاں کنٹین پر ملا کرتے تھے ، اب وہاں نہیں ملتے ، اب وہ فیس بک پر ملتے ہیں اور جیون ساتھی بن جاتے ہیں!

1947سے لے کر آج تک وطن عزیز میں لگ بھگ22کے قریب تعلیمی پالیسیوں اور منصوبوں کا اجراء ہو چکا ہے ۔ اسی طرح 1973کے آئین کا آرٹیکل 37بی لازمی قرار دیتا ہے کہ ریاست پاکستان ممکنہ حد تک کم ترین مدت میں ناخواندگی کے خاتمے اور مفت سیکنڈری ایجوکیشن کو یقینی طور پر لازمی بنائے گی۔ 1947کے آخر میں پاکستان کی پہلی قومی تعلمی کانفرنس منعقد کی گئی تھی جس میں بہت سے سفارشات کو حتمی شکل دی گئی تھی مگر وہ سفارشات کاغذات کی حد تک محدود رہیں۔ پھر 1959میں قومی تعلیمی کمیشن تشکیل دیا گیا جس نے طے کیا کہ 1969تک ملک میں پرائمری تعلیم اور 1974تک مڈل تعلیم ہر فرد کے لئے یقینی بنائی جائے گی۔1969میں بنائی جانے والی نئی قومی تعلیمی پالیسی تعلیم بالغاں پر زور دیاجبکہ 1972میں بنائی جانے والی تعلیمی پالیسی میں یونیورسل پرائمری ایجوکیشن کا تصور دیا گیا جس کے مطابق تمام لڑکوں کو 1979تک اور تمام لڑکیوں کے لئے 1984تک پرائمری ایجوکیشن لازمی قرار دینا تھاجبکہ اگلے تین سالوں میں اسے مڈل لیول تک لے جانے کا عزم کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 1970کی ایجوکیشن پالیسی میں سائنٹیفک، ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کی طرف فوکس کیا گیا۔ اس میں سائنس اور ہیومینٹیز کے سبجیکٹ میں ففٹی 50کے تناسب کی بات کی گئی تھی۔1979کی ایجوکیشن پالیسی میں مسجد سکولز اور محلہ سکولز کا تصور دیا گیا۔اس کے بعد تعلیم کے میدان میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی اور 1992کی ایجوکیشن پالیسی میں تعلیم کو پرائیویٹائز کرنے اور پرائیویٹ سیکٹر کو ترغیب دی گئی کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کرے۔حکومت کی طرف سے البتہ اس شعبے میں خاطر خواہ فنڈ مختص نہ کئے گئے اور یوں پاکستان میں تعلیم کا شعبہ ایک بزنس کی شکل اختیار کر گیا اور گلی گلی میں کوٹھیوں چوباروں میں تعلیمی ادارے کھل گئے جہاں فیسیں تو بٹوری جاتی ہیں مگر تعلیم کا نشان تک نہیں ملتا۔

تعلیم کے میدان میں تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ ملک بھر میں اس 260,903تعلیمی ادارے سرگرم عمل ہیں جہاں 41,018,384 طلباء و طالبات کو تعلیم دینے کے لئے 1,535,461اساتذہ فرائض منصبی سرانجام دے رہے ہیں۔ان تعلیمی اداروں میں 180,846 ادارے پبلک سیکٹر جبکہ 80,057ادارے پرائیویٹ سیکٹر میں کام کر رہے ہیں، دوسرے لفظوں میں 69فیصد ادارے پبلک سیکٹر جبکہ 31فیصد ادارے پرائیویٹ سیکٹر میں مصروف عمل ہیں۔ حکومت کے وژن2030کے مطابق طلباء میں سوچنے کی صلاحیت کو اجاگر کرنے کی طرف خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس وژن کے تحت ایک نصاب اور ایک امتحانی نظام کو یقینی بنایا جائے گا۔تعلیمی اداروں اداروں اور فنی تربیت کے اداروں پر سرکاری اخراجات کو 2010تک جی ڈی پی کا 2.7فیصد جبکہ 2015تک 7فیصد خرچ کرنے کا منصوبہ تھا۔ فنی تربیت کے اداروں کو سیکنڈری لیول کی سطح پر بڑھانے کا پروگرام بھی ہے ۔ علم کے ساتھ ساتھ مہارت، ہنر ، رویوں اور اقدار کی سالمیت کو بھی اس وژن کا حصہ بنایا گیا ہے ۔

حکومت کی جانب سے اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا وژن کیا گل کھلائے گا ، اس کا اندازہ تو آنے والے وقت میں ہی ہو گا۔ البتہ ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ تعلیم اب صرف حکومت کی نہیں بلکہ عوام کی بھی اولین ترجیح بن چکی ہے ۔ تعلیم برائے نوکری، اچھی زندگی، معیاری بودوباش اور آگے بڑھنے کے ایک ذریعے کے طور پر حاصل کی جا رہی ہے ۔ خاص طور پر بڑے شہروں میں تعلیم کے بل بوتے پر نوجوان نسل نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اپنی ذہنی استعداد اور صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہے ۔ البتہ ہمارے دیہی اور نواحی علاقوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر کی پالیسی کو حکومت نے اپنے وژن کا بنیادی جزوبنایا ہے جس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آرہے ہیں۔ ایک ہنرمند نسل ہی ملک و قوم کی ترقی کو تیزی سے منزل مراد پر لے جا سکتی ہے ۔ پاکستان کے اندر پاک چین اکنامک کاریڈور کے تحت 46ارب ڈالر کی خطیر چینی سرمایہ کاری اور مشرق کو مغرب سے ملانے کے عمل سے امید کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں ترقی کا عمل تیز تر ہو جائے ۔ نوجوان پاکستان کی کل آبادی کا 60فیصد ہیں جس کا مطلب ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان کی طاقت ، سوجھ بوجھ اور ترقی کرنے کی خواہش وطن عزیز کو تیز رفتار ترقی سے ہمکنا ر کرسکتی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کو ایک وژنری ، دوررس نتائج پر نظر رکھنے والی اور قومی اقدار کی پاسداری کرنے والی لیڈر شپ میسر رہے ۔ اگر یہ عناصر باہم میسر رہے تو وہ وقت دور نہیں کہ پاکستان دنیا کے نقشے پر تیزی سے ترقی کرنے والے ملک کے طور پر ابھرے گا، کیونکہ

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!

مزید : ایڈیشن 2